مشہور ماہرِ سیاسیات پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنے وی لاگز کی ایک سیریز میں تقسیمِ ہند اور اس سے جڑے تمام فریقوں کے مؤقف کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا ہے۔ میں نے سوچا ان سب کا خلاصہ تیار کیا جائے، اور جب یہ سلسلہ مکمل ہو جائے تو ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے کسی اچھی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اہم گفتگو ہے۔ ہمیں اشتیاق صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے بڑی لگن کے ساتھ، بغیر کسی لالچ کے اس سچائی کو ہمارے سامنے رکھا جسے ہماری ریاست ہم سے چھپاتی آئی ہے۔ تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ گفتگو خاص طور پر بہت قیمتی ہے۔
پہلا وی لاگ: سکھ قیادت اور جناح: ایک ناکام مفاہمت
خلاصہ: محمد شہزاد
جناح اور سکھ قیادت کی ملاقاتوں کا ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا سکھوں کو جناح کی یہ پیشکش قبول کر لینی چاہیے تھی کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہیں اور انہیں وسیع خودمختاری دی جائے؟
جناح نے 1946 میں سکھوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش شروع کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان کے ساتھ رہنے کی صورت میں سکھوں کی مجموعی آبادی زیادہ ہوگی، لیکن اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ تقسیمِ ہند کی حمایت کریں، تاکہ پورا پنجاب پاکستان میں شامل ہو سکے۔
تاہم سکھ قیادت اس معاملے میں تذبذب کا شکار رہی۔ قراردادِ لاہور (23 مارچ 1940) کی منظوری کے صرف ایک ہفتے بعد سکھ رہنما سندر سنگھ مجیٹیا نے اعلان کیا کہ اگر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ سکھوں کو زبردستی پاکستان میں رکھا جا سکے گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔
یہ واقعہ پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنی کتاب Jinnah: His Successes, Failures and Role in History میں بیان کیا ہے۔
سکھ قیادت کا استدلال تھا کہ اگر مسلم اکثریتی علاقوں کی بنیاد پر پاکستان کا مطالبہ جائز ہے، تو اسی اصول کے تحت پنجاب کے وہ علاقے بھی پاکستان میں شامل نہیں ہونے چاہییں جہاں سکھوں اور ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ اسی لیے وہ پورے پنجاب کو پاکستان میں شامل کرنے کے مطالبے کی مخالفت کرتے تھے۔ سکھ رہنماؤں نے یہ مؤقف قراردادِ لاہور کے فوراً بعد 1940 میں اختیار کیا اور 1942 میں بھی اسی موقف کا اعادہ کیا۔
مارچ 1947 میں پنجاب میں سکھ مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ 4 مارچ کو لاہور اور امرتسر میں جھڑپیں شروع ہوئیں، جو اگلے روز ملتان اور راول پنڈی تک پھیل گئیں۔ 6 مارچ سے راول پنڈی ڈویژن میں تشدد نے ایک منظم صورت اختیار کر لی اور شہروں کے بجائے سکھ دیہات کو نشانہ بنایا گیا۔ 6 سے 13 مارچ کے درمیان راول پنڈی، جہلم اور اٹک کے اضلاع میں مسلم لیگی ہجوم کے حملوں میں ہزاروں سکھ مارے گئے، جبکہ ہندو بھی اس تشدد کا شکار ہوئے۔
سکھ ذرائع، خصوصاً سردار گوربچن سنگھ طالب کی مرتب کردہ کتاب Muslim League Attack on Sikhs and Hindus in the Punjab 1947 میں تقریباً 10 ہزار سکھوں کے قتل کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم مختلف اندازوں کے مطابق ہلاک ہونے والے سکھوں کی تعداد 5 سے 7 ہزار کے درمیان تھی، جبکہ برطانوی سرکاری ریکارڈ تقریباً 3,800 اموات کا ذکر کرتے ہیں جن میں اکثریت سکھوں کی تھی۔ یہ تفصیلات پروفیسر اشتیاق احمد کی کتاب The Punjab: Bloodied, Partitioned and Cleansed میں درج ہیں۔ جس کا اردو ترجمہ 'پنجاب کا بٹوارہ: ایک المیہ، ہزار داستانیں' کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس اردو ایڈیشن کو پیراماؤنٹ بکس، کراچی نے شائع کیا ہے۔
مارچ 1947 کے فسادات کے بارے میں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جناح سمیت کسی نمایاں مسلم لیگی رہنما کی جانب سے ان واقعات کی مذمت کا کوئی معروف بیان سامنے نہیں آتا۔ اسی پس منظر میں سکھ قیادت اور جناح کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ ان ملاقاتوں میں مہاراجہ پٹیالہ، ماسٹر تارا سنگھ، گیانی کرتار سنگھ، محمد علی جناح اور لیاقت علی خان شریک تھے۔ مذاکرات دو نشستوں پر مشتمل تھے، جن میں مرکزی ملاقات 15 اور 16 مئی 1947 کو دہلی میں ہوئی۔ یہ ملاقات لارڈ ماونٹ بیٹن نے اس امید پر کرائی تھی کہ پنجاب کی تقسیم سے بچا جا سکے۔
جناح نے اپنی پیشکش دہرائی۔ تاہم سکھ قیادت نے سوال اٹھایا کہ اگر مستقبل میں جناح موجود نہ رہے تو ان وعدوں کی ضمانت کیا ہوگی؟ اس پر جناح نے کہا کہ پاکستان میں ان کے الفاظ اللہ کے الفاظ کی مانند سمجھے جائیں گے۔ (نعوذ باللہ)
یہ سن کر سکھ قیادت کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ جناح کو زمینی حقائق کا سرے سے علم ہی نہیں۔
مشہور ماہرِ سیاسیات پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنے وی لاگز کی ایک سیریز میں تقسیمِ ہند اور اس سے جڑے تمام فریقوں کے مؤقف کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا ہے۔ میں نے سوچا ان سب کا خلاصہ تیار کیا جائے، اور جب یہ سلسلہ مکمل ہو جائے تو ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے کسی اچھی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اہم گفتگو ہے۔ ہمیں اشتیاق صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے بڑی لگن کے ساتھ، بغیر کسی لالچ کے اس سچائی کو ہمارے سامنے رکھا جسے ہماری ریاست ہم سے چھپاتی آئی ہے۔ تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ گفتگو خاص طور پر بہت قیمتی ہے۔
دوسرا وی لاگ: سکھ کیوں پاکستان میں شامل نہیں ہوئے؟
خلاصہ: محمد شہزاد
(اس وی لاگ میں پروفیسر اشتیاق احمد سرکاری دستاویزات میں درج ان حقائق کو سامنے لاتے ہیں جو برصغیر کی تاریخ کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔)
مسلم لیگ کے قیام اور اس کے اثرورسوخ بڑھنے سے پہلے پنجاب کی سیاست کا محور پنجاب یونینسٹ پارٹی تھی۔ اس جماعت کے بانی رہنماؤں میں سر فضلِ حسین کا نام سب سے نمایاں تھا۔ وہ 1936 میں وفات پا گئے، جس کے بعد سر سکندر حیات نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ 1942 میں سر سکندر حیات کے انتقال کے بعد سر خضر حیات ٹوانہ تیسرے بڑے رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ پنجاب یونینسٹ پارٹی ایک سیکولر جماعت تھی۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ تمام پنجابی، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، ایک سیاسی پلیٹ فارم پر متحد رہیں۔ یہی اس کا نصب العین تھا۔
تاہم اس جماعت کے اندر بھی مختلف آرا پائی جاتی تھیں۔ سندر سنگھ مجیٹیا، جو پنجاب یونینسٹ پارٹی کی حکومت میں وزیر تھے، نے یہاں تک کہا تھا کہ مسلمانوں اور سکھوں کے راستے بالکل الگ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب یونینسٹ پارٹی برطانوی سامراج کی حامی تھی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ بھی کسی لحاظ سے برطانوی سامراج کی کم وفادار نہیں تھی۔
Ian Talbot مورخ اور محقق نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک مرحلے پر انگریزوں نے پنجاب یونینسٹ پارٹی کی بجائے مسلم لیگ کی حمایت شروع کر دی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ "ہندوستان چھوڑو تحریک" کے دوران برطانوی حکومت کو پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی حمایت درکار تھی، اور مسلم لیگ اس مقصد کے لیے زیادہ موزوں اتحادی ثابت ہو سکتی تھی۔
کرپس مشن کا تصور یہ تھا کہ ہندوستان میں ایک نسبتاً کمزور مرکزی حکومت قائم کی جائے، جبکہ مختلف صوبوں اور گروہوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جائے۔ اس منصوبے کے تحت بعض علاقے اپنی داخلی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے الگ ریاستی حیثیت بھی اختیار کر سکتے تھے، اور ان کے لیے علیحدہ آئینی انتظامات بھی کیے جا سکتے تھے۔
سکھوں کا اس منصوبے پر بنیادی سوال یہ تھا کہ ایسے سیاسی نظام میں ان کی حیثیت کیا ہوگی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ہندوستان جیسے کثیر المذاہب معاشرے میں کسی ایک مخصوص مذہبی یا قومی گروہ کی حکومت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہاں مختلف مذاہب اور برادریاں آباد ہیں اور سب کے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات ہیں۔ ان کے نزدیک اگر ایک ریاست مسلمانوں کے لیے بن سکتی ہے تو پھر یہ پورے ہندوستانیوں کی مشترکہ ریاست کیسے کہلائے گی؟
اس بحث کے پس منظر میں قوم پرستی کے مختلف تصورات بھی موجود تھے۔ ان میں ایک اہم تصور علاقائی یا جغرافیائی قوم پرستی کا تھا، جس کے مطابق پورا برصغیر ایک مشترک وطن ہے اور اس میں رہنے والے تمام لوگ، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، ایک ہی قوم کے افراد ہیں۔ اس نظریے کے تحت تمام شہریوں کے حقوق برابر ہوتے ہیں اور ریاست مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کرتی۔ اسی سوچ کی بنیاد پر نہرو نے اور بعد ازاں ہندوستان کے آئین نے ہر بالغ شہری کو ووٹ کا حق دیا تاکہ سیاسی حقوق مذہب، ذات یا برادری کے بجائے شہریت کی بنیاد پر حاصل ہوں۔ چنانچہ ایک برہمن کو بھی ایک ووٹ کا حق حاصل تھا اور ایک دلت کو بھی۔ قانون کی نظر میں دونوں برابر شہری سمجھے جاتے تھے اور ان کی سیاسی آواز کی یکساں اہمیت تھی۔
سکھ کرپس مشن سے سکھ خوش نہیں تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ انہیں ان کی مرضی کے بغیر کسی گروپ میں شامل کر دیا جائے۔ اس موقع پر یہ سوال بھی اہم ہو گیا کہ سکھ پاکستان کے ساتھ ہوں گے یا بھارت کے ساتھ۔
تاریخی پس منظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ مسلمانوں نے ایک طویل عرصے تک ہندوؤں پر حکومت کی، جبکہ پنجاب میں بعد میں سکھوں نے مسلمانوں سے اقتدار حاصل کیا۔ اسی تناظر میں ہندو مسلم فسادات تقسیم سے پہلے بھی ہوتے رہے۔ تاہم سکھ مسلم فسادات کی ابتدا 1935 میں ہوئی جب سکھوں نے شہید گنج مسجد ڈھا دی۔ یہی ایک وجہ تھی کہ بعد کے فسادات میں سکھ ہندوؤں کے ساتھ جا ملے۔
اس بات کا کوئی مستند ثبوت نہیں ملتا کہ سکھ ہندو حکومت میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔ اس ضمن میں بعض لوگ کپور سنگھ اور گنڈا سنگھ کا نام بطور ثبوت پیش کرتے ہیں، مگر وہ صرف دو افراد تھے، اس لیے ان کی آرا کو پوری سکھ برادری کا مؤقف نہیں سمجھا جا سکتا۔ مزید یہ کہ کپور سنگھ پر بدعنوانی کے الزامات بھی تھے۔ اسی طرح افراد کی ڈائریاں بھی کسی اجتماعی سیاسی مؤقف کے لیے مستند حوالہ نہیں ہوتیں۔
ان تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے سکھ قیادت اس نتیجے پر پہنچی کہ ایک متحدہ ہندوستان میں انہیں زیادہ بہتر حیثیت اور مضبوط سیاسی پوزیشن حاصل ہو سکتی ہے۔ اس وقت کانگریس نے یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ وہ ہندوستان کو ہندو راشٹرا بنا دے گی۔ یہ تو بعد میں بی جے پی کا مشن بنا۔ بلکہ نہرو اور گاندھی پر تو یہ الزام بھی لگایا جاتا تھا کہ وہ مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ البتہ کانگریس کی بعض غلطیوں نے ہندو انتہا پسند جماعتوں کو مضبوط ہونے کا موقع ضرور دیا۔
سکھ کہیں بھی اکثریت میں نہیں تھے، حتیٰ کہ پنجاب کے کسی بڑے علاقے میں بھی نہیں۔ امرتسر میں بھی نہیں اور ننکانہ صاحب میں بھی نہیں، جہاں گرو نانک پیدا ہوئے تھے۔ صرف چند تحصیلوں میں ان کی اکثریت تھی، جبکہ ریاست فرید کوٹ میں ان کی آبادی 42 فیصد تھی۔ اس صورتِ حال میں ان کا منطقی اتحاد ہندوؤں کے ساتھ ہی بنتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مغلوں نے گرو گووند سنگھ، ان کے چار بیٹوں اور گرو تیگ بہادر کے ساتھ جو سلوک کیا تھا، وہ سکھوں کے اجتماعی حافظے کا حصہ تھا۔ گردواروں میں آج بھی ان واقعات اور مظالم کی عکاسی کرنے والی پینٹنگز موجود ہیں۔
گیانی کرتار سنگھ کا گروپ اگرچہ ایک عرصے تک تذبذب کا شکار رہا، مگر مارچ 1947 میں سکھوں کے قتلِ عام نے اس گروپ کی سوچ کا رخ بھی ہندوؤں کے ساتھ الحاق کی طرف موڑ دیا۔
1946 میں جناح صاحب نے سکھ قیادت سے یہ ضرور پوچھا تھا کہ وہ سکھ ریاست کس علاقے میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ سکھ قیادت کی خواہش تھی کہ یہ ریاست مرکزی پنجاب میں قائم ہو، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس علاقے میں سکھ اکثریت میں نہیں تھے۔ اگر وہ اپنی ایک الگ ریاست قائم کر سکتے تھے تو اس کا زیادہ امکان کسی نوابی یا ریاستی علاقے (پرنسلی سٹیٹ) میں تھا، مگر ایسی صورت میں مرکزی پنجاب ان کے ہاتھ سے نکل جاتا، جو ان کے سیاسی تصور کا بنیادی حصہ تھا۔
مسلم لیگ کی 1946 کی انتخابی مہم بنیادی طور پر مذہبی بنیادوں پر استوار تھی، جو سکھوں کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ اس وجہ سے سکھ قیادت کے لیے مسلم لیگ کے سیاسی پروگرام کی حمایت کرنا آسان نہیں تھا۔ چنانچہ اگر ایک الگ سکھ ریاست کا قیام ممکن نہ ہو، تو ان کی خواہش یہ تھی کہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر پنجاب کے ان علاقوں کو بھارت کا حصہ بنایا جائے جہاں ہندو اور سکھ اکثریت میں تھے۔
انگریزوں نے سکھوں کو ایک خود مختار ریاست اس لیے نہیں دی کہ وہ کسی بھی ایسے علاقے میں اپنی اکثریت ثابت نہیں کر سکتے تھے جو تقسیمِ ہند کا حصہ بننے والا تھا۔ بعض نوابی ریاستوں میں ان کی خاصی آبادی موجود تھی، مگر وہ ریاستیں تقسیم کے منصوبے کا حصہ نہیں تھیں۔ ان ریاستوں نے بعد میں بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا تھا۔
3 جون 1947 کے منصوبۂ تقسیم اور 18 جولائی 1947 کے آزادی کے ایکٹ کے تحت نوابی ریاستوں کو اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کا اختیار حاصل تھا۔ کشمیر کے سوا تقریباً تمام ریاستوں کا الحاق پُرامن طریقے سے ہوا۔ مہاراجہ پٹیالہ اور دیگر حکمرانوں نے اپنی مرضی سے بھارت کے ساتھ الحاق کیا اور اس عمل میں تشدد کا سہارا نہیں لیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ تاریخ کا جائزہ لیتے وقت یہ دیکھا جانا چاہیے کہ سکھوں، ہندوؤں، مسلم لیگ، کانگریس، ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس جیسے سیاسی و سماجی گروہوں کا اجتماعی مؤقف کیا تھا، نہ کہ صرف چند افراد کی آرا کو فیصلہ کن سمجھ لیا جائے۔
جاتے جاتے انگریزوں نے جنوبی ہندوستان کے دراوڑیوں کے لیے کوئی الگ ریاست قائم نہیں کی۔ دلتوں کو بھی کوئی علیحدہ سیاسی وحدت نہیں دی گئی۔ آخرکار انہوں نے صرف دو ریاستیں، بھارت اور پاکستان، وجود میں آنے دیں۔ بعد کے برسوں میں پاکستان سرد جنگ اور افغان جہاد کا اہم میدان بنا، جس کے گہرے سیاسی اور سماجی اثرات مرتب ہوئے۔ انہی پالیسیوں کے نتیجے میں انتہاپسندی پاکستان کی سیاست اور معاشرے میں ایک مستقل عنصر کے طور پر جگہ بناتی چلی گئی۔