اس سے پہلے کہ پانچ جولائی کے سیاہ دن کے بعد پاکستان میں رُونما ہونے والی معاشرتی اور سماجی تبدیلیوں پر لب کشائی کروں، پس منظر اور سیاق و سباق کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس سے کچھ پہلے کی بھی بات کر لی جائے۔
اپریل 1977: ذوالفقار علی بھٹو نے مذہبی دباؤ پر شراب نوشی، کیسینوز، نائٹ کلبز، اور بازارِ حُسن پر پابندی لگائی۔
فروری 1979: جنرل ضیاالحق نے Hudood Ordinance نافذ کیا، جس سے ان سرگرمیوں پر مکمل قانونی ممانعت اور سزاؤں کا نفاذ ہوا۔
اس میں کوئی دو رائے ممکن ہی نہیں کہ 1977 کی پابندیوں سے پہلے تک کا پاکستان آج کے پاکستان سے زیادہ روشن خیال تھا۔
البتہ پاکستان کے ایک مکمل بنیاد پرست ریاست بننے کا حتمی فیصلہ 5 جولائی کے بعد ہوا۔ بنیاد یقیناً پہلے رکھی گئی، مگر عملدرآمد مارشل لاء کے دورِ حکومت میں شروع ہوا۔
اسی دن کے بعد سے یہاں عسکریت پسندی پروموٹ ہوئی۔ فرقہ واریت کی لہر گو پہلے سے موجود تھی، مگر ایسی کبھی نہ تھی جو 5 جولائی کے بعد سے شروع ہوئی۔
سندھ، پنجاب، پختونخوا، بلوچستان سمیت ہر جگہ دینی مدارس کی یلغار ہوئی۔ عسکریت پسندی اور دہشتگردی پروموٹ ہوئیں۔ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔
بہت کم عمری میں (عمر یاد نہیں) چونیاں جیسے شہر میں تھیٹر دیکھے۔ ڈانس دیکھے۔ دیہاتی شادیوں میں گدا پڑتے دیکھا۔
مگر چونکہ یہ سب سرگرمیاں پاکستان کے "اسلام کا قلعہ" بننے میں رکاوٹ سمجھی جا رہی تھیں، لہٰذا ان سب پر پابندی لگی۔
جنرل ضیا کی تخلیق کردہ جماعت اور لیڈرشپ – مسلم لیگ نواز اور میاں محمد نواز شریف صاحب، جو میثاقِ جمہوریت کے بعد سے ہمارے اتحادی ہیں – ان کے دور میں لاہور کے سب سے بڑے میلے "میلہ چراغاں" پر پابندی لگی، بسنت پر پابندی لگی، میلوں اور کبڈی کے مقابلوں پر پابندی لگی۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ نے جمہوریت پر کبھی اپنی گرفت ڈھیلی نہیں پڑنے دی۔
اس پکڑ کو مضبوط رکھنے کے لئے محترمہ شہید اور نواز شریف کی متعدد حکومتیں ختم کی گئیں۔ میاں صاحب کو متعدد بار حکومت سے بے دخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔
5 جولائی سے ذرا پہلے سے لے کر آج تک، نہ پاکستانی عوام کو یہ سمجھ آ سکی کہ وہ کوئی معتدل مزاج مسلم جمہوریہ ہیں، نہ ہماری جماعت کو یہ سمجھ آ سکی کہ ہم کوئی دینی جماعت ہیں یا پھر ایک روشن خیال جمہوری جماعت ہیں۔
ہم مذہب، روشن خیالی اور جمہوریت کے درمیان کنفیوژڈ کھڑے ہیں۔
ہمارا شہید لیڈر، جس نے اسلامی سربراہی کانفرنس بلا کر اسلامک بلاک بنانے کی کوشش کی، اس کے مسلمان ہونے پر شک کیا گیا اور اس کے عدالتی قتل کے بعد اس کے ختنے چیک کروائے گئے۔
بہرحال اس سب کے باوجود ہم بطور جماعت کوئی واضح بیانیہ، کوئی واضح نظریہ نہیں پیش کر سکے کہ ہم ایک لبرل، سیکولر، روشن خیال، بائیں بازو کی جماعت ہیں یا پھر دائیں بازو کی کوئی بنیاد پرست مذہبی جماعت۔
ہماری شہید لیڈر کو مغرب کا ایجنٹ قرار دیا گیا۔ شادی جیسے انتہائی ذاتی فیصلے پر پراپیگنڈا کیا گیا۔ اس کے ایمان اور کردار پر بھی گھٹیا سوال اٹھوائے گئے۔
یہ سب جنرل ضیا کے مارشل لاء کے بعد کی پیش قدمی تھی۔ وہ مولوی، جنھوں نے بھٹو شہید کی حکومت اور اسمبلی کو بلیک میل کر کے مختلف فیصلے کروائے، وہ تاریخ کے سیاہ ترین دور میں ایک فوجی آمر کے کَمین بنے رہے۔
پانچ جولائی کے منحوس دن کے بعد ہی سرد جنگ میں ہم امریکہ اور سعودیہ کے آلہ کار بنے۔ ہمارے جرنیلوں نے نام نہاد افغان جہاد میں ہم سے امریکی پراکسی کا رول پلے کروایا۔
اسی منحوس دن کے بعد یہاں سعودی اور (بعض دیگر عرب ریاستوں) اور ایرانی پراکسیز نے جنم لیا۔ تکفیر اور فرقہ واریت عروج پر پہنچی۔
آج جنھیں خوارج کے نام سے پکارا جا رہا ہے، یہ کانٹوں بھرے درخت بھی ہماری پراکسیز کی دین ہیں۔ جس کی ہمارے اداروں نے پرورش کی۔ یہ بھی 5 جولائی کے بعد کی ڈویلپمنٹ ہے۔
5 جولائی کو ہی ایک بار پھر عوام کو بتایا گیا کہ ان کی پسند ناپسند کی کوئی حیثیت نہیں۔
چند برس پہلے میری ایک کزن کے میاں، جو اُس وقت حاضر سروس کرنل تھے اور بڑے ہی کریئر آفیسر تھے (مگر بدقسمتی سے آگے نہ بڑھ سکے، تو ریٹائرمنٹ لینا پڑی)، وہ اپنے دفتر میں بیٹھے نیازی حکومت کے دوران فرمایا کرتے تھے کہ:
"اب ہمیں (سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو) مارشل لاء لگانے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ ہم نے ماڈل ہی ایسا بنا لیا ہے کہ ہم عدالتوں سے ہی سب فیصلے لے لیتے ہیں۔"
وہ پہلے مشرف کے، پھر نواز شریف کے، اور اس کے بعد سے عمران خان کے حمایتی ہوا کرتے تھے۔
ہماری جماعت، جو اسی فارمولے کی تائید و توثیق میں آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، یہ واقعہ اس کے صاحبِ دانش، صاحبِ رائے اور صاحبِ بصیرت افراد کے لئے نصیحت کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔
5 جولائی کے سیاہ دن سے آج تک ہم نے اُلٹے پاؤں سفر طے کیا ہے۔
ہم ہر گزرتے دن کے بعد اس ریاست کو بنیاد پرست بناتے چلے گئے ہیں۔ ہر آنے والے نے مذہب کو اقتدار کی بیساکھی کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی دیرپا کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
پروجیکٹ عمران احمد خان نیازی بھی 5 جولائی کے بعد کی پیش رفت ہے۔
اس نے بھی اپنی سیاست کو "اسلامک ٹچ" دیا اور معروف لیڈر بنا۔
اور پھر اسلامک ٹچ والوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور قوت کے ہاتھوں رسوا ہو کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا۔
پاکستان میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پروجیکٹ عمران 2002 میں شروع ہوا۔
ہماری موجودہ قیادت بھی اسی طرف اشارہ کرتے کہہ چکی کہ ہم سیاست کو 2002 والی پوزیشن پر لے کر جانا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے پہلے پروجیکٹ عمران موجود نہیں تھا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ پروجیکٹ بھی جنرل ضیا اپنی زندگی میں ہی بطور صدرِ پاکستان، عمران کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس کروا کر شروع کروا چکا تھا۔
وہ بھی یہ سمجھتا تھا کہ سپورٹس ہیرو کو شہید محترمہ کے مقابلے میں نواز شریف کے متبادل کے طور پر بہتر طریقے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔
البتہ اس وقت حالات ایسے نہ تھے۔ ضیا مر گیا، اور یہ سلسلہ کچھ عرصے کے لئے التوا کا شکار ہو گیا۔
درحقیقت یہ محض اتفاق نہیں کہ ’پروجیکٹ عمران‘ کا آغاز ضیاالحق کے دور میں ہوا۔ ایک ایسا آمر، جو 26 ہزار فلسطینیوں کے قتل میں ملوث رہا۔ ہرچند کہ جرنل ضیا 17 اگست 1988 کو مر گیا تھا مگر وہی عمران کو پلیٹ فارم فراہم کر کے گیا۔
یہیں سے کھیل میڈیا اور مذہب کو سیاسی ایجنڈے کے تحت استعمال کرنے کی بنیاد پڑتی ہے۔ حکیم سعید جیسے لوگ بھی بعد میں عمران کے عزائم پر سوال اٹھاتے رہے۔ یہ محض سیاست نہیں، بلکہ ایک طویل المدت منصوبہ بندی کا حصہ تھا، جس کا مقصد عوامی ذہن سازی اور عالمی مفادات کے تابع نیا سیاسی چہرہ متعارف کرانا تھا۔ تاہم جب تک پھر محترمہ شہید نہیں ہو گئیں، اسے کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
لہٰذا یہ سوچ قطعی طور پر غلط ہے کہ پروجیکٹ عمران 2002 میں شروع ہوا یا اسے ختم کرنے کے لئے ہمیں سیاست کو 2002 والی پوزیشن پر لانا ضروری ہے۔
یہ دونوں باتیں اور اندازے غلط ہیں۔
اگر پاکستان کو کوئی ترقی پسند، پروگریسو جمہوری ریاست بننا ہے تو ہمیں اسے 1977 میں واپس جا کر غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔
ہمیں بطور سیاسی جماعت درمیان والی سوچ سے نکل کر اس ملک کی عوام کو واضح لائن دینی ہوگی کہ ہم بنیاد پرستی کے حق میں نہیں ہیں۔
ہم نے جو جوئے اور شراب کے اڈے بند کروائے اور بالخصوص جو بازارِ حُسن بند کروائے، ان کے بند کرنے سے ہم نے معاشرے کے گٹر بند کیے، اور گندا پانی گھر گھر داخل کروایا۔
آج ہر علاقے میں "مساج سنٹر" بنے پڑے ہیں۔ کسی کو نہیں پتا گلی محلے میں شریف لوگوں کے گھروں کے ساتھ کوئی دھندے والا گھر بھی بیٹھا ہے۔
یہ سب فیصلے عقل و شعور سے عاری فیصلے تھے۔ ان کی ناکامی دیوار پر لکھی ہے، ثابت شدہ ہے۔
ہم کہ جن کی قیادت تمام عمر کمزور اور جانبدار عدلیہ کی وجہ سے مشکلات برداشت کرتی رہی، آج چھبیسویں ترمیم لے کر بیٹھی ہے۔
کل جب ہم اقتدار میں نہیں رہیں گے تو ہم کس کے پاس جائیں گے؟
ہم نے چند کے علاوہ ضیا دور کے بعد ہونے والی بیشتر خرابیوں پر کوئی مزاحمت نہیں کی۔
ہمیں بطور حقیقی جمہوری جماعت اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
سندھ جو نسبتاً روشن خیال صوبہ تھا ضیا دور کے بعد سے اب تک وہاں پانچ ہزار مدارس بن چکے ہیں، جو ظاہر ہے کہ وہاں کوئی اسلام کا روشن اور معتدل چہرہ پیش نہیں کر رہے۔
ہم نے ان کے خلاف بھی کوئی خاطر خواہ مزاحمت نہیں کی۔
جنرل ضیا سے پہلے آمر مذہبی انتہا پسند نہیں تھے۔ لہٰذا انھوں نے پاکستانی سماج کو اس طرح نقصان نہیں پہنچایا جیسا نقصان ضیا دور کے بعد پہنچا۔
ہمیں کُھلے دل، روشن دماغ کے ساتھ اپنے نظریات کی تصحیح کرنے کی ضرورت ہے!