ضلع اپر چترال میں سال 2025 کے دوران خودکشی کے واقعات میں ایک دل دہلا دینے والا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف وجوہات، جیسے ذہنی دباؤ، گھریلو تنازعات، تعلیمی ناکامی اور بعض نامعلوم عوامل کے باعث کئی قیمتی زندگیاں وقت سے پہلے ختم ہو گئیں۔ یہ رپورٹ پولیس ریکارڈ اور مقامی ذرائع سے حاصل شدہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
سال 2025 میں ضلع اپر چترال میں 12 دلخراش واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں خواتین کی تعداد زیادہ رہی۔ ان میں سب سے نمایاں وجوہات گھریلو مسائل اور شدید ذہنی دباؤ تھے۔ یہ اعداد و شمار صرف اعداد نہیں بلکہ بکھرتے ہوئے خوابوں، اجڑتے ہوئے گھروں اور خاموشی سے بجھتی ہوئی زندگانیوں کی کہانی سناتے ہیں۔
یہ المناک صورتحال اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے بڑھتے ہوئے نفسیاتی، سماجی اور خاندانی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ اگر اس سنگین مسئلے پر فوری اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں یہ المیہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور مزید خاندان ہمیشہ کے لیے تاریکی میں ڈوب سکتے ہیں۔
کل 12 واقعات رونما ہوئے۔ جنس کے لحاظ سے 5 مردوں نے خودکشی کی، جبکہ 7 خواتین نے خودکشی کی۔ عمر کے لحاظ سے متاثرین کی عمریں 14 سے 20 سال کے درمیان تھیں۔ تعلیمی حیثیت کے اعتبار سے 6 افراد تعلیم یافتہ تھے، جبکہ 3 افراد غیر تعلیم یافتہ تھے۔ شادی شدہ افراد کی تعداد 9 تھی۔
ان میں سے زیادہ تر کیسز کی وجوہات گھریلو مسائل، ازدواجی تنازعات اور ذہنی دباؤ تھے۔ یہ حقیقت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خواتین اپنی زندگی کے مسائل کے حل کے لیے معاشرتی یا قانونی سطح پر مدد حاصل کرنے کے بجائے خاموشی سے دباؤ جھیلتی رہتی ہیں اور آخرکار انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ خواتین کے لیے سماجی سپورٹ سسٹم اور مشاورت کے مواقع نہایت محدود ہیں۔
سال 2025 کے دوران ضلع لوئر چترال میں خودکشی کے متعدد افسوسناک اور دلخراش واقعات سامنے آئے، جنہوں نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان سانحات کی بنیادی وجوہات میں ذہنی دباؤ، گھریلو تنازعات اور بعض نامعلوم عوامل شامل تھے، جو علاقے میں بڑھتے ہوئے نفسیاتی بحران اور سماجی دباؤ کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔
اس سال مجموعی طور پر 6 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 3 مرد اور 3 خواتین شامل تھیں۔ متاثرین کی عمریں مختلف تھیں، تاہم ان میں سے بعض نہایت کم عمر، یعنی 14 سے 18 سال کے نوجوان تھے، جو تعلیمی مرحلے میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طالب علم تھے۔ یہ حقیقت تعلیمی دباؤ اور ناکامی کے خوف جیسے عوامل کو اجاگر کرتی ہے۔ دوسری طرف درمیانی عمر کی خواتین، جو گھریلو ذمہ داریوں اور ازدواجی مسائل کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھیں، بھی اس المناک سلسلے کا حصہ بنیں۔
اس طرح یہ اعداد و شمار نہ صرف نوجوان نسل کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ شادی شدہ خواتین کی زندگی میں بڑھتے ہوئے دباؤ اور سہارا نہ ملنے کے المیے کو بھی آشکار کرتے ہیں۔ ان تمام واقعات سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ضلع لوئر چترال میں ذہنی صحت کی سہولیات کی کمی، سماجی سطح پر مسائل کے حل کے فقدان اور خاندان کے اندر مضبوط رشتوں کے ٹوٹنے جیسے عوامل خودکشی کے رجحان میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
نوٹ: اس رپورٹ کے لیے مواد فراہم کرنے پر ہم ڈی ایس پی انویسٹی گیشن محسن الملک صاحب اور پولیس ڈپارٹمنٹ کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے ہر ممکن تعاون فراہم کیا