آرمی ایکٹ میں ترامیم کا کیس: عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات کالعدم قرار

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں5 رکنی بنچ نے عمران خان کی درخواست پر بطور اعتراض سماعت کی، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے شعیب شاہین عدالت پیش ہوئے، دوران سماعت عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ بتایا جائے ترامیم کیخلاف پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا

02:57 PM, 7 Feb, 2025

نیوز ڈیسک

سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کیخلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر اعتراضات کالعدم قرار دے دیئے۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے عمران خان کی درخواست پر بطور اعتراض سماعت کی، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے شعیب شاہین عدالت پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ بتایا جائے ترامیم کیخلاف پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 184/3 کے تحت قوانین کیخلاف درخواستیں مرضی سے ہی سنتی رہی ہے، جو کیس دل کیا سن لیا جو نہ دل کیا کہہ دیا پہلے ہائی کورٹ جائیں، براہ راست درخواستیں سنتے رہے تو آرٹیکل 199 غیرمؤثر ہو جائے گا۔

وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترامیم سے لوگوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں یہ فیصلہ رجسٹرار نہیں عدالت کر سکتی ہے۔

بعدازاں آئینی بنچ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات کالعدم قرار دے دیئے اور رجسٹرار آفس کو آئینی درخواست کو باضابطہ نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت کر دی۔

مزیدخبریں