متحدہ عرب امارات اور اسرائیل معاہدہ: پاکستانی دفتر خارجہ کا کھل کر مخالفت سے گریز

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے پر پاکستان کا مؤقف سامنے آیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے دیا گیا یہ موقف کافی نپا تلا ہے اور اس میں پاکستان کی بظاہر سخت خارجہ و داخلی اسرائیل پالیسی کے برعکس اس معاہدے پر نہ تو کھل کر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی واضح مخالفت کی گئی ہے۔ 

 

دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان معاہدے کے دور رس مضمرات ہوں گے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق میں ان کی خود مختاری کا حق شامل ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام پاکستان کی اہم ترجیح ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان نے انصاف پر مبنی جامع اور پائیدار امن کے لیے ہمیشہ دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے، دو ریاستی حل اقوام متحدہ، او آئی سی قراردادوں اورعالمی قوانین کے مطابق ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ہماری اپروچ اس بنیاد پرہوگی کہ فلسطینیوں کے حقوق اورخواہشات کوکیسے برقرار رکھا جاتا ہے، پاکستان جائزہ لےگا کہ خطے کے امن اور سیکیورٹی اور استحکام کو کیسے برقرار رکھا جاتا ہے۔

اس حوالے سے اہم یہ ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ ہفتے کشمیر پر غیر جانبداری کی سعودی پالیسی اور او آئی سی کی خاموشی پر سخت تنقید کی تھی جس کے فوری بعد سعودی عرب نے  پاکستان پر دباؤ ڈال کر ایک ارب ڈالر واپس لے لیئے اور ادھار تیل کی سہولت بھی واپس لے لی۔  جس کے بعد اب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کل سعودی عرب جائیں گے جن کے بارے میں میڈیا رپورٹس ہیں کہ وہ صورتحال کو معمول پر لانے کا کام کریں گے۔