پاکستان کی سیاست ہمیشہ سے غیر متوقع موڑ لیتی رہی ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ (ق) اور دیگر جماعتوں کا عروج و زوال ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ رہا ہے، اور اب تحریک انصاف بھی اسی راہ پر گامزن نظر آتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، سیاسی جوڑ توڑ، ادارہ جاتی دباؤ، اور داخلی انتشار نے اس جماعت کو ایک سنگین بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، تحریک انصاف کے اندر سے بڑی تعداد میں اہم رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ خاص طور پر پانچ اہم وکلا، جن میں قانونی ماہرین شامل ہیں، پارٹی سے علیحدہ ہونے کو تیار ہیں۔ اس کے علاوہ، پنجاب سے 21 ایم پی اے اور وفاق سے 15 ایم این ایز بھی تحریک انصاف سے کنارہ کشی اختیار کرنے کو ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس علیحدگی کا باقاعدہ اعلان 9 مئی کے فیصلے کے بعد متوقع ہے۔
خیبرپختونخوا تحریک انصاف کا مضبوط گڑھ رہا ہے، لیکن یہاں بھی اختلافات واضح ہو چکے ہیں۔ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ایک نیا سیاسی دھڑا ابھر رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں 27 ایم پی ایز پر مشتمل یہ گروپ عمران خان سے فاصلہ اختیار کر سکتا ہے اور علی امین گنڈا پور کے حق میں کھڑا ہو سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کی حکومت کو سپورٹ کرنے کے لئے تیار نظر آتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو مکمل طور پر تنہا کر دیا جائے اور اس کی باقی ماندہ قیادت کو بھی بکھیر دیا جائے۔
عمران خان کے لئے اس وقت دو آپشنز باقی ہیں۔ یا تو وہ ملک چھوڑ کر بیرون ملک جا سکتے ہیں اور وقتی طور پر سیاسی منظرنامے سے غائب ہو سکتے ہیں، یا پھر اپنے بیانات اور مؤقف سے پیچھے ہٹ کر اپنی سیاسی غلطیوں کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ تاہم، عمران خان کی سیاسی شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، دوسرا آپشن ان کے لئے مشکل دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب، موجودہ حکومت کی گرفت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ پیپلز پارٹی کے لئے بھی خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے 2023 کے انتخابات کے بعد یہ امید لگائی تھی کہ اگلی حکومت اس کی ہوگی اور بلاول بھٹو زرداری وزیر اعظم بن سکیں گے، لیکن اب یہ خواب بکھرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ حکومت میں شامل مسلم لیگ (ن) اور دیگر اتحادی جماعتوں نے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے، جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر پیچھے دھکیلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو پیپلز پارٹی کو آئندہ انتخابات میں سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور اس کے لئے اپنے سیاسی مستقبل کی نئی حکمت عملی ترتیب دینا ناگزیر ہو جائے گا۔ پاکستان کی سیاست اس وقت ایک نیا رخ اختیار کر رہی ہے۔ تحریک انصاف، جو کبھی عوامی حمایت کا ایک بڑا مرکز تھی، اب داخلی انتشار اور بیرونی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادی مضبوط پوزیشن میں آ چکے ہیں، جب کہ پیپلز پارٹی بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پاکستان کی سیاست کا اگلا موڑ کیا ہوگا، لیکن ایک بات واضح ہے۔ سیاست میں کوئی بھی جماعت ہمیشہ کے لئے ناقابل شکست نہیں ہوتی۔ جو پارٹیاں عوامی مسائل کے حل کے بجائے ذاتی اور جماعتی مفادات میں الجھتی ہیں، وہ جلد یا بدیر زوال پذیر ہو جاتی ہیں۔ مسلم لیگ (ق) اور اب تحریک انصاف اس کی تازہ مثالیں ہیں۔ مستقبل میں بھی جو جماعت عوام کی حقیقی امنگوں کو نظرانداز کرے گی، وہ اسی انجام سے دوچار ہوگی۔
تحریک انصاف کا زوال ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر عمران خان کوئی غیر متوقع فیصلہ نہیں کرتے، تو پارٹی کا شیرازہ بکھرنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ خیبرپختونخوا میں علی امین گنڈاپور کا ابھرتا ہوا کردار، پنجاب اور وفاق میں پارٹی کے اہم رہنماؤں کی علیحدگی، اور حکومت کی بڑھتی ہوئی گرفت — یہ سب عوامل تحریک انصاف کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔