اردو سے بیزاری یا سیاست کا کھیل؟ بنگلہ دیش اور مغربی بنگال کی کہانی

بنگلہ دیشی مسلمان اردو کے خلاف کیوں ہوئے؟ یہ سراسر ایک سیاسی معاملہ تھا۔ 1947 کے بعد سے 1971 تک بنگلہ دیش (جو اُس وقت مشرقی پاکستان تھا) میں اردو کے خلاف عوامی لیگ کی تحریک بھی چل رہی تھی، مگر اس کے باوجود وہاں اردو فلمیں کامیابی سے چل رہی تھیں اور بنگالی عوام سنیما گھروں میں اردو فلمیں دیکھنے جاتے تھے۔

09:42 PM, 1 Nov, 2025

حسنین جمیل

برصغیر میں 28 کروڑ بنگالی آباد ہیں، جو مغربی بنگال اور بنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔ ان میں 18 کروڑ مسلمان اور 9 کروڑ کے قریب ہندو ہیں۔ مغربی بنگال میں تقریباً 3 کروڑ مسلمان آباد ہیں، اور ان کے لیے 5 اردو اخبارات شائع ہوتے ہیں، جن میں نمایاں نام اخبارِ مشرق اور سہارا ہیں۔

بنگلہ دیش کی آبادی 17 کروڑ ہے، جہاں تقریباً 15 کروڑ مسلمان اور 2 کروڑ ہندو بستے ہیں۔ بنگلہ دیش میں صرف دو اردو اخبارات شائع ہوتے ہیں، جن میں ایک نمایاں اخبار ڈیلی دنیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ مغربی بنگال کے 3 کروڑ مسلمان 5 اردو اخبارات پڑھتے ہیں، جبکہ بنگلہ دیش کے 15 کروڑ مسلمان صرف دو اردو اخبارات پڑھتے ہیں۔ اردو فکشن اور شاعری بھی مغربی بنگال میں زیادہ مقبول ہے، وہاں اردو کی کتب بھی زیادہ شائع ہوتی ہیں۔ آخر بنگلہ دیش کے مسلمان اردو سے بیزار کیوں ہیں، اور مغربی بنگال کے مسلمان بنگالی بھاشا کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنی زبان کیوں قرار دیتے ہیں؟ دونوں اطراف کے بنگالی مسلمانوں کی سوچ میں یہ تضاد کیوں ہے؟

اگر اس کی سیاسی وجوہات تلاش کی جائیں تو کچھ نکات سمجھ آتے ہیں۔ مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کے ہندو بنگالی، بنگالی بھاشا کے ساتھ ہندی اور سنسکرت بھی پڑھتے اور بولتے ہیں۔ سنسکرت ان کے دھرم کی زبان ہے اور ہندی پورے ہندوستان کی زبان، جو جزوی طور پر جنوبِ بھارت میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

بولی وُڈ فلموں کا بنگال سرکٹ، جو بنگال کے ساتھ ساتھ آسام پر بھی مشتمل ہے، وہاں ہندی اور اردو فلمیں بہت دیکھی جاتی ہیں۔ یہی بات مغربی بنگال کے مسلمان بھی محسوس کرتے ہیں، اسی لیے انہوں نے بنگالی بھاشا کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنی زبان بنا لیا، کیونکہ اردو برصغیر میں مسلمانوں کی وجہ سے آئی۔ اردو کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ بنگالی مسلمان اس زبان کے ذریعے پورے ہندوستان کے مسلمانوں سے جڑ جاتا تھا۔

جہاں تک بنگلہ دیشی مسلمانوں کا تعلق ہے، وہاں بنگالی اور اردو زبان سیاست کی نذر ہو گئیں۔ جب کوئی معاملہ سیاست دانوں کے ہاتھ لگ جائے تو وہ بدصورت ہیئت اختیار کر لیتا ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ تک، جب بنگلہ دیش مشرقی پاکستان کہلاتا تھا، وہاں کے سنیما گھروں میں اردو فلموں کی نمائش کامیابی سے جاری تھی۔ کراچی اور پنجاب کے بعد اردو فلموں کا سب سے بڑا سرکٹ مشرقی پاکستان ہی تھا۔ ہمارے اسٹار ہیرو ندیم کا سسرال بھی وہیں تھا۔ ان کے سسر احتشام بڑے بنگالی فلم ساز اور ہدایتکار تھے، جو بنگالی اور اردو دونوں زبانوں میں فلمیں بنایا کرتے تھے۔ ندیم کی پہلی فلم چکوری بھی انہی کی تخلیق تھی۔

2005 میں جب بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم پہلی بار پاکستان آئی تو بنگلہ دیشی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بھی ساتھ آئی تھی، جو ہم سے اردو میں بات کرتی تھی۔ میچ کے دوران راقم کا اردو انٹرویو کرکٹ کے حوالے سے بنگالی صحافی مسعود حسن نے کیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ اردو زبان کا انٹرویو کہاں نشر ہوگا؟ اس نے کہا: بنگلہ ریڈیو پر — جو میرے لیے باعثِ حیرت تھا۔

بنگلہ دیشی مسلمان اردو کے خلاف کیوں ہوئے؟ یہ سراسر ایک سیاسی معاملہ تھا۔ 1947 کے بعد سے 1971 تک بنگلہ دیش (جو اُس وقت مشرقی پاکستان تھا) میں اردو کے خلاف عوامی لیگ کی تحریک بھی چل رہی تھی، مگر اس کے باوجود وہاں اردو فلمیں کامیابی سے چل رہی تھیں اور بنگالی عوام سنیما گھروں میں اردو فلمیں دیکھنے جاتے تھے۔

مشرقی اور مغربی پاکستان کے کم فہم سیاست دانوں نے ہی بنگلہ دیشی مسلمانوں کو اردو کے خلاف کر دیا۔

مزیدخبریں