"اوہ! آپ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں؟ واقعی؟ آپ انگریزی اور اردو میں صحت پر تو نہیں لکھتیں، یا کم ہی لکھتی ہیں؟"
یہ سوال کبھی طنز، کبھی طعنہ، کبھی تعجب، کبھی رشک، کبھی حسد اور کبھی بے یقینی بن کر میری پیشہ ورانہ زندگی کا مستقل ساتھی رہا ہے۔
ادیبوں کی محفلوں میں، جن میں شاذ و نادر ہی شرکت کی، کبھی اپنے بارے میں سنا: "ایم بی بی ایس ہے۔" اور کبھی کسی طبی کانفرنس میں نامور کنسلٹنٹس کو کہتے پایا: "وہ ڈاکٹر کہاں رہی؟ وہ تو ٹی وی والی ہے!"
آخر نوّے کی دہائی میں پاکستان میں پبلک ہیلتھ اور سوشل مارکیٹنگ کا تصور ہی نیا تھا۔
جب ٹیلی وژن کیا، تب بھی دلچسپ صورتِ حال ہوتی تھی۔ "گائنی کے علاوہ لیڈی ڈاکٹر کس کام کی؟" یہ جملہ بھی سننے کو ملا۔ کبھی کسی ٹیلی وژن پروگرام کے بعد، اور کبھی کسی ناظر کے خط یا لائیو کال میں، یہی حیرت جھلکتی تھی کہ طب اور ادب کا آپس میں کیا تعلق؟
اُس زمانے میں صرف پاکستان ٹیلی وژن تھا، اور وہاں بھی اگر کوئی خاتون نسبتاً سنجیدہ پروگرام کرتی، تو اسے اکثر شکوک، تنقید اور غیر ضروری سوالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ افسوس یہ ہے کہ اس ذہنیت کے بعض مظاہر، شکلیں بدل کر سہی، آج بھی ہمارے معاشرے اور میڈیا میں موجود ہیں۔
کئی مرتبہ لوگوں نے پوچھا: "کیا آپ کا کلینک نہیں چلتا، جو آپ یہ سب کر رہی ہیں؟"
میں نے آج سے تقریباً تیس برس پہلے بھی سوچا تھا کہ میڈیکل ڈاکٹر تو سول سروس، اداکاری، فلم سازی، اینکرنگ، صحافت اور ادب سمیت ہر میدان میں موجود ہیں، پھر صرف لکھنے پر ہی اتنا تعجب کیوں؟
وقت بدلا، ٹیکنالوجی نے اظہار کے بے شمار دروازے کھول دیے، اور آج سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کر دیا ہے۔ مگر اظہار کے ذرائع بدل جانے سے ذہنیت ہمیشہ نہیں بدلتی۔ بعض تعصبات آج بھی زندہ ہیں، صرف ان کے اظہار کے انداز بدل گئے ہیں۔
اب، جبکہ زندگی نے مجھے کچھ فرصت بھی عطا کی ہے، تو خیال آیا کہ اپنے حافظے میں محفوظ اس ذہنی نقشے کو، انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے ساتھ ملا کر قارئین کے سامنے رکھوں۔
یہاں اس نقشے کا صرف وہ حصہ پیشِ خدمت ہے، جو ان چند سفید کوٹ والوں اور والیوں سے متعلق ہے جن کا قلم سے رشتہ بھی اتنا ہی گہرا ہے، یا رہا ہے، جتنا سٹیتھو سکوپ سے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ طب جیسی کٹھن تعلیم شاعری، افسانہ نگاری، ناول، تنقید، تحقیق یا ترجمے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی، بلکہ شاید اسے مزید گہرائی عطا کرتی ہے۔ ورنہ ہم جیسوں نے ادب کے کئی باقاعدہ طالب علموں، جن میں طالبات بھی شامل ہیں، کو اردو شاعری اور نثر کی ٹانگ توڑتے بھی دیکھا ہے اور گلابی انگریزی کے رنگ بکھیرتے بھی!
میں بھی کسی اجنبی راستے کی مسافر نہیں ہوں، بلکہ ایک ایسی روایت کا حصہ ہوں جس کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں۔ یہ روایت صرف پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ دنیا کی ہر بڑی ادبی تہذیب میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔
اردو کی کلاسیکی روایت میں، اگر اس سلسلے کا سراغ تلاش کیا جائے، تو ایک روشن نام حکیم مومن خان مومن کا سامنے آتا ہے۔ مومن صرف اردو غزل کے ایک بلند پایہ شاعر ہی نہ تھے، بلکہ طبِ یونانی کے ماہر حکیم بھی تھے۔ ان کے والد اور دادا شاہی طبیب تھے، اور خود مومن نے عربی، فارسی، ریاضی، نجوم اور طب میں گہری دسترس حاصل کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں جذبے کی لطافت کے ساتھ انسانی نفسیات کی ایک غیر معمولی بصیرت بھی دکھائی دیتی ہے۔
ان کا شہرۂ آفاق شعر نہ صرف سہلِ ممتنع کا شاہکار ہے، بلکہ آج بھی محبت کی زبان کا استعارہ ہے:
؎ تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
؎ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
یہ صرف عاشق کا شعر نہیں، بلکہ انسانی قرب، تنہائی اور نفسیاتی وابستگی کا ایسا اظہار ہے، جسے ایک حساس معالج بھی پوری طرح محسوس کر سکتا ہے۔
برصغیر سے باہر نگاہ دوڑائیں، تو انگریزی ادب کا محبوب شاعر جان کیٹس سامنے آتا ہے۔ کیٹس نے اپوتھیکری سرجن کی تربیت حاصل کی تھی۔ اگرچہ انہوں نے عملی طب کو جلد خیر باد کہہ دیا، لیکن انسانی جسم، درد اور فنا کا جو مشاہدہ انہیں طبی تعلیم کے دوران حاصل ہوا، اس کی بازگشت ان کی شاعری میں بار بار سنائی دیتی ہے۔
اسی طرح آرتھر کونن ڈائل نے ایڈنبرا یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی اور چشم کے معالج کی حیثیت سے مطب قائم کیا۔ مگر مریض کم آئے، وقت زیادہ ملا، اور انہی خاموش ساعتوں میں شرلاک ہومز جیسا لازوال کردار تخلیق ہوا۔
روس کے چیخوف نے ساری زندگی طب اور ادب کو ساتھ ساتھ نبھایا، جبکہ امریکہ کے ولیم کارلوس ولیمز دن بھر مریض دیکھتے اور رات کو جدید امریکی شاعری کی بنیادوں میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ ہمارے عہد میں ابراہم ورگیز نے طب، ہجرت، تاریخ اور ناول کو اس طرح یکجا کیا کہ دنیا بھر میں لاکھوں قارئین نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔
اگر ادب کو سماجی مزاحمت کی زبان سمجھا جائے، تو میری پسندیدہ فیمنسٹ معالج ادیباؤں میں مصر کی ڈاکٹر نوال السعداوی اور برصغیر کی ڈاکٹر رشید جہاں کا ذکر ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر نوال السعداوی نے قاہرہ یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی، مگر جلد ہی محسوس کیا کہ عورت کے جسم کے زخموں سے کہیں زیادہ گہرے زخم اس کے معاشرے نے اس کی روح پر لگائے ہیں۔ ان کی کتاب Memoirs of a Woman Doctor صرف ایک ڈاکٹر کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی عورت کی فکری بیداری کا سفر ہے جو علاج کرتے کرتے ہی اپنے معاشرے کی بیماریوں کو بھی پہچان لیتی ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر رشید جہاں صرف ایک معالج نہیں تھیں؛ وہ ایک عہد کی آواز تھیں۔ 1932ء میں شائع ہونے والی تاریخ ساز کتاب انگارے، جسے چار نوجوان لکھاریوں نے مشترکہ طور پر تحریر کیا، میں ان کی تحریروں نے عورت، مذہبی منافقت، سماجی جبر اور پدر شاہی کے خلاف ایسے سوالات اٹھائے جنہوں نے پورے برصغیر کے ادبی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا۔ بعد میں ترقی پسند تحریک نے انہی سوالات کو ایک بڑے فکری دھارے میں تبدیل کیا۔ ڈاکٹر رشید جہاں نے مریض عورتوں کے جسموں پر صرف بیماری نہیں دیکھی، بلکہ معاشرے کے لگائے ہوئے زخم بھی دیکھے، اور انہی زخموں کو اپنی کہانیوں اور ڈراموں میں لفظ عطا کیے۔
ان تمام مثالوں کو دیکھ کر ایک سوال جنم لیتا ہے: کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اتنے زیادہ معالج ادب کی طرف مائل ہوئے؟
میرے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے۔
شاید مسئلہ یہ نہیں کہ ڈاکٹر ادب کیوں لکھتے ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ بہترین ڈاکٹر اکثر ایک ہی وقت میں کئی زندگیاں جیتے ہیں۔ وہ معالج بھی ہوتے ہیں، قاری بھی، شاعر بھی، مترجم بھی، فلسفی بھی، محقق بھی، موسیقی کے دلدادہ بھی، اور کبھی کبھی سماجی کارکن بھی۔ ان کے لیے علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
آج کا پاکستان بھی اس روایت سے محروم نہیں، بلکہ ہماری ادبی تاریخ اس روایت سے مالا مال ہے۔ حیرت صرف اس بات پر ہے کہ ہمارے معالج اہلِ قلم پر اجتماعی طور پر کبھی سنجیدہ یا باقاعدہ کام نہیں ہوا، البتہ بے قاعدہ کوششیں ضرور ہوتی رہی ہیں—اور شاید میرا یہ مضمون بھی اسی قبیلے میں شامل ہو۔
حالانکہ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، ڈاکٹر آصف فرخی، ڈاکٹر یونس بٹ، ڈاکٹر خالد سہیل، ڈاکٹر ڈینس آئزک، ڈاکٹر ثروت زہرا، ڈاکٹر پشپا ولبھ، ڈاکٹر عذرا رضا اور متعدد دیگر اہلِ قلم نے اردو اور پاکستانی ادب کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا ہے۔
شاید ہمیں خود بھی اندازہ نہیں کہ ہماری ادبی تاریخ میں کتنے معالجوں نے اپنے قلم سے ایسے چراغ روشن کیے، جن کی روشنی آج بھی برقرار ہے۔
ان میں سے کئی میرے لیے صرف کتابوں کے نام نہیں، بلکہ زندگی کے کردار ہیں۔
کسی سے طالب علمی کے زمانے میں ملاقات ہوئی، کسی کے ساتھ ٹیلی وژن پروگرام کیے، کسی سے ادبی نشستوں میں گفتگو رہی، اور کسی کے ساتھ کلینیکل میڈیسن اور پبلک ہیلتھ کی راہداریوں میں چلنے کا اتفاق ہوا۔
یہ مضمون انہی ملاقاتوں، انہی یادوں اور انہی لفظوں کی ایک جھلک ہے۔
پاکستان کے معالج اہلِ قلم
پاکستان میں معالج اہلِ قلم کی روایت کئی سمتوں میں پروان چڑھی۔ بعض نے شاعری کو اظہار کا وسیلہ بنایا، بعض نے افسانہ اور ناول کو، بعض نے طنز و مزاح کو، اور بعض نے تحقیق، ترجمے اور تنقید کے ذریعے اردو ادب کو نئی وسعت عطا کی۔ ان سب میں ایک قدرِ مشترک تھی اور ہے: انسان کو محض مریض نہیں، بلکہ ایک مکمل وجود کے طور پر دیکھنے کی صلاحیت۔
مرحوم ڈاکٹر آصف اسلم فرخی اس روایت کے نہایت اہم ستون تھے۔ ممتاز ادیب ڈاکٹر اسلم فرخی کے فرزند ہونے کے باوجود، انہوں نے اپنی شناخت خاندانی نسبت سے نہیں، بلکہ اپنے غیر معمولی علمی قد سے قائم کی۔ طب، صحتِ عامہ، افسانہ، تنقید، ترجمہ، ادبی صحافت، عالمی ادب اور بین الاقوامی ادبی میلوں کے انعقاد—شاید ہی کوئی ایسا میدان ہو جہاں ان کی بصیرت کا اثر نہ دکھائی دیتا ہو۔
وہ ابّو جان کو خطوط لکھا کرتے تھے، اور ابّو اکثر کہا کرتے تھے: "یہ لڑکا جن ہے، سب کچھ پڑھ چکا ہے!"
ایک ڈاکٹر کا اس قدر وسیع المطالعہ ہونا میرے لیے ایک نئی دریافت تھی۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ میں نے ان کی تقلید کی، لیکن یہ ضرور مانتی ہوں کہ انہوں نے میرے ذہن میں یہ امکان پیدا کیا کہ ایک معالج کا دائرۂ کار ہسپتال کی چار دیواری سے کہیں آگے تک پھیل سکتا ہے۔
آج جب اپنی زندگی پر نظر ڈالتی ہوں، تو محسوس ہوتا ہے کہ شعوری یا لاشعوری طور پر میں بھی اسی سمت چل نکلی، اگرچہ میری منزلوں کی نوعیت مختلف رہی۔ شاید ایک فرق یہ بھی تھا کہ ایک عورت کی زندگی میں تخلیقی سفر کے ساتھ کئی اور محاذ بھی ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔
ڈاکٹر انور سجاد کا ذکر کیے بغیر معالج اہلِ قلم کی یہ داستان ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر انور سجاد صرف ایک معالج ہی نہیں تھے، بلکہ ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نویس، اداکار، ہدایت کار، مصور، کالم نگار، وائس اوور آرٹسٹ، ماہر رقاص اور استاد بھی تھے۔ شاید ہی پاکستان میں کسی ایک شخصیت نے اتنے مختلف تخلیقی میدانوں میں اپنی ایسی منفرد شناخت قائم کی ہو۔
پکنک، رات کا پچھلا پہر، کوئل اور یہ زمین میری ہے جیسے ڈرامے آج بھی پاکستان ٹیلی وژن کے سنہری دور کی یاد دلاتے ہیں۔
زندگی کے آخری برسوں میں انہیں بعض کٹھن حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا، جو ہمارے معاشرے کے اپنے اہلِ فن سے رویّے پر بھی ایک سوالیہ نشان ہیں۔
مجھے یاد ہے، نوّے کی دہائی کے اواخر میں کراچی ایئرپورٹ پر ان سے مختصر سی ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے چہرے کی مسکراہٹ، شفقت اور بے تکلفی آج بھی حافظے میں اسی طرح محفوظ ہے۔
آنجہانی ڈاکٹر ڈینس آئزک نے طب اور ڈرامے کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی ایک منفرد مثال قائم کی۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے اس معالج نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے ایسے یادگار ڈرامے تخلیق کیے جن میں انسانی نفسیات اور سماجی رویّوں کا گہرا مشاہدہ جھلکتا ہے۔ بعد ازاں کینیڈا میں قیام کے باوجود ان کا رشتہ اردو زبان سے کبھی منقطع نہ ہوا۔ مجھے خوش قسمتی سے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ وہ میرے پی ٹی وی کے ایوارڈ یافتہ پروگرام "جینڈر واچ" کے سن 2000ء میں نشر ہونے والے خصوصی پروگرام "صنف اور ایڈز" میں شریک ہوئے تھے۔ ایک معالج، ایک ڈرامہ نگار اور ایک حساس انسان—یہ تینوں شخصیات ان کے اندر بیک وقت موجود تھیں۔
کینیڈا ہی میں مقیم خیبر میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل ڈاکٹر خالد سہیل نے نفسیات، فلسفے، ادب اور مکالمے کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی تحریروں میں انسان کسی بیماری کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل کائنات ہے۔ حال ہی میں ان کی اور عنبرین عجائب کی مشترکہ انگریزی کتاب میرے مطالعے میں آئی۔ اس کے بعد فیس بُک پر ان سے رابطہ بھی ہوا۔ کبھی کبھی سوشل میڈیا بھی ایسے لوگوں تک پہنچا دیتا ہے جن سے برسوں پہلے صرف کتابوں کے ذریعے شناسائی ہوتی تھی۔
اسی روایت میں ڈاکٹر عاکف اللہ گمریانی بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنی پہلی شعری کتاب "حاصل" کے ذریعے اس قافلے میں اپنا اضافہ کیا، جبکہ بہت ہی مقبول ڈاکٹر یونس بٹ نے طنز و مزاح اور ٹیلی وژن کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو ہنساتے ہوئے معاشرے پر گہری چوٹ بھی لگائی۔
پاکستان کے معالج اہلِ قلم میں ایک اور نمایاں سلسلہ اُن لوگوں کا ہے جنہوں نے طب کے ساتھ عسکری زندگی بھی گزاری۔ مرحوم جنرل ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے فوجی معالج ہونے کے باوجود مزاح کو ایسا وقار بخشا جو آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی تحریروں میں فوجی زندگی کا مشاہدہ بھی ہے، انسان دوستی بھی، اور وہ لطیف مزاح بھی جو قہقہے سے زیادہ مسکراہٹ پیدا کرتا ہے۔
مرحوم کرنل ڈاکٹر ابدال بیلا—پاکستان آرمی میڈیکل کور سے وابستہ رہنے والے اس معالج ناول نگار سے مجھے 1996ء یا 1997ء میں اپنے پی ٹی وی کے لائیو مارننگ شو میں گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے شفقت سے اپنی کتابیں بھی مجھے عنایت کیں۔ ان کی شخصیت میں فوجی وقار اور ادبی تخیل ایک ساتھ چلتے تھے۔
اسی روایت میں مرحوم لیفٹیننٹ جنرل محمود الحسن کا نام بھی بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک ممتاز سرجن اور پاکستان آرمی میڈیکل کور کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہوتے تھے، بلکہ صاحبِ دیوان شاعر، خوش نویس اور صاحبِ ذوق ادیب بھی تھے۔ مجھے آج بھی بچپن کا وہ منظر یاد ہے جب انہیں پاکستان ٹیلی وژن پر جراحی کے موضوع پر ایک خوب صورت قطعہ پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ اُس وقت شاید اندازہ نہیں تھا کہ ایک سرجن کے ہاتھ صرف نشتر ہی نہیں، قلم بھی اسی مہارت سے تھام سکتے ہیں۔
نشتر میڈیکل کالج، ملتان کے ڈاکٹر محمود ناصر ملک بھی اس روایت کا اہم حوالہ ہیں۔ انہوں نے طب کے ساتھ شاعری، خطاطی اور شستہ اردو اظہار کو اپنی شناخت بنایا۔ اسی کالج کے ڈاکٹر انور مقصود زاہدی جدید اردو نظم کی معتبر آوازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ میرے والدِ مرحوم کے ان کے ادیب والد سے گہرے مراسم تھے، جبکہ ان کی شاعر بہن سے بھی شناسائی رہی۔
ڈاکٹر ارشد وحید کے تراجم نے اردو قاری کو گیبریل گارسیا مارکیز اور میلان کنڈیرا جیسے عالمی ادیبوں سے نئے انداز میں متعارف کرایا، جبکہ ان کی اپنی تخلیقات نے پاکستانی معاشرے کے بدلتے ہوئے سماجی اور تہذیبی منظرنامے کو حساسیت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔
خواتین معالج اہلِ قلم کا ذکر کیے بغیر یہ داستان مکمل نہیں ہو سکتی، اگرچہ اس مختصر مضمون میں سب کا احاطہ ممکن نہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اپنی بے باک تحریروں کے باعث ایک الگ شناخت رکھتی ہیں، اور ان کا حلقۂ قارئین خاصا وسیع ہے۔ ڈاکٹر پشپا ولبھ نے سندھ کی سرزمین، سندھی زبان، طب اور شاعری کو ایک ساتھ جوڑا۔
امریکہ میں مقیم کراچی کی ڈاکٹر ثروت زہرا کی شاعری جلاوطنی، یاد، محبت اور نسائی احساسات کی نہایت لطیف ترجمان ہے۔ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز میں ان سے ملاقات کے دوران مجھے محسوس ہوا کہ ان کی منکسرالمزاج شخصیت میں وہی ٹھہراؤ، متانت اور دردمندی موجود ہے جو ان کی غزلوں اور نظموں میں جھلکتی ہے۔
اور پھر ڈاکٹر عذرا رضا۔ کراچی کی اس بیٹی نے سرطان کے علاج اور تحقیق میں دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ وہ میرے نزدیک صرف عالمی شہرت یافتہ آنکولوجسٹ ہی نہیں، بلکہ اردو تہذیب کی ایک سفیر بھی ہیں۔ انہیں سننے کا موقع ملا تو ان کا غیر معمولی حافظہ، غالب، میر اور فیض پر عبور، اور برجستہ انداز میں اشعار سنانے کی صلاحیت حیران کن لگی۔ ان کی گفتگو میں سائنس اور ادب دو الگ الگ دنیائیں نہیں، بلکہ ایک ہی انسانی جستجو کے دو رُخ محسوس ہوتے ہیں۔
یقین ہے کہ اس فہرست میں بہت سے ایسے نام رہ گئے ہوں گے جن سے میں واقف نہیں، یا جن کا ذکر طوالت کے خوف سے ممکن نہ ہو سکا۔
اور پھر آتا ہے میرا اپنا مادرِ علمی، پنجاب میڈیکل کالج، فیصل آباد—آج کی فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی۔
ہم سے "سڑنے" والے اسے کبھی "پستول میڈیکل کالج" بھی کہا کرتے تھے۔ شاید اس لیے کہ اس زمانے میں جمعیت، پی ایس ایف/ویلیئنٹ اور ایم ایس ایف کی سیاست خاصی سرگرم رہتی تھی اور ماحول اکثر گرم رہتا تھا۔ لیکن اگر کوئی صرف اسی پہلو کو دیکھے، تو وہ اس ادارے کے ساتھ بڑی ناانصافی کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی راہداریوں میں صرف اناٹومی اور فزیالوجی نہیں پڑھائی جاتی تھی، وہاں لفظ بھی جنم لیتے تھے۔ وارڈوں، ہاسٹلوں، کیفے ٹیریا، کالج میگزین، مباحثوں اور مشاعروں میں طب اور ادب ایک دوسرے سے رومانس کرتے تھے۔ شاید اسی لیے اس ادارے نے ایسے معالج پیدا کیے جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں طب کے ساتھ قلم کو بھی پوری دیانت سے نبھایا۔
مرحوم کرنل ڈاکٹر ابدال بیلا کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ پنجاب میڈیکل کالج کے اولین فارغ التحصیل معالج ادیبوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کے بعد بھی اس درسگاہ نے ایسے متعدد معالج اہلِ قلم پیدا کیے جنہوں نے اس روایت کو آگے بڑھایا۔
ڈاکٹر محسن مگھیانہ، جنہیں ہم طالب علمی کے زمانے میں الائیڈ ہسپتال کے سرجن کے طور پر جانتے تھے، بعد میں اردو طنز و مزاح، کالم نگاری اور ادبی تحریروں میں ایک منفرد آواز بن کر سامنے آئے۔ ہاسٹل میں رہنے والی ہم طالبات کے لیے ان کے گھر کا فون بھی کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ موبائل فون تو تھے نہیں، سو گھر بات کرنی ہوتی تو کبھی کبھی ان ہی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا لیتے تھے۔ آج سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کی یہ چھوٹی چھوٹی یادیں بھی ہماری اجتماعی تاریخ کا حصہ ہیں۔
ڈاکٹر وحید احمد نے طب کے ساتھ اعلیٰ سرکاری خدمات بھی انجام دیں، مگر ان کی اصل شناخت ان کی نظم، ناول اور منفرد تخلیقی اسلوب ہے۔ ڈاکٹر وحید احمد نے نظم کو اپنی شناخت بنایا، اور شاید یہ بھی کہنے کی جسارت کر دوں کہ اردو نظم کو ان سے نئی شناخت ملی۔ ان کے شعری مجموعے، ناول زینو اور عالمی ادب سے ان کا مکالمہ اس بات کی دلیل ہیں کہ طب انسان کے تخیل کو محدود نہیں کرتی، بلکہ اسے نئی جہتیں عطا کرتی ہے۔ میں ان کو اپنے کالج اور اردو ادب کا فخر سمجھتی ہوں۔
آسٹریلیا میں مقیم سرگودھا کے ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ میرے سینئر تھے۔ طالب علمی کے زمانے میں وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے نہایت متحرک رہنما، طلبہ یونین کے جنرل سیکریٹری اور ہماری مخالف طلبہ تنظیم سے وابستہ تھے۔ مگر اُس دور کی طلبہ سیاست میں بھی بعض رشتے نظریاتی اختلاف سے بڑے ہوتے تھے۔ الیکشن جیتنے کے بعد اگر غیر جماعتی طالبات کو ہاسٹل یا کالج کے کسی انتظامی مسئلے میں مدد درکار ہوتی، تو وہ حتیٰ المقدور تعاون کرتے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ہماری کئی جونئیرز جمعیت سے وابستہ بھی تھیں اور ہماری قریبی دوست بھی۔ (تقریباً) ہم سب لڑکیاں انہیں احترام سے "تصور بھائی" کہتی تھیں، اور آج بھی میرے ذہن میں ان کا یہی تعارف محفوظ ہے۔
اُس وقت شاید ہم میں سے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہی پُرجوش نوجوان آگے چل کر ایک معروف طبی ماہر، بین الاقوامی مشیر، تجزیہ نگار، مصنف اور دانش ور کے طور پر اپنی منفرد شناخت قائم کرے گا۔
اور اب آخر میں، شاید چند لفظ اپنے بارے میں بھی۔
اس فہرست میں میرا اپنا نام بھی شامل ہے، اگرچہ اس کا فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتی ہوں۔ میں نے طب کے ساتھ تدریس، ذرائع ابلاغ، صنفی انصاف، سماجی ترقی، تحقیق، کالم نگاری، شاعری اور تصنیف کے مختلف راستوں پر چلنے کی کوشش ضرور کی۔ بعض اوقات سوچتی ہوں کہ اگر میری زندگی ایک عورت کے حصے میں آنے والی اضافی سماجی ذمہ داریوں، پیشہ ورانہ تعصبات اور مسلسل توازن قائم رکھنے کی جدوجہد سے کچھ مختلف ہوتی، تو شاید میری ادبی زندگی کا نقشہ بھی کچھ اور ہوتا۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ ہر تحریر کتاب کی صورت میں نہیں لکھی جاتی۔ کچھ تحریریں اداروں کی تعمیر میں لکھی جاتی ہیں، کچھ معاشرتی رویّوں کو بدلنے میں، کچھ خاموش مزاحمت میں، اور کچھ اُن انسانوں کی زندگیوں میں جن کے ساتھ انسان چلتا ہے۔
شاید اسی لیے دنیا بھر میں طب اور ادب کا رشتہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔ طب انسان کو صرف بیماری نہیں سکھاتی، انسان بھی سکھاتی ہے۔ معالج روزانہ خوشی، خوف، امید، مایوسی، پیدائش، بڑھاپے، محرومی اور موت سے روبرو ہوتے ہیں۔ وہ جسم کا علاج کرتے کرتے انسان کے دکھ، خاموشیوں، خوف، وقار اور کمزوریوں کی زبان بھی سیکھ لیتے ہیں۔ شاید اسی تجربے سے وہ کیفیت جنم لیتی ہے جسے آج کی زبان میں ایمپیتھی (Empathy)، یعنی دوسرے انسان کے دکھ کو اس کی اپنی نظر سے دیکھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت، کہا جاتا ہے۔
یہی صلاحیت ایک بہتر معالج بھی بناتی ہے اور ایک بہتر شاعر، افسانہ نگار، کالم نگار، محقق اور ادیب بھی۔
پس نوشت
یہ فہرست یقیناً مکمل نہیں۔ نہ جانے کتنے معالج شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار، مترجم، محقق، کالم نگار، ڈرامہ نگار اور نقاد اس مختصر مضمون میں شامل نہیں ہو سکے۔ میری خواہش صرف اتنی ہے کہ اس روشن مگر نسبتاً نظر انداز روایت کی طرف توجہ مبذول ہو، تاکہ آنے والے محققین اس موضوع پر زیادہ جامع، منظم اور مستند کام کر سکیں۔ اگر یہ مضمون اس سمت ایک ابتدائی قدم بھی ثابت ہو جائے، تو مجھے ذاتی طور پر خوشی ہو گی—اور شاید ادب کی صحت بھی بہتر ہو جائے؟