4فروری ورلڈ کینسر ڈے: شوکت خانم30سالوں سےامید کی کرن

2025میں  ورلڈ کینسر ڈے  کے حوالے سے جس موضوع کو منتخب کیا گیا ہے اس کا عنوان ہے  ”United by Unique“(یعنی کینسر کے ہر مریض  کی کہانی اگرچہ  مختلف ہے مگر اس مرض سے لڑائی میں ہم سب اکٹھے ہیں) اور یہ مہم 3 سالوں 2027-2025 پر محیط ہوگی ،ان 3 سالوں میں عالمی سطح پر  کینسر کے حوالے سے نہ صرف  عوام میں آگاہی مہم چلانا بلکہ کینسر کے علاج میں  ہونیوالی پیشرفت اورعلاج کی جدیدسہولیات تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کی  رسائی کو ممکن بنانے کیلئے  عملی اقدامات اٹھانا بھی اس مہم کا حصہ ہے

01:25 PM, 4 Feb, 2025

ارسلان سید

کینسر کے حوالے سے عوام میں شعور و آگاہی کیساتھ ساتھ اسکے  علاج میں ہونیوالی جدید تحقیق کو دنیا کے  سامنے لانے کیلئے ہر سال 4فروری کا دن ورلڈ کینسر ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔2025میں  ورلڈ کینسر ڈے  کے حوالے سے جس موضوع کو منتخب کیا گیا ہے اس کا عنوان ہے  ”United by Unique“(یعنی کینسر کے ہر مریض  کی کہانی اگرچہ  مختلف ہے مگر اس مرض سے لڑائی میں ہم سب اکٹھے ہیں) اور یہ مہم 3 سالوں 2027-2025 پر محیط ہوگی ۔ان 3 سالوں میں عالمی سطح پر  کینسر کے حوالے سے نہ صرف  عوام میں آگاہی مہم چلانا بلکہ کینسر کے علاج میں  ہونیوالی پیشرفت اورعلاج کی جدیدسہولیات تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کی  رسائی کو ممکن بنانے کیلئے  عملی اقدامات اٹھانا بھی اس مہم کا حصہ ہے۔

کینسر  کی تشخیص کے بعد  مریضوں کیساتھ ان کے خاندانوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس حوالے سے ان کی کہانیوں کو اہمیت  دینا بھی اس سال2025 سے شروع ہونیوالی ورلڈ کینسر ڈے مہم کا اہم حصہ ہے ۔ یونین فار انٹرنیشنل کینسر کنٹرول تنظیم سال 2000میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں قائم کی گئی جس کا واحد مقصد دنیا بھر میں   کینسر پر کام کرنے والی  تنظیموں کو ایک چھت تلے جمع کرنا تھا تاکہ دنیا بھر میں کینسر کے پھیلاؤکی روک تھام اور نئے طریقہ علاج کے حوالے سے  کی جانیوالی کوششوں  کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جاسکے ۔170سے زائد ممالک میں 1200سے زائد تنظیمیں(جن میں کینسر ہسپتال ،تحقیقی ادارے اور کینسر کے مریضوں کی فلاح کیلئے کام کرنے والے ادارے یونین فار انٹرنیشنل کینسر کنٹرول(Union for International Cancer Control)کا حصہ ہیں ۔

پاکستان میں کینسر کا مرض  اور حیران کن اعداد و شمار

 پاکستان میں ہر سال  کینسر کے ایک لاکھ 85ہزار  سے زائد مریض رجسٹر ہوتے ہیں ۔ حال ہی میں پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں پہلی بار NIH میں قائم ایک ادارے نیشنل کینسر رجسٹری  نے کینسر کے مرض میں مبتلا مریضوں کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ شائع کی ،ان چشم کشا اعداد و شمار کیمطابق 2015سے 2019 کے درمیان پاکستان میں 2لاکھ 69ہزار  کینسر کیسز رپورٹ ہوئے ،جن میں 47 فیصد مرد جبکہ 53 فیصد مریض خواتین شامل تھیں ان میں کم عمر بچے اور بچیاں بھی شامل  ہیں  ۔اس ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ لوگ بریسٹ کینسر میں مبتلا ہیں اور کینسر کی یہ قسم مرد و خواتین دونوں میں  یکساں طور پر زیادہ ہے جن کی تعداد مجموعی کیسز کا 38فیصد بنتی ہے ، جبکہ 30 فیصد افراد کو اس کیٹگری میں شامل کیا گیا جہاں مریضوں میں مختلف اقسام کے کینسر پائے گئے۔یہ لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان میں مرد حضرات بریسٹ کینسر کے بعد سب سے زیادہ منہ کے کینسر کا شکار بن رہے ہیں جس کی وجوہات میں سگریٹ نوشی  اور چھالیہ کا استعمال نمایاں ہے۔مردوں میں دوسرے نمبر پر جگر ، اسکے بعد بڑی آنت ، پھر پھیپھڑوں اور پروسٹیٹ کینسر سمیت دماغی کینسر نمایاں ہیں ۔ خواتین میں بریسٹ کے بعد منہ ، پھر بڑی آنت ، پھر جگر اور آخر میں پھیپھڑوں کے کینسر کیسز ان پانچ سالوں میں  سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے ۔

نو عمر بچوں میں بلڈ کینسر کے کیسز جبکہ  نو عمر نوجوانوں میں ہڈیوں اور بون میرو  کے کینسر کی تشخیص سامنے آئی ۔بدقسمتی سے پاکستان سمیت کم آمدنی والے ممالک میں طرز زندگی میں تبدیلی ، حفظان صحت کے فقدان، اور صحت کی سہولیات  کی عدم دستیابی کینسر کے بڑھنے کی وجوہات میں شامل ہیں ۔ لیکن یہاں  ایک باعث اطمینان بخش  پہلو پاکستان کے حوالے سے یہ ہے کہ یہاں کینسر کے نئے اداروں کا قیام عمل میں آرہا ہے اور پہلے سےموجود ادارے جیسے کہ شوکت خانم ہسپتال ،جو کینسر کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے ناصرف دنیا بھر میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے بلکہ پاکستان میں زکوۃ اور عطیات سے چلنے والا کینسرکے  علاج کایہ  جدید ترین ادارہ ہے۔ اس ادارے کی سربراہی ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو گذشتہ تین دہائیوں سے شوکت خانم کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہے، اس شخصیت کا نام  ڈاکٹر فیصل سلطان  ہے۔پاکستانی عوام کے ذہنوں میں ڈاکٹر فیصل سلطان کا نام یقینا نقش ہوگا جنہوں نے کوویڈ -19 کے  دوران اگست 2020میں  عمران خان کی سابق حکومت میں مشیر برائے صحت کے عہدے کا چارج سنبھالا اور یہ انہی کا کریڈٹ تھا  کہ انھوں نے کوویڈ 19کے زمانے میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی  پر نہایت کامیابی کیساتھ عملدرآمد یقینی بنایا ، جو انکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان کو ڈاکٹر فیصل سلطان جیسے ہیلتھ پروفیشنلز  کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی آنیوالی نسلوں  کیلئے صحت کا ایک ایسا ڈھانچہ کھڑا کیا جاسکے  جہاں امیر و غریب کی تفریق کے بغیر معیاری اور یکساں علاج کی سہولیات فراہم ہوسکیں ۔

عمران خان اور شوکت خانم ہسپتال۔۔۔ پاکستان کی پہچان  

1992کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان نے اپنی تمام 90ہزار پاونڈ کی رقم اپنے دیرینہ خواب یعنی پاکستانیوں کیلئے  پہلےجد ید کینسر ہسپتال شوکت خانم کی تعمیر کیلئے عطیہ کردی  پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستانی عوام کیساتھ دنیا بھر کی مشہور شخصیات نے عمران خان کا بھرپور ساتھ دیا ان میں سابقہ برطانوی شہزادی  لیڈی ڈیانا بھی نمایاں تھیں جنہوں نے ہسپتال کی تعمیر  کیلئے چندہ جمع کرنے کی  مہم کیلئے دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا ۔

(سابق برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا شوکت خانم ہسپتال کیلئے پاکستان میں چندہ جمع کرنے کی تقریب کے دوران  موجود ہیں )

 پاکستانی عوام نے دیکھا کہ  بالاخر 29دسمبر 1994 کا وہ دن بھی  آگیا جس کا خواب عمران خان نے دیکھا تھا اس دن  پاکستان کے پہلے جدید کینسر ہسپتال شوکت خانم کا افتتاح کردیا گیا  ، عمران خان نے  اس تاریخی افتتاح کیلئے ہسپتال  میں داخل ہونے والی  کینسر کی سب سے پہلی مریضہ سمیرا یوسف کے ہاتھوں شوکت خانم ہسپتال کا افتتاح کرووانے کا فیصلہ کیا ۔

(29دسمبر 1994عمران خان  شوکت خانم ہسپتال میں داخل ہونیوالی پہلی مریضہ سیمرا یوسف کے ہاتھوں شوکت خانم ہسپتال کا افتتاح کروارہے ہیں) 

3 دہائیوں کا سفر ۔۔۔ عزت نفس مجروع کیے بغیر یکساں علاج کی فراہمی

تین دہائیوں کا سفر طے کرنے کے بعد آج شوکت خانم ہسپتال لاہور ،پشاور اور اب کراچی مین  پاکستانی عوام کو کینسر کی تشخیص و علاج کی  جدید طبی سہولیات فراہم کرنے جارہا ہے۔ یہ اعزاز شوکت خانم کو ہی جاتا ہے کہ اس نے پنجاب (جو آبادی کے لحاظ سے سب سے برا صوبہ ہے )یہاں پاکستان کی پہلی کینسر رجسٹری قائم کی ہے ۔اسکے علاوہ پاکستان کا سب سےبڑا کلینیکل اینڈر ریڈیشن  شعبہ اسی ہسپتال میں قائم ہے جہاں تیس سالوں کے دوران ایک لاکھ سے زائد  ریڈیو تھرپی سیشن کیے جاچکے ہیں ،250 بون میرو ٹرانسپلانٹ  پروسیجرز  اور ایک لاکھ سے زائد کیمیو تھرپی سیشن بھی ابتک  اسی ہسپتال میں  کیے گئے ہیں ۔ شوکت خانم میں پاکستان کا پہلا PET CT سکین سسٹم بھی  نصب کیا گیا ہے۔ بروقت تشخیص کینسر کے علاج میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے  اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے شوکت خانم ہسپتال میں گذشتہ 30سالوں کے دوران 87ملین سے زائد پیتھالوجی لیبارٹری ٹیسٹ  کیے جاچکے ہیں  ۔پاکستان  کو کینسر کے حوالے سے مستقبل میں جن چیلنجز کا سامنا ہوگا اس کو سامنے رکھتے ہوئے نوجوان طبی عملے کو تیار کیا جارہا ہے ابتک 500سے زائد فزیشن اپنی پوسٹ گریجویشن ٹریننگ مکمل کرچکے ہیں ۔ شوکت خانم ہسپتال پاکستان کا واحد ہسپتال ہے جہاں آوٹ ڈور مریضوں  کی تعداد سب سے زائد ہے  جہاں ابتک 4ملین سے  زائد مریض علاج کیلئے او پی ڈی کا رخ کرچکے ہیں ۔شوکت خانم میں 2لاکھ 36ہزار سے زائد سرجیکل آپریشنز کیے جاچکے ہیں ۔ پاکستان میں بریسٹ کینسر کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے اس حوالے سے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی بریسٹ کینسر آگاہی مہم چلانے کا اعزاز بھی شوکت خانم ہسپتال کو ہی حاصل ہے۔

شوکت خانم ہسپتال میں  ہر سال 75 فیصد کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کی جاتا ہے ابتک مریضوں کے علاج  پر آنیوالے  خرچ کا تخمینہ 102بلین روپے سے زائد ہے، اور یہ سب پاکستانی عوام کے عطیات کی بدولت ہی ممکن ہوپایا ہے۔دسمبر 1994 میں شوکت خانم ہسپتال نے  لاہور میں باقاعدہ کام کا آغاز کیا ،کینسر  کی تشخیص و علاج تک زیادہ سے زیادہ لوگ کی رسائی ممکن بنانے کیلئے 2015میں پشاور میں شوکت خانم ہسپتال نے کام کا آغاز کیا وہ وقت دور نہیں جب بلوچستان اور سندھ کے عوام کو کینسر کی بروقت تشخیص اور علاج کیلئے جدید سہولیات سےآراستہ کینسر ہسپتال کی سہولتیں کراچی میں میسر آسکیں گی ۔ کراچی میں ہسپتال کی تعمیراپنے  آخری مراحل میں ہے ، پاکستانی عوام نے جیسے لاہور میں ہسپتال کی تعمیر کیلئے اپنے عطیات   دئیے  اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہا تو عنقریب کراچی میں ( جو لاہور کے مقابلے میں دوگناصلاحیت  کا حامل  ہسپتال ہے )کینسر کے مریضوں کیلئے تشخیص و علاج کا سلسلہ شروع کردے گا ۔

شوکت خانم ہسپتال کے کوریڈور امیدن کی کرن  

عمران خان نے دسمبر 1994میں  میں شوکت خانم ہسپتال کا افتتاح کینسر  کے مرض سے لڑنے والی ایک کم عمر بچی سمیرا یوسف سےکروایا تھا ۔افتتاحی تقریب میں عمران خان کے کہے ہوئے  یہ الفاظ آج بھی شوکت خانم ہسپتال کی عملی تصویر ہیں :"  جو بھی آدمی اس ہسپتال میں ایک دفعہ داخل ہوتا ہے آپ نے اسے انسان سمجھنا ہے اگر آپ نے اسکے کپڑے ٹھیک نہ دیکھے  آپ  نے دیکھا کہ اسنے پھٹے ہوئے کپڑے پہنے ہیں  اگر آپ نے دیکھا کہ اسے انگریزی نہیں بولنی آتی تو  آپ نے اسکی فکر نہیں کرنی  آپ نے یہ دیکھنا  ہے کہ ایک انسان آیا ہے ہسپتال کے اندر ۔۔۔" آج کوئی  بھی شخص ہسپتال آکر اپنی انکھوں  سے دیکھ سکتا ہے کہ تین دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی شوکت خانم ہسپتال کے درو دیوار اس  بات کا عملی ثبوت  پیش کررہے ہیں ،مریض اور اسکے ساتھ آنیوالے تیمارداروں کو حقیقی معنوں میں انسان سمجھا جاتا ہے!

آج پاکستان میں شوکت خانم ہسپتال اپنے توسیعی منصوبے کے تحت لاہور اور پشاور کے بعد اب پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں قائم  ہونے جارہا ہے ، جس سے سندھ اور بلوچستان کے دور افتادہ عوام کو کینسر کی بروقت  تشخیص و علاج کی سہولیات ایک چھت تلے میسر آسکیں گی ۔

ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کی 30سالوں پر محیط خدمات۔۔۔پاکستان کا اعزاز

شوکت خانم ہسپتال میں آنیوالا ہر مریض امید کی ایک نئی کرن کیساتھ آتا ہے وہ کرن زندگی کی طرف دوبارہ سے لوٹنا ہے ، شوکت خانم یہ امید ٹوٹنے نہیں دیتا ، ہزاروں ہیلتھ پروفیشنلز کی موجودگی میں متحرک ٹیمیں دن رات کینسر کے مریضوں کے علاج ومعالجہ میں مصروف عمل ہیں ۔ شوکت خانم ہسپتال کا کوئی بھی درو دیوار ہو وہاں آپ کو ایک چیز کا ثبوت جگہ جگہ نظر آئے گا اور وہ ہے کسی رنگ و نسل ، لسانی شناخت ، غریب اورامیر کی تفریق کیے بغیر یکساں برتاؤ، شوکت خانم ہسپتال کی یہی  خوبی اسے پاکستان کے کسی بھی دوسرےہسپتال سے ممتاز کرتی ہے۔ سی ای اوڈاکٹر فیصل سلطان اور چیف میڈیکل آفیسر  ڈاکٹر عاصم یوسف  نے شوکت خانم ہسپتال کی صورت  پاکستان کوکینسر کا جدید ہسپتال  دیا ہے جہاں 75فیصد مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے ۔ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف  تین دہائیوں سے کینسر کی تشخیص و علاج کی جدید سہولیات  تک پاکستانی عوام کی رسائی کو یقینی بنانے میں دن رات کام کررہے ہیں ، یہ  دنیا کے مایہ ناز انہی دونوں ہیلتھ پروفیشنلز کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کو دو دفعہ جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل کی جانب سے  سڑ ٹفکیٹ کی سند دی جاچکی ہے۔

سب سے اولین ترجیح مریض۔۔۔ امید کی کرن کبھی بجھنے نہ پائے!

 یہ اصول سی ای او شوکت خانم  ڈاکٹر فیصل سلطان کی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ،جنہوں نے اپنی زندگی کینسر کے مریضوں کیلئے عالمی معیار کے ہسپتال کو کھڑا کرنے میں صرف کردی ۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے ہسپتال  اور طبی عملے کیلئے تمام  ترپالیسیوں کی بنیاد صرف ایک نقطے کو بنایا ہے"سب سے اولین ترجیح مریض "۔ شوکت خانم میں حقیقی معنوں میں مریض  ہی  سیکیورٹی گارڈ سے لیکر طبی عملے بشمول  سی ای او تک سب کی اولین ترجیح ہے۔ یہ سفر جاری ہے اور پاکستان کی آنیوالی نسلوں کیلئے ایک ایسا ادارہ قائم ہوچکا ہے جو کینسر کی بروقت تشخیص و علاج کیلئے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کررہا ہے ، بطور پاکستانی ہمارا فرض ہے کہ ورلڈ کینسر ڈے پر اس عزم کا اعادہ کریں کہ جو امید کی  شمع آج سے 30سال قبل  جلائی گئی تھی اسے کبھی بجھنے نہیں دیں گی یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے ہم کینسر کے مرض سے لڑتے ہوئے ہزاروں انسانوں کی جان بچا سکتے ہیں !

مزیدخبریں