مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میں مستقل امن کا راستہ: دو ریاستی حل

حالیہ اسرائیل ،ایران تنازع میں بھارت کی اسرائیل نواز پالیسی کے باوجود ایران کا جنگ کے بعد پاکستان کے بد ترین دشمن بھارت کے لیے خیر سگالی کے جذبات رکھنا یقیناً پاکستانی حلقوں میں تشویش کا باعث بن رہا ہے ۔ بدلتے علاقائی اور بین الاقوامی حالات و واقعات کی روشنی میں پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔

03:22 PM, 2 Jul, 2025

پروفیسر کامران جیمز

دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کے قیام کا بنیادی  مقصد یہ تھا کہ ناصرف آئندہ دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچایا جاسکے ۔ بلکہ ریاستوں کے مابین تعلقات بھی بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ کا سبب بنیں ۔ نیز بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے افہام و تفہیم ، سفارت کاری اور پر امن ذرائع کا استعمال کیا جائے۔ لیکن شاید یہ مقاصد حل نہیں ہوسکے ہیں ۔ اور گزشتہ چند ایام میں جارح ریاستوں نے ناصرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی شدید خلاف ورزیاں کی ہیں ۔ 

            حالیہ چند دنوں میں جنوبی ایشیا اور خلیج فارس میں اقوام متحدہ جارحیت کو روکنے میں ناکام رہی ہے ۔ ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ اقوام متحدہ اپنے رکن ممالک کی آزادی و خود مختاری کو برقرار رکھنے میں اپنا موثر اور کلیدی کردار ادا کرتی اور جارح ریاست کے خلاف اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق "طاقت " کے استعمال سے بھی گریز نہ کرتی ۔ لیکن جنوبی ایشیا میں حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور خلیج فارس میں ایران ۔ اسرائیل تنازع کے سلسلے میں اقوام متحدہ کا کردار انتہائی مایوس کن رہاہے ۔ 

            اقوام عالم کے لیے بھی  ایک انتہائی تشویش  کی بات ہے کہ جارح ریاستوں نے ناصرف اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کی ہیں بلکہ عالمی ریاستی نظام کو بھی نقصان پہنچایا ہے جس کے لیے بین الاقوامی قوانین تشکیل دیے جاتے ہیں ۔ 

            بین الاقوامی مبصرین کے مطابق موجودہ حالات و واقعات کے متناظر میں اب یہ وقت آچکا ہے کہ اقوام متحدہ اور اقوام عالم کو آزادی کی تحریکوں اور دہشت گرد سرگرمیوں میں صاف اور واضح فرق کرنا ہوگا۔ اور تمام عالمی حل طلب تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرنے کے لیے کوششیں کرنا ہونگی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومی آزادی کی تحریکوں کو شاید وقتی طور پر طاقت استعمال سے روکا جاسکتا ہے لیکن آزادی کی ان تحریکوں کو جڑ سے ختم کرنا نو آبادیاتی نظام کے بھی بس کی بات نہیں تھی ۔ 

            تاریخ کے اور اق چھاننے سے معلوم ہوتا ہے کہ نو آبادیاتی قوتوں نے برصغیر پاک و ہند ، مشرق وسطی ۔ وسطی افریقہ ، شمالی افریقہ اور کئی خطوں میں آزادی کی تحریکوں کو جدید اسلحہ کے زور پر کچلنے کی کوشش کی لیکن یہ تمام نو آبادیاتی قوتیں قومی آزادی کی تحریکوں کو طاقت کے استعمال سے ختم نہیں کرسکیں جس کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم کے بعد جنوبی ایشیا ، جنوب مشرقی ایشیا مشرق وسطی اور افریقہ کے کئی ممالک بالا آخر آزادی کی نعمت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ 

            اہل علم و دانش کے مطابق اب وقت آچکا ہے کہ تمام حل طلب تنازعات کو اقوام متحدہ کی قرار داد وں کے مطابق پر امن طریقے سے حل کیا جائے۔ اس سلسلے میں مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین دنیا کے سب سے پرانے حل طلب تنازعات ہیں ۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے جہاں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ہے وہاں ہمیشہ فلسطین کے عوام سے بھی ہمیشہ ہی اظہار یکجہتی کیا تھا ۔ 

            قیام پاکستان کے بعد بھی پاکستان نے ہر پلیٹ فارم پر مسئلہ فلسطین کو اجاگر کیا ہے ۔ اور اس سلسلے میں ہمیشہ عرب دنیا کا ساتھ دیا ہے ۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو حالیہ ایران ، اسرائیل جنگ میں بھارت کا مکروہ چہرہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے جب بھارت نے ایران کے مقابلے میں اسرائیل  کا ساتھ دینا زیادہ مناسب  سمجھا اس سارے تنازع میں ایران کو ھبی بھارت کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کا از سر نوع جائزہ لینا ہوگا۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگاکہ پوری عرب دنیا کو بھی اپنے بھارت کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرنا ہوگی جب پوری دنیا اور تمام عرب ممالک ایران ، اسرائیل تنازع میں اسرائیل کو جارح قرار دے رہے تھے اور ایران کے خلاف اسرائیل جارحیت کی مذمت کررہے تھے تو بھارت اس وقت اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوا دکھائی دیا۔

            بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین بھارت کی مشرق ِ وسطیٰ کے لیے خارجہ پالیسی میں اسرائیل کو عربوں پر ترجیح دنیا کو دراصل بھارت کے اپنے مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں سیاسی معاشی اور سفارتی مفادات کے خلاف قرار دے رہے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق خارجہ محاز پر بھارت کی اس پالیسی کے بھارت کو مستقبل قریب میں سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں ۔ بعض خبر رساں بین الاقوامی اداروں کے مطابق شاید بہت جلد "ابراہام اکارڈ" کو  ہی مزید توسیع دی جائے گی جس کی بدولت شاید چند مزید عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے اور اس کے نتیجے میں شاید غزہ میں جنگ بندی کا عمل بھی پایا تکمیل کو پہنچے گا اور شاید پھر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لیے بھی راہ ہموار ہوسکے گی جس کا انتظام ابتدائی طور پر چندعرب ممالک کے ہاتھ میں ہوگا۔

            سیاسی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میں مستقل جنگ بندی اور مزید مزاحمت کاری سے بچنے کاواحد حل "دو ریاستی فارمولہ" ہی ہے پھر ہی ناصرف مشرق وسطی ،خلیج فارس بلکہ پوری دنیا امن کا گہوارہ بن سکے گی  ۔ تاہم آئندہ رونما ہونے والے حالات و واقعات ہی اس سمت کا حتمی تعین کریں گے۔

            دوسری جانب بین الاقوامی امور کے ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اہم اور کلیدی کردار ادا رسکتے ہیں ۔ مسئلہ فلسطین کے حل کے  سلسلے میں امریکہ اور عرب ممالک کے درمیان " دو ریاستی حل" کے سلسلے میں جزوی اتفاق رائے پایا جاتا ہے لیکن نئی فلسطینی ریاست کی جغرافیائی سرحدوں کا تعین فریقین کے لیے یقیناً ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ 

            ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں اگر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیا م میں تاخیر ہوئی تو پھر کسی بھی ممکنہ مزاحمت کاری کو روکنا شاید نئی استماری قوتوں کے بس کی بات نہیں ہوگی ۔ لہٰذا دو ریاستی حل کی جانب قدم ہی مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کو مستقل امن کی طرف لے جاسکتا ہے ۔ دوسری جانب امریکی انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ طور پر پاکستان کو بھی مشرق وسطی میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کرداد ادا کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔اور یقیناً پاکستان عالمی سطح پر اپنے  اس کردار کو نہایت احسن انداز سے نبھانے کی پوزیشن میں ہے۔ 

            تاہم پاکستانی وزیر خارجہ نے مستقبل قریب میں ایسے کسی بھی امکان کو مسترد کردیا ہے کہ شاید پاکستان " ابراہام اکارڈ" کا حصہ بنے گا ۔ مفکرین کے مطابق مشرق ِ وسطیٰ میں بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات ، افکار کی روشنی میں ہی ترتیب دی جائے گی اور اس خارجہ پالیسی کا اہم ستون ایک آزاد و خود مختاری فلسطینی ریاست کا قیام ہی ہوگا۔

پھر ہی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ خلیج فارس اور پوری دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے ۔ 

            دوسری جانب حالیہ اسرائیل ،ایران تنازع میں بھارت کی اسرائیل نواز  پالیسی کے باوجود ایران کا جنگ کے بعد پاکستان کے بد ترین دشمن بھارت کے لیے خیر سگالی کے جذبات رکھنا یقیناً پاکستانی حلقوں میں تشویش کا باعث بن رہا ہے ۔ بدلتے علاقائی اور بین الاقوامی حالات و واقعات کی روشنی میں پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ 

تحریر : پروفیسر کامران

مزیدخبریں