اگر ملٹری کورٹ کو عدلیہ تسلیم کرتے ہیں تو اس کے نتائج کچھ اور ہوں گے: جسٹس محمد علی مظہر

آپ ملٹری کورٹ کو عدلیہ تسلیم کرتے ہیں تو اس کے نتائج کچھ اور ہوں گے،آرمی کا کیا کام ہوتا ہے؟ آرمی کے کام میں ایگزیکٹو کہاں سے آگیا؟ جسٹس محمد علی مظہر کا وکیل عابد زبیری سے سوال،ملٹری کورٹ پر ایک یہ اعتراض ہے کہ ملٹری ٹرائل غیر جانبدار نہیں ہوتا، فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیس میں ریمارکس

01:35 PM, 5 Mar, 2025

نیوز ڈیسک

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے کہا ہے کہ ملٹری کورٹ پر ایک یہ اعتراض ہے کہ ملٹری ٹرائل غیر جانبدار نہیں ہوتا، کیا آپ ملٹری کورٹ کا عدلیہ تسلیم کرتے ہیں؟ اگر عدلیہ تسلیم کرتے ہیں تو اس کے نتائج کچھ اور ہوں گے۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی لارجر بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

درخواست گزار بشریٰ قمر کے وکیل عابد زبیری نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کا ذکر کیا تھا، اٹارنی جنرل کی تحریری یقین دہانیوں کا ذکر 5 رکنی بینچ کے فیصلے میں موجود ہے، تحریری یقین دہانیاں جن متفرق درخواستوں کے ذریعے کرائی گئیں ان کے نمبر بھی فیصلے کا حصہ ہیں۔

ایف بی علی کیس کا ذکر کرتے ہوئے وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ ایف علی کا نام برگیڈیئر فرخ بخت علی تھا، جو 1965 کی جنگ کے ہیرو تھے، ایف بی علی پر ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا آفس پر اثر رسوخ کا الزام لگا، ایک ریٹائرڈ شخص کیسے اپنا آفس کو استعمال کر سکتا ہے، جنرل ضیا الحق نے ایف بی علی کا ملٹری ٹرائل کیا اور 1978 میں ایف بی علی کو چھوڑ دیا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جو کام ایف بی علی کرنا چاہ رہا تھا وہ ضیاالحق نے کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ملٹری ٹرائل کے لیے مکمل پروسیجر فراہم کیا گیا ہے، پروسیجر میں بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں فراہم پروسیجر پر عمل نہ ہونا الگ بات ہے، پروسیجر پر عمل نہ ہو تو پھر اس کی دستیابی کا کوئی فائدہ نہیں، ملٹری کورٹ پر 2 اعتراض ہیں، ایک اعتراض ملٹری ٹرائل غیر جانبدار نہیں ہوتا جبکہ دوسرا اعتراض قانونی تجربہ نہ ہونے کا لگایا گیا۔

عابد زبیری نے کہا کہ ملٹری کورٹ ایگزیکٹو کا حصہ ہے، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرمی کا کیا کام ہوتا ہے، آرمی کے کام میں ایگزیکٹو کہاں سے آگیا، اس پر عابد زبیری نے جواب دیا کہ آرمی کا کام سرحد پر لڑنا ہے جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فوج کا ملک کا دفاع کرنا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ کیا آپ ملٹری کورٹ کا عدلیہ تسلیم کرتے ہیں؟ اگر عدلیہ تسلیم کرتے ہیں تو اس کے نتائج کچھ اور ہوں گے، اگر ملٹری کورٹ جوڈیشری ہے تو پھر وہ عدلیہ ہے، جسٹس منیب نے ملٹری کورٹ کو عدلیہ نہیں لکھا۔

مزیدخبریں