بکھرے ہوئے بال۔۔۔ نکلتا ہوا قد۔۔۔ تیزگام اور اپنی دھن میں مگن۔ ظاہر و باطن میں یکساں۔۔۔ وہ دوست نواز ہے اور اس کی باتوں سے اکثر شگوفے پھوٹتے ہیں۔ نظریے اور مسلک کو اپنی اول شناخت قرار دینا اس کا احساسِ تفاخر ہے۔۔۔ ایک باہمت صحافی، جس کا مشاہدہ اس کے مطالعے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس نے ہمیشہ خود کو متحرک رکھا ہے اور خود کو جامد نہیں ہونے دیا۔۔۔ اپنی بے باک رپورٹنگ کے باوصف وہ اکثر گولی کا نشانہ رہا، لیکن اس کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ اس کا کہنا ہے کہ: ’’ہمت رکھنے والے راستے بدل سکتے ہیں، خواب نہیں، کیونکہ منزل انہی کو ملتی ہے جو حالات سے نہیں، اپنے ارادوں سے پہچانے جاتے ہیں۔۔۔‘‘
ان کے والد سید محمد ثقلین جعفری ایڈووکیٹ ہائی کورٹ و سپریم کورٹ تھے، جبکہ دادا سید غلام عباس جعفری تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن اور علی گڑھ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔۔۔ مجاہد جعفری نے ابتدائی تعلیم سنٹرل ماڈل سکول سمن آباد سے حاصل کی۔۔۔ ایم اے او کالج سے جرنلزم اور اکنامکس کے ساتھ گریجویشن کی۔۔۔ دورانِ تعلیم پہلا مضمون ایک مقامی جریدے ’’درپن‘‘ میں شائع ہوا۔ تعلیم کے دوران اور بعد ازاں بے حد آوارہ گردی کی، چنانچہ والدِ محترم نے روزنامہ مشرق کے ایڈیٹر کے پاس بھیجا، جو ان کے دوست تھے۔ 1991ء میں پہلی ملازمت بلا معاوضہ کی۔۔۔ وہ روزانہ اپنی والدہ سے پچاس روپے لے کر جایا کرتے تھے۔ 1992ء میں روزنامہ خبریں کا آغاز ہوا تو معروف ادیب و کالم نگار عطا الحق قاسمی، جو ان کے والد کے دوست تھے، ان کی سفارش پر روزنامہ خبریں کے مدیر ضیا شاہد سے ملے۔۔۔ اخبار کی ڈمی تیار ہو رہی تھی۔۔۔ اس اخبار کے پہلے کرائم رپورٹر مجاہد جعفری تھے۔ روزنامہ خبریں میں ایک سال تک کام کیا۔ ایک دفعہ اخبار میں ان کی بائی لائن سے ایک خبر شائع ہوئی کہ ’’جسٹس جاوید اقبال کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘‘ جسٹس جاوید نے ضیا شاہد کو فون کیا کہ یہ خبر غلط ہے۔ بعد ازاں پتا چلا کہ وہ سردار اقبال کا بیٹا تھا۔۔۔ اس واقعے سے یہ سیکھا کہ عجلت میں دی گئی خبر بسا اوقات ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ خبریں سے قبل روزنامہ پاکستان میں کام کیا۔۔۔ اس کے بعد ایک اور نئے جاری ہونے والے اخبار روزنامہ دن کو جوائن کیا۔
2000ء میں جنگ گروپ نے اپنے چینل جیو نیوز کا آغاز کیا تو اس کے پہلے کرائم رپورٹر مجاہد جعفری تھے۔ اسد ساہی مرحوم ان کے ساتھ تھے۔ 2006ء میں جیو نیوز نے ایک الگ شعبہ جیو انویسٹی گیشن قائم کیا تو اس کے انچارج بھی مجاہد جعفری تھے۔
جیو نیوز کے لیے اپنی پہلی ڈاکیومنٹری خودکش حملہ آوروں کے بارے میں تیار کرکے نشر کی۔ اس تحقیقی ڈاکیومنٹری کے لیے مہمند ایجنسی، باجوڑ ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں اپنی ٹیم کے ارکان کے ساتھ حلیے بدل کر قیام کیا۔ جس دن یہ ڈاکیومنٹری جیو نیوز پر دکھائی گئی، مشرف حکومت نے جیو نیوز پر پابندی عائد کر دی۔ اس سے قبل جیو نیوز کو ایک نوٹس موصول ہوا تھا۔ جنگ گروپ کے مدارالمہام میر شکیل الرحمٰن کے فرزند میر ابراہیم نے مجاہد جعفری سے کہا کہ ’’چھکا لگنا چاہیے۔‘‘ جب یہ ڈاکیومنٹری نشر ہوئی تو مجاہد جعفری نے میر ابراہیم سے پوچھا، ’’کیا چھکا ٹھیک لگا ہے؟‘‘ تو اس نے جواب دیا، ’’اسٹیڈیم سے باہر گیا ہے۔‘‘
1997ء میں اسامہ بن لادن کے نمبر دو شخص ابو زبیدہ، جو القاعدہ کا بڑا دہشت گرد تھا، کے بارے میں ایک خبر بریک کی۔ اس خبر نے بھی تہلکہ مچا دیا۔ موجودہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، جو انٹرنیشنل نیوز ایجنسی سی این این کے لیے کام کرتے تھے، انہوں نے مجاہد جعفری کی اسی خبر کو اپنے حوالے سے جاری کرکے بیسٹ اسٹوری کا ایک اعزاز حاصل کیا، جبکہ مجاہد جعفری کا اعزاز یہ تھا کہ میر شکیل الرحمٰن نے انہیں اپنے دستخط کے ساتھ ایک توصیفی خط دیا تھا۔
پولیو ورکرز پر جہاں جہاں حملے ہوئے، ان کے بارے میں تمام جزئیات کے ساتھ تحقیقی رپورٹ تیار کی۔ وہ حلیہ بدل کر سوات پہنچا اور تحریکِ نفاذِ شریعت کے امیر صوفی محمد کی امامت میں نماز ادا کی۔
100 سے زائد تحقیقی رپورٹس میں دہری شہریت کے حامل پارلیمنٹرین، پاکستان کے گھوسٹ سکول، کم سن بچوں کے ساتھ زیادتی جیسی چونکا دینے والی رپورٹس پہلی بار مجاہد جعفری کے توسط سے منظرِ عام پر آئیں۔ 10 اکتوبر 2009ء کو جی ایچ کیو پر حملہ ہوا تو اس بارے میں مجاہد جعفری نے ایک رپورٹ تیار کی۔۔۔ دو دن تک جیو نیوز پر اس کا پرومو چلتا رہا، لیکن یہ رپورٹ چیف آف آرمی اسٹاف نے رکوا دی تھی۔ نامعلوم افراد کے قبرستان پر مجاہد جعفری کی ایک تحقیقی رپورٹ پر پیپلز پارٹی کی ایک نامور رہنما ساجدہ میر جیو کے دفتر آئیں اور مجاہد جعفری سے کہا: ’’تمہاری یہ رپورٹ میرے دل میں سوراخ کر گئی ہے۔‘‘
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے تیسرے دن وہ نوڈیرو پہنچا اور محترمہ کے قتل پر اپنی تحقیقی رپورٹ کی تیاری کا آغاز کیا۔ شعیب بھٹہ، جو آصف زرداری کا قریبی دوست تھا، سندھ کے ایک معروف اخبار عبرت میں کام کرتا تھا۔ اسی کے توسط سے آصف زرداری سے ملاقات طے ہوئی، لیکن مجاہد جعفری کو تاخیر ہو گئی اور یہ ملاقات مقررہ وقت پر نہ ہو سکی۔ اگلے روز وہ آصف زرداری سے تعزیت کرنے والوں میں شامل ہو گیا، اور جب اس کی باری آئی تو اس نے ایک ہی سوال آصف علی زرداری سے پوچھا: ’’محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے جسم پر زخموں کے کتنے نشان تھے؟‘‘ آصف علی زرداری نے اس سوال کا جواب نہ دیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ’’میرے دل میں درد ہو رہا ہے۔‘‘ ایک تحقیقی رپورٹر کی جستجو ختم نہیں ہوئی۔۔۔ مجاہد جعفری بے نظیر کی تدفین سے قبل غسل دینے والی خاتون کے گھر چلا گیا اور اس سے یہی سوال پوچھا تو اس عورت نے کہا کہ جسم پر کوئی زخم نہیں تھے، صرف سر پر گولی لگنے کا زخم تھا۔۔۔ وہ ایک فرانزک ایکسپرٹ، پروفیسر نصیب اعوان، کے پاس شریف میڈیکل کمپلیکس گیا اور اس کے سامنے تمام متعلقہ دستاویزات رکھیں، جن کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نے کہا کہ بے نظیر بھٹو سر پر گولی لگنے کے بعد ہی شہید ہوئی تھیں۔