“اسلام آباد ہم نے بنایا، اب ہمیں ہی بے دخل کیا جا رہا ہے”

اسلام آباد کی کچی آبادیوں اور ریڑھی بانوں کا اصل مطالبہ صرف یہ نہیں کہ جبری بے دخلیاں روکی جائیں—بلکہ یہ کہ ریاست اُن کروڑوں محنت کش شہریوں کو بھی انسان سمجھنا شروع کرے جنہوں نے اس شہر کو بنایا، چلایا اور صاف کیا، مگر آج وہی لوگ قانونی ابہام، طاقت کے غلط استعمال اور سی ڈی اے کے یکطرفہ فیصلوں کے باعث اپنے گھروں اور روزگار سے محرومی کے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔

09:31 PM, 3 Dec, 2025

نیوز ڈیسک

وفاقی دارالحکومت کی درجنوں کچی آبادیوں، ریڑھی بانوں اور مزدور تنظیموں کے نمائندوں نے منگل کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے حالیہ انسدادِ تجاوزات آپریشن کو "جبری بے دخلیوں کی نئی لہر" قرار دیا اور سپریم کورٹ سمیت وفاقی آئینی عدالت سے مداخلت کی اپیل کی۔

پریس کانفرنس کا اہتمام عوامی ورکرز پارٹی (اے ڈبلیو پی)، آل پاکستان کچی آبادی الائنس اور انجمن ریڑھی بان نے مشترکہ طور پر کیا، جہاں رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ سی ڈی اے نے حالیہ ہفتوں میں محنت کش طبقے، چھوٹے کاروباری افراد اور ریڑھی بانوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ "بڑے ریئل اسٹیٹ ڈویلپرز اور کمرشل تعمیرات" کے لیے راستہ کھلا چھوڑا گیا ہے۔

عدالت سے رجوع: 2015ء کے سٹے آرڈر کو برقرار رکھنے کا مطالبہ

رہنماؤں نے اس موقع پر سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ 2015ء میں دیے گئے اُس تاریخی حکم کو برقرار رکھے جس کے تحت جبری بے دخلیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اے ڈبلیو پی نے اسی فیصلے کے تسلسل میں دوبارہ آئینی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

اے ڈبلیو پی کی رہنما عالیہ امیر علی نے دعویٰ کیا کہ سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس "قانون اور ماسٹر پلان کی کھلی خلاف ورزی" کرتے ہوئے کچی آبادیوں اور سٹریٹ وینڈروں کے خلاف آپریشن چلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، محنت کشوں کے گھروں اور روزگار پر کریک ڈاؤن ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب "غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں اور کمرشل پلازے" باآسانی تعمیر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ سی ڈی اے نے انفورسمنٹ ڈویژن کی سربراہی کے لیے لاہور سے ایک افسر کو خصوصی طور پر بلوا کر غریب باسیوں کے خلاف کارروائی تیز کی ہے۔

کچی آبادی کے رہنماؤں کا مؤقف: “اسلام آباد ہم نے بنایا، اب ہمیں ہی بے دخل کیا جا رہا ہے”

کچی آبادیوں کے نمائندوں پطرس جوزف، میر اعظم، محمد ریاض، رخسانہ قاضی، امانت مسیح، احمد گڈو اور دیگر نے مختلف بستیوں — I-10، I-9، مسلم کالونی بری امام، سید پور گاؤں، H-9، علی پور فراش، فرانس کالونی، ایف–6 سو کوارٹر، جی–8 مسکین و مشرف کالونی، جی–7 علامہ اقبال کالونی اور H–11 مظفر کالونی — کی صورت حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ کم آمدنی والے طبقات نے اسلام آباد کو "بنایا، چلایا اور سنبھالا" ہے اور آئین کے مطابق شہر میں رہائش ان کا حق ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2015ء میں سی ڈی اے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے I-11 کی بستی مسمار کی تھی، جس کے 20 ہزار سے زائد پشتون مکین متاثر ہوئے تھے۔ اس کے خلاف اے ڈبلیو پی کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے نہ صرف مداخلت کی تھی بلکہ مزید کسی بھی جبری بے دخلی کے خلاف حکم امتناع بھی جاری کیا تھا۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عدالت نے وفاق اور سی ڈی اے کو کم آمدنی والے طبقات کے لیے رہائش کے ایک جامع منصوبے کی ہدایت کی تھی، لیکن پچھلی دہائی میں اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہر "ریئل اسٹیٹ مافیاز اور قبضہ گروپوں کے ہاتھوں یرغمال بن گئے" ہیں۔

ریڑھی بانوں کے مسائل: “روزگار کا حق بھی چھین لیا گیا ہے”

انجمن ریڑھی بان کے نمائندے رانا شیرباز نے الزام لگایا کہ اسلام آباد میں سٹریٹ وینڈروں کو باقاعدہ طور پر روزگار کے آئینی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سی ڈی اے نہ صرف ریڑھیاں ضبط کرتا ہے بلکہ پولیس مقدمات بھی درج کرتی ہے، جبکہ وینڈروں نے متعدد بار اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے "چھوٹی رشوت" لے کر نظام کو کمزور رکھتے ہیں، مگر مستقل لائسنس جاری نہیں کرتے جس سے ریاستی آمدنی بھی بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق، محنت کش طبقہ ’’قانون کی حکمرانی‘‘ جیسے نعروں سے مایوس ہو چکا ہے کیونکہ قانون امیر و بااثر کے حق میں جھکا ہوا نظر آتا ہے۔

اے ڈبلیو پی کا مطالبہ: ریگولرائزیشن یا قانون کے مطابق متبادل رہائش

عالیہ امیر علی نے کہا کہ اصولی مطالبہ یہ ہے کہ کچی آبادیوں کو ان کے موجودہ مقامات پر ریگولرائز کیا جائے یا پھر قانون کے مطابق متبادل رہائش فراہم کی جائے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ H-9 کچی آبادی ٹینتھ ایونیو کی تعمیر کے باعث "چاروں طرف سے بند" ہو رہی ہے لیکن ابھی تک حکومت نے کسی ری سیٹلمنٹ پلان کا اشارہ نہیں دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بے دخلی کا سلسلہ جاری رہا تو کچی آبادیوں کے مکین، ریڑھی بان اور دیگر مزدور تنظیمیں سی ڈی اے کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دیں گے۔

آئینی خدشات اور عدالت سے نئی اپیل

رہنماؤں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کی وجہ سے 2015ء کے سٹے آرڈر کی حیثیت کے بارے میں اب ایک قانونی ابہام پیدا ہو چکا ہے، اور سی ڈی اے اسی خلا کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت سے اپیل کی کہ کم آمدنی والے شہریوں کا حقِ رہائش اور حقِ روزگار بنیادی آئینی حقوق ہیں جن کی فوری ضمانت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاست سستی رہائش اور روزگار فراہم نہیں کر سکتی تو اسے کم از کم ان بستیوں اور وینڈنگ کارڈز کو ختم کرنے کا حق بھی نہیں ہونا چاہیے جنہیں محنت کشوں نے دہائیوں کی مشقت سے خود بنایا ہے۔

مزیدخبریں