کیا جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن پاکستان کے حق میں ہو چکا؟

مغربی میڈیا کے مطابق جنگ کے دوران بھارت کے سرکاری و غیر سرکاری میڈیا نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی اور بھارتی عوام کے اندر جنگی جنون اور اشتعال انگیزی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اصل حقائق بھی بھارتی عوام سے چھپاتے رہے۔ دفاعی اور سفارتی حلقوں کے مطابق حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کی شکست سے بھارت کا علاقائی برتری کا خواب بھی ہمیشہ کے لئے چکنا چور ہو گیا ہے۔

11:33 PM, 6 Jun, 2025

پروفیسر کامران جیمز

پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے بھارت نے اس وقت کئی محاذ کھول رکھے ہیں۔ خاص طور پر اندرون ملک دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنا اور پھر بیرون ملک سے بھی غیر ریاستی عناصر کی سر پرستی کرنا اب دراصل بھارت کا معمول بن گیا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین خصوصاً مغربی میڈیا کے مطابق بھارت کی بدنامِ زمانہ خفیہ ایجنسی "را" مختلف ممالک میں عالمی دہشت گردی میں بھی ملوث پائی گئی ہے۔ ہندو ستان کی غیر قانونی اور غیر سفارتی مشکوک سر گرمیوں کا برملا اعلان کینیڈا اور امریکہ کی حکومتوں کی جانب سے بھی کئی دفعہ کیا جا چکا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی "را" دراصل "موساد" کی طرز پر اپنے مخالفین کو پوری دنیا میں نشانہ بنانا چاہتی ہے۔

مغربی میڈیا کے مطابق "را" ناصرف امریکہ اور برطانیہ میں بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں بھارت مخالف نظریات رکھنے والوں اور خاص طور پر علیحدگی پسند سکھ رہنماؤں کے قتل عام میں براہ راست ملوث ہے۔ پاکستان میں بھی شہریوں کے قتل عام میں "را" کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ بلاشبہ بھارت اب دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے لیکن عالمی دہشتگردی میں ملوث ہونے سے اس کا کردار انتہائی مشقوق ہو گیا ہے۔ ہندوستان کے ہندتوا نظریے سے وہاں کی اقلیتیں بھی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔

دوسری جانب بھارت جنوبی ایشیا میں ایک "پولیس مین" کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور پڑوسی ممالک سے برابر کی سطح پر تعلقات استوار کرنے کی بجائے "علاقائی بالادستی" یعنی regional hegemony کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت کی سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے اندرونی معاملات میں مداخلت اب دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

خصوصاً بنگلہ دیش میں بھارت نواز حکومت کے خاتمے اور پھر حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کی ذلت آمیز شکست کو جنوبی ایشیا میں بھارت کے تسلط کے اختتام سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ بعض دفاعی ماہرین بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں "روایتی جنگ" میں شکست کے بعد جنوبی ایشیا میں "طاقت کے توازن" کو پاکستان کے حق میں جاتا دیکھ رہے ہیں۔ بعض سفارتی حلقوں کے مطابق بھارت کی خطے کے تمام ممالک سے مخاصمت کے باعث اس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

مغربی میڈیا کے مطابق جنگ کے دوران بھارت کے سرکاری و غیر سرکاری میڈیا نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی اور بھارتی عوام کے اندر جنگی جنون اور اشتعال انگیزی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اصل حقائق بھی بھارتی عوام سے چھپاتے رہے۔ دفاعی اور سفارتی حلقوں کے مطابق حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کی شکست سے بھارت کا علاقائی برتری کا خواب بھی ہمیشہ کے لئے چکنا چور ہو گیا ہے۔

عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان نے غیر روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ روایتی ہتھیاروں میں بھی انتہائی موثر کارروائی کے ذریعے جنوبی ایشیا میں اپنی واضح عسکری برتری کو ثابت کیا ہے۔ یوں روایتی جنگ میں بھی پاکستان نے بھارت کو مکمل شکست سے دو چار کیا ہے اور ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم کو بھی خاک میں ملا دیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ جنگ دراصل چینی ساخت کے ہتھیاروں اور مغربی ساخت کے ہتھیاروں کے درمیان تھی اور اس جنگ میں چینی ساخت کے روایتی ہتھیاروں اور بہتر عسکری تربیت کی بدولت پاکستان نے اپنے سے سات گنا بڑی عسکری طاقت کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق بھارتی افواج بہتر روایتی ہتھیاروں کے باوجود بہتر ٹریننگ اور تربیت کے فقدان کی بدولت پاکستان کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوئیں۔ یوں افواج پاکستان نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بھی دنیا کے سامنے منوا لیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاک فضائیہ نے چینی ساختہ لڑاکا طیاروں کی بدولت ہی بھارت کی اہم دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کے شارٹ، میڈیم اور لانگ رینج میزائلوں نے بھی اپنے اہداف کو انتہائی کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ بھارتی فضائیہ کے اڈوں اور پھر اسلحہ ڈپو کی تباہی اور پھر مشہور زمانہ دفاعی نظام S400 کی تباہی کے بعد بھارت نے اپنی شرمناک شکست کو تسلیم کر لیا اور امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کی مداخلت پر فوری جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔

بھارت نے اس جنگ میں روسی اسلحہ اور فرانسیسی رافال طیاروں اور اسرائیلی ڈرونز کا بھی استعمال کیا۔ عالمی میڈیا کے مطابق پاکستان نے جنگ کے ساتھ جنگ کے ابتدائی مراحل میں ہی بھارت کے چار رافال طیارے زمین بوس کر دیے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق بھارت کو ناصرف عسکری محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ سفارتی سطح پر بھی بھارت کو تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب کہ ترکیہ آذربائیجان، چین اور ایران نے پاکستان کے مؤقف پر کھل کر ساتھ دیا۔

چین اور ترکیہ نے بھی خصوصی طور پر پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی محاذ پر حمایت جاری رکھی۔ اور بھارت کو سفارتی محاذ پر بھی منہ کی کھانا پڑی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کی شکست کے ساتھ ہی بھارت کا جنوبی ایشیا میں "watchdog" کے کردار کی خواہش کا قلعہ قمع ہو گیا ہے اور جنوبی ایشیا میں بھارت کی بالادستی کا خواب بھی ہمیشہ کے لئے چکنا چور ہو گیا ہے۔

دوسری جانب بعض سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان ایک دفعہ پھر مسئلہ کشمیر کا عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ بھارت کی جانب سے غیر ریاستی اداروں کے ذریعے ایک عالمی تسلیم شدہ "ریاست پاکستان" جو اقوام متحدہ کی رکن بھی ہے کو عدم استحکام سے دو چار کرنا کسی بھی طور پر جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام، ترقی اور امن کا باعث نہیں بن سکتا۔ پاکستان نے عالمی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کو بھارت کے پاکستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورک سے متعلق مکمل بریفنگ بھی دی ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگانے کی بجائے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے تاکہ جنوبی ایشیا کو آئندہ بھی روایتی اور غیر روایتی جنگوں سے بچایا جا سکے۔

اب دونوں ممالک کو چاہیے کہ اپنے دفاعی اخراجات میں واضح کمی کر کے اپنے اپنے ملک میں غربت، افلاس اور بیماری کے خلاف جنگ لڑیں تاکہ جنوبی ایشیا بھی امن کو گہوارہ بن سکے۔ 

مزیدخبریں