نیا دور نیوز ڈیسک:۔
نیا دور نیوز ڈیسک کے مطابق جی ایچ کیو حملہ اور سانحہ 9 مئی سمیت 13 کیسز کی سماعت بھی 8 جنوری تک ملتوی ،190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ بھی 13 جنوری کو سنایا جائیگا۔عدالتی عملے نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری کو آگاہ کر دیا۔ خالد یوسف چوہدری نے کہا کہ کورٹ سٹاف نے بتایا ہے کہ فیصلہ آج نہیں سنایا جائے گا، عدالتی عملے نے بتایا ہے فیصلہ سنانے کی اگلی تاریخ آج عدالت میں مقرر کی جائے گی۔
عدالتی عملے نے نیب اور عمران خان کے وکیل کو آگاہ کیا کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کے لیے 13 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
کیس کی سماعت اڈیالہ جیل کے بجائے نیب کورٹ جی الیون میں ہوئی۔ فیصلہ سنانے کے لیے عدالت میں ملزمان کی حاضری ضروری ہوتی ہے تاہم بانی پی ٹی آئی کے جیل میں ہونے کی وجہ سے جی الیون سماعت میں ملزمان کی حاضری ممکن نہیں ہو سکی۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ سنانے کے لیے نئی تاریخ دیے جانے کا امکان ہے۔
جی ایچ کیو حملے کا کیس:۔
نیا دور نیوز ڈیسک کے مطابق جی ایچ کیو حملہ اور سانحہ 9 مئی سمیت 13 کیسز کی سماعت 8 جنوری تک ملتوی کر دی گئی، تمام ملزمان کی عدالت پیشی حاضری لگائی گئی۔عدالت کے جج امجد علی شاہ ٹریننگ کے باعث چھٹی پر ہیں اس لیے آج اڈیالہ جیل میں کسی بھی مقدمہ کی سماعت نہیں ہوگی، تمام ملزمان کو آج کے لیے حاضری سے استثنا دیا گیا ہے ۔
توشہ خانہ ٹو کیس کا مزید انکوائری کیس قرار دیا جانا:۔
ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس ٹو کو مزید انکوائری کا کیس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلغاری سیٹ کا تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے پر کارروائی بنتی ہی نہیں، رولز کے مطابق تحفے کی رسید جمع نہ کرانے پر کارروائی کی جا سکتی تھی، جب تحفہ جمع نہ کرانے پر کارروائی ہو ہی نہیں سکتی تو یہ مزید انکوائری کا کیس ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ پر سعودی ولی عہد سے بلغاری جیولری سیٹ کا تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کا الزام ہے، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے خلاف تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے پر کریمنل کارروائی شروع کی گئی، پراسیکیوٹر کے مطابق تحفہ جمع نہ کروا کر بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ نے پروسیجر کی خلاف ورزی کی، پراسیکیوٹر کے مطابق تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کروا کر کرمنل بریچ آف ٹرسٹ کیا گیا۔
190 ملین پاؤنڈ کیس کی نوعیت اور احوال پر ایک نظر :۔
نیا دور نیوز ڈیسک کے مطابق کیس کے درج ذیل پہلو ہیں جن میں کیس کے مختلف احوال بھی درج کئے گئے ہیں۔
1. 190ملین پاؤنڈ ریفرنس کا جیل ٹرائل ایک سال میں مکمل ہوا ہے
2. بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف یہ واحد کیس ہے جس کا ٹرائل ایک سال تک چلا
3. نیب نے 13 نومبر 2023کو 190ملین پاؤنڈ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری ڈالی
4. نیب نے 17 دن تک بانی پی ٹی آئی سے اڈیالا جیل میں تفتیش کی
5. یکم دسمبر2023کو نیب نے 190ملین پاؤنڈ ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا
6. ریفرنس فائل ہونےکے بعد بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے اڈیالاجیل میں تفتیش کی گئی
7. عدالت نے 27 فروری 2024 کو بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی
8. 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں 100 سے زائد سماعتیں ہوئیں
9. نیب نے پہلے 59 گواہان کی فہرست عدالت میں جمع کرائی
10. 59 گواہان میں سے 24 گواہان کو نیب نے ترک کیا
11. ریفرنس میں کل 35 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے
12. وکلا صفائی نے تمام 35 گواہان پر جرح مکمل کی
13. ریفرنس کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم پر بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے 38 سماعتوں کے بعد جرح مکمل کی
14. ریفرنس میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ کےپی پرویز خٹک گواہوں میں شامل ہوئے
15. سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، القادر یونیورسٹی کے چیف فنانشل افسر بھی گواہان میں شامل تھے
16. عدالت نے ذلفی بخاری، فرحت شہزادی، مرزا شہزاد اکبر اور ضیاءالمصطفیٰ نسیم سمیت 6 ملزمان کو اشتہاری قرار دیا
17. اشتہاری ملزمان کی جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے کا فیصلہ سنایا تھا
18. 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کی تھی
19. بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری ٹرائل کورٹ نے منظور کی تھی
20. ٹرائل کے دوران بانی پی ٹی آئی نے 16عدالتی گواہان کی فہرست عدالت میں جمع کرائی
21. عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی عدالتی گواہان کو بلانے کی درخواست مسترد کی تھی
22. بانی پی ٹی آئی نے عدالت سے اپنے حق میں گواہ پیش کرنے کی درخواست کی تھی
23. بعد میں بانی پی ٹی آئی گواہ پیش کرنے کے بیان سے پیچھے ہٹ گئے
24. 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں 4 مرتبہ ججز کی تبدیلی ہوئی
25. ریفرنس کی سماعت پہلے جج محمد بشیر تھے، پھر جج ناصر جاوید رانا نے کیس سماعت کی، اس کے بعد ریفرنس جج محمد علی وڑائچ اور پھر دوبارہ جج ناصرجاوید رانا کے پاس آیا
26. بانی پی ٹی آئی نے دو مرتبہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا پر اعتماد کا اظہار کیا
27. نیب کی 6 رکنی پراسیکیوشن ٹیم نے کیس کی پیروی کی
28. پراسکیوشن ٹیم میں سردار مظفر عباسی، امجد پرویز، سہیل عارف، عرفان بھولا اور چوہدری نذر شامل تھے
29. بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان صفدر، عثمان ریاض گل، ظہیر عباس چوہدری پیش ہوتے رہے
30. بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی پر الزام ہےکہ 190ملین پاؤنڈ پاکستان منتقل ہونے سے قبل شہزاد اکبر کے ذریعے پراپرٹی ٹائیکون سے خفیہ معاہدہ کیا
31. بانی پی ٹی آئی نے اس خفیہ معاہدے کو اپنے اثر و رسوخ سے وفاقی کابینہ میں منظور کرایا
32. مرزا شہزاد اکبر نے 6 دسمبر 2019 کو نیشنل کرائم ایجنسی کی رازداری ڈیڈ پر دستخط کیے
33. بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی کی غیر قانونی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا
34. بشریٰ بی بی نے 24 مارچ 2021 کو بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی کی دستاویزات پر دستخط کرکے بانی پی ٹی آئی کی مدد کی
35. بانی پی ٹی آئی نے غیر قانونی اور بے ایمانی کر کے 190 ملین پاؤنڈ کی سہولت کاری کی
36. خفیہ معاہدے کے ذریعے 190ملین پاؤنڈ حکومت کا اثاثہ قرار دے کر سپریم کورٹ کا اکاؤنٹ استعمال کیا گیا
37. بشریٰ بی بی اور عمران خان نے فرحت شہزادی کے ذریعے موہڑہ نور اسلام آباد میں 240 کنال اراضی حاصل کی
38. بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کرپٹ پریکٹسز میں ملوث پائے گئے
39. بانی پی ٹی آئی نے وزارت عظمیٰ کے دوران پراپرٹی ٹائیکون سے غیرقانونی مالی فوائد حاصل کیے
40. بانی پی ٹی آئی نے ذلفی بخاری کے ذریعے پراپرٹی ٹائیکون سے القادر یونیورسٹی کیلئے 458کنال اراضی حاصل کی
41. اپریل 2019 میں القادر یونیورسٹی کا کوئی وجود نہیں تھا