آئی سی سی چیمپئن ٹرافی 2025 کا ؤنٹ ڈاؤن بس اب شروع ہونے ہی والا ہے اس دوران بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ نے 15رکنی سکواڈ کا اعلان کرہی دیا جس پرپاکستان ہی نہیں بلکہ تمام 8 ٹیموں کی نظریں لگی ہوئیں تھیں کہ اس مرتبہ میزبان ٹیم پاکستان کس لائن اپ کیساتھ چیمپئن ٹرافی میں اترنے والا ہے۔ جمعہ کے چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے نئے تعمیر ہونے والے قذافی اسٹدیم میں پریس کانفرنس کی جس میں صحافیوں کے سوالوں کا تسلی بخش جواب دیا۔
سب سے اہم سوال آئی سی سی صدر جے شاہ کی چیمپئن ٹرافی کی افتتاحی تقریب (جس کا انعقاد پی سی نے16 فروری کو رکھا ہے ) میں شمولیت سے کے حوالے سے تھا جس کے جواب میں چئیرمین محسن نقوی کا کہنا تھا کہ : ”پی سی بی نے تما بورڈز بشمول انڈیا کو دعوت نامے بھجوادئیے ہیں“، لیکن آئی سی سی صدر جئے شاہ کا نام لیے بغیر چئیر مین پی سی بی نے واضح کیا کہ” تمام بورڈ آفیشلز اپنی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے شرکت کے حوالے سے آگاہ کریں گے ،لیکن میرا خیال ہے کہ ہم اس ٹورنامنٹ میں اکثر بورڈ ممبرز احتیٰ کہ مختلف ممالک کے کھیلوں کے وزیروں کی بھی میزبانی کریں گے “۔ چیمپئن ٹرافی کی افتتاحی تقریب پی سی بی نے 16 فروری کو لاہور شاہی قلعہ کے سامنے ”حضوری باغ“ میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے(یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پی ایس ایل ڈرافٹ کی تقریب بھی اسی جگہ منعقد کی گئی تھی )۔
پی سی بی نے چیمپئن ٹرافی اور اس سے پہلے فروری کے دوسرے ہفتے میں ہونیوالی سہہ فریقی سیریز کیلئے جس 15 رکنی ٹیم کا اعلان کیا ہے اس کے حوالے سے کرکٹ ماہرین اور عوام میں ملاجلا رجحان پایا جارہا ہے ، 15رکنی سکواڈ پر ایک نظر ڈالیں تو اس میں سب سے حیران کن یا یوں کہہ لیں کہ حالات کے جبر تلے اوپننگ کیلئے فخر زمان کیساتھ بابر اعظم کو آزمانے کا فیصلہ کیا گیا ہے (کیونکہ صائم ایوب ساوتھ افریقہ ٹیسٹ سیریز میں ٹخنے کی انجری کا شکار ہوکر ٹورنامنٹ سے پہلے ہی باہر ہوچکے ہیں )، سکواڈ کو دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس دستیاب آپشنز میں اسکے علاوہ اور کوئی آپشن تھا ہی نہیں جس کو آزمایا جاتا ۔اعلان کردہ 15رکنی سکواڈ میں چار تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں عبداللہ شفیق ، صائم ایوب ، عرفان اللہ خان اور سفیان مقیم کی جگہ فہیم اشرف ، فخر زمان ، خوشدل شاہ اور مڈل آرڈر بیٹسمین سعود شکیل جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں انکے علاوہ بیٹننگ آرڈر میں ڈومیسٹ کرکٹ کے ٹاپ پرفارمر کامران غلام اور طیب طاہر بھی شامل کیے گئےہیں ۔آل راؤنڈرز میں فہیم اشرف ، خوشدل شاہ ، نائب کپتان سلمان علی آغا جبکہ وکٹ کیپرز میں محمد رضوان کیساتھ محمد عثمان کو شامل کیا گیا ہے ، سپن باؤلنگ (ایشیاء کی کنڈیشنز میں سپن باولنگ میچ کی جیت میں اہم کردار ادا کرنے والی ہے )کے شعبے پاکستان نے صرف ایک سپنر نوجوان ابرار احمدکیساتھ ٹورنامنٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ حریف بھارتی ٹیم نےاپنے اسکواڈ میں تین سپن باولرز شامل کیے ہیں ، ایشیاء کی وکٹوں پر محض ایک سپن باولر کیساتھ ٹیم میدان میں اتارنے کے فیصلے کے پیچھے سلیکٹرز کی کیا حکمت عملی ہے اس کا انداز ٹورنامنٹ کے گروپ میچز میں ہوجائے گا ۔فاسٹ بولنگ کی کیٹگری جس پر پاکستان کرکٹ ہمیشہ سے انحصار کرتی آئی ہے ،اس میں شاہین شاہ آفریدی ، حارث رؤف ، محمد حسنین اور نسیم شاہ کو شامل کیا گیا ہے ۔ نسیم شاہ سے اس بار توقع کی جارہی ہے ہ وہ پاکستان اور دبئی کی وکٹوں پر کلیدی کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔اسکے علاوہ 15رکنی سکواڈ میں2017چیمپئن ٹرافی فاتح ٹیم کے ہیرو فخر زمان (جن کی چیمپئن ٹرافی 2017کے فائنل میں انڈیا کیخلاف سنچری کو آخر کون بھول سکتا ہے) سے سلیکشن کمیٹی کیساتھ ساتھ کرکٹ شائقین کو بھی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں ، فخر زمان اس مرتبہ چیمپئن ٹرافی کا 'ایکس فیکٹر 'ثابت ہونیوالے ہیں ۔ فخر زمان اسوقت اپنی بھرپور فارم میں ہیں جس کا ثبوت گذشتہ سال دسمبر میں کھیلے جانیوالے چیمپئن ٹی ٹوئنٹی کپ میں شاندار کارکردگی ہے جہاں فخر زمان ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ اسکور بنانے والے تیسرے بڑے کھلاڑی رہے، فخر زمان نے 132کے اسٹرائیک ریٹ کیساتھ ٹورنامنٹ میں 303رنز بنائے ۔ خوشدل شاہ کی شمولیت بھی پاکستان کی بیٹنگ لائن کو مضبوط کرے گی کیونکہ خوشدل شاہ ڈومیسٹک کرکٹ کے ٹاپ پرفارمرز میں شمار کیے جاتے ہیں انھوں نے ایک روزہ چیمپئنز کپ میں 176رنز کی شاندار اننگز کھیلی ہے، جبکہ پاکستان کے چیمپئنز ٹی ٹوئنٹی کپ میں 132 بنانے کیساتھ 9وکٹیں بھی حاصل کیں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔
پاکستان کے گروپ میچز کا شیڈول اور فائنل تک رسائی
چیمپئن ٹرافی 8 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہےجس میں ہر ٹیم کو تین تین گروپ میچز کھیلنے ہیں ،پاکستان کو اپنے گروپ اے میں نیوزی لینڈ ، انڈیااور بنگلہ دیش کیساتھ میچز کھیلنا ہوں گے19فروری کو پاکستان کا پہلا میچ نیوزی لینڈ سے کراچی میں ہوگا جسکے بعد سب اس ٹورنامنٹ کا سب سے ہائی وولٹیج میچ یعنی پاک/بھارت ٹاکڑا 23 فروری کو دبئی میں شیڈول ہے !
محمد رضوان کی کپتانی میں 15 رکنی اسکواڈ کی دلچسپ بات یہ ہے کہ 2017چیمپئن ٹرافی فاتح کے تین کھلاڑی بابر اعظم ، فخر زمان اور فہیم اشرف اس مرتبہ اسکواڈ کا حصہ ہیں ، اسکے علاوہ شاہین شاہ آفریدی ،حارث رؤف ، سعود شکیل ، بابر اعظم اور فخر زمان 2023 کے کرکٹ ورلڈ کپ سکواڈ کا حصہ بھی رہ چکے ہیں ، اس طرح چیمپئن ٹرافی کیلئےاسکواڈ میں 5سینئر کھلاڑیوں کی شمولیت سے یقینا پاکستان ٹیم کی پلئینگ الیون میں اعتماد آئے گا ۔ اگرچہ دو سال قبل 2023ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی نہایت خراب رہی تھی، جس کے دوران کئی تنازعات بھی میڈیا کی زینت بنتے رہے ان میں بابر اعظم کی واٹس ایپ چیٹ کا لیک ہونا بھی ورلڈ کپ کیمپئن کے دوران حیران کن واقعہ تھا ۔ پاکستان ٹیم 2023ورلڈ کپ کے 9 میں سے صرف 4میچوں میں ہی فتح سمیٹ سکی ، جن پانچ میچوں میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرناپڑا ان میں افغانستان کے ہاتھوں شکست کرکٹ شائقین کے ذہنوں پر آج بھی تازہ ہے ، اس شکست کیساتھ ہی پاکستان ناصرف ورلڈ کپ سے باہر ہوگیاتھا بلکہ ٹورنامنٹ میں پانچویں پوزیشن ہی حاصل کرسکا ۔2023میں بھی ٹیم پاکستان فیورٹ سمجھی جارہی تھی لیکن انڈین کنڈیشنز اوربھارتی عوام کا پریشر ٹیم کو یک بعد دیگرے شکستوں سے دوچار کرتا رہا ۔لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے ، پاکستان چیمپئن ٹرافی کا میزبان ہے اگر چہ پاکستان جس گروپ میں شامل ہے اس گروپ میں انڈیا ، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے پاس ایسے کھلاڑی ضرور ہیں جو ناصڑف بہترین فارم میں ہیں بلکہ میچ کا پانسہ آخری لمحے میں پلٹنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ اسد شفیق پر اعتماد ہیں کہ 15رکنی اسکواڈ کے ہر کھلاڑی کو اس کے رول کیمطابق منتخب کیا گیا ہے جو کپتان محمد رضوان کو پلئینگ الیون منتخب کرنے کیلئے کئی آپشنز فراہم کرے گا ۔