اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ بالآخر وفاقی کابینہ کا فیصلہ گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے نافذ ہوگیا ہے اور بچوں کی گھریلو ملازمت 1991 کے چلڈرن ایمپلائمنٹ ایکٹ کے تحت ممنوع ہو گئی ہے۔ شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ ایکٹ وفاقی دارالحکومت کے لیے ہے۔ لیکن صوبے بھی اس کو ایک آسان سی قرارداد کے ذریعے اپنا سکتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی بار بچوں کی گھریلو مزدوری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے گذشتہ دنوں بچوں کی گھریلو ملازمت کو ممنوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔