انجمن اقوام کی ناکامی کے بعد اقوام متحد ہ ، اور اس کے ذیلی اداروں سے یہ توقع ہی تھی کہ دنیا میں قیام امن کے لیے یہ ادارہ اپنا اہم اورکلیدی کردارنہا یت احسن انداز سے سر انجام دے گا لیکن ہر ادارے میں مخص چند کا میا بیوں کےعلاوہ کو ئی بڑی قابل ذکر کار کردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے ۔اقوام متحدہ کی چند بڑی ناکامیوں میں مسئلہ کشمیر اور مستند فلسطین کے فلسطین کا مستقل اور دیر پا حل تلاش کرنے میں مکمل ناکامی اور مقبو ضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنا اور جارحیت کیخلاف عملی اقد ام سے قا سر رہنا دراصل مظلو م اقوام کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے ۔
اقوام متحدہ کی ناکامی کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ عالمی طاقتوں کا دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے اپنے مفادات کا تحفظ ہے جن کے حصول کے لیے یہ عالمی قوتیں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر بھی خاموش تما شائی کا کردار ادا کر تی ہیں۔
یقینا غیر ریاستی گروہوں اور تنظیموں کی جانب سے دہشت گردی کی کاروائیاں اور طاقت کا استعمال ایک قابل مذمت اقدام ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جا ئے کم ہے ۔لیکن ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی بھی مذمت کی مزاحمت ہر ممکن طریقے سےہر سطح پر ہر پلیٹ فارم پر کر نی چائیے ۔ یقینا ًبین الا قوامی تنا زعات کے حل کے لیے پر امن سفارت کاری کا راستہ ہی اختیار کرنا چاہیے اور فریقین کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ لہذا مسئلہ کشمیر ،فلسطین اور روس تنازع کو بھی اقوام متحدہ کی متعدد قرار دادوں کے ذریعے ہی حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ کے کردار کو عالمی تنازعات کے حل کے لیے مز یر قابل عمل اور مؤثر بنایا جائے ۔ تاکہ عالمی تنازعات کو طاقت کی بجائے
پرا من سفارکاری سے حل کیا جا سکے ۔متعدد مبصرین امریکی صدر کے روس اور یو کرائن تنا زع کے پرامن تصفیے کے حق میں نظر آتے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹر مپ کی پر امن سفارت کاری کے نظریے کے حامی دکھائی دیتے ہیں ۔ تا ہم امریکہ اور پورپ روس کے معاملے پر جلد امن معاہد ہ کو حتمی شکل دینے کے لیے پر جوش دکھائے دیتے ہیں۔ بقول صدر ٹرمپ دنیا تیسری جنگ عظیم کی کسی بھی صورت میں متحمل نہیں ہوسکتی ۔
متعدد سیاسی مبصرین بھی یو کراینی صدر کو جنگ بند ی کے سلسلے میں امریکی صدر کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کے حق میں دیکھائی دیتے ہیں۔ تاکہ جنگ کے دائرے کو مزید نہ پڑھایا جا ئے ۔ یادر ہے یوکراین امریکی اسلحہ کے بغیرروس کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور روس یو کرائن کے کئی علاقوں پر قابض ہوتا چلا جا رہا ہے ۔
ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق متعدد یو کرینی فوجی دستے فرانس میں بھگوڑے کر دئیے گئے ان فوجی دستوں کی خصوصی تر بیت کا انتظا م فرانس کی حکومت نے اپنی ما لی معاونت سے کیا تھا ۔ غیر منظم غیر تربیت یافتہ فوجوں کے بغیر یو کراین کا روس ، کیخلاف جنگ کو جاری رکھنا کسی بھی صورت میں یو کراین کے حق میں نہیں ہے ۔
لیکن یورپ ہر صورت میں کراین کی وفاعی امداد جاری رکھنے پر بضد ہے دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کے مطابق امر یکی صدر مشر ق وسطیٰ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بھی مستقل جنگ بندی کے لیے اپنا اہم کردہ ادا کر سکتے ہیں یقینا حماس اور اسرائیل کے درمیاں قیدیوں کا تبادلہ ایک اہم پیش رفت ہے لیکن غزہ میں مستقل امن کے لیے امریکی صدر ٹرمپ ایک اہم اور کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اور غزہ میں جاری خون ریزی کو روکا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی شد ید خلاف ورزیوں کا بھی سدِ باب ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق مسئلہ فلسطین کا واحد حل دو ریاستی فارمولا ہے جس پر تقریباً تما م یورپی ممالک اور عرب میں بھی اتفاق رائے لایا جا سکتا ہے ۔ یقینا دو ریاستی حل کے لیے چین اور روس اس میں اہم کردارادا کر سکتے ہیں،مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے سلسلے میں آج بھی تما م تاریخی ریکارڈ اقوام متحد ہ کا ریکارڈ کا حصہ ہے یقینا مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کے لیے غزہ کو مزید مؤ ثر بنانے کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلے میں یقیناً صدر ٹرمپ کا کردار انتہائی اہم موثر ہو سکتا ہے۔ چونکہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی اور بعد میں بھی متعدد مو اقع پر اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ وہ دنیا سے جنگوں کا خاتمہ کرینگے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنا ئینگے۔ عالمی امن اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
دوسری جانب مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں بھی صدر ٹرمپ ، سابق وزیر اعظیم پاکستان سے ایک ملاقات کے دوران اہم کردار ادا کرنے کی پیش کش کر چکے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر اور دیگر اہم مسائل کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کو بھی صرف اور صرف بات چیت اور سفارت کاری کا ہی راستہ اختیار کرنا چاہیے ،ماضی میں ہونے والی پاک بھارت جنگوں میں دونوں ممالک کو شدید جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ۔ دونوں ممالک باہمی تجارت ،کھیل اور ثقافت کے ذریعے اپنے دو طرفہ تعلقا ت کو بہتر اور مؤ ثر بنا سکتے ہیں ۔ آج ضرورت اور اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک مل کر جنوبی ا یشا کو ایٹم سے پاک علاقہ قرار دیں اور فوری طور پر اپنے اپنے روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں میں کمی کر یں تا کہ دونوں ممالک غربت ، افلاس اور بیماری سے جانی چھڑ اسکیں ۔
یقیناً طاقت کا استعمال جانی مسائل کے حل کیلئے طاقت کے استعمال سے امن نہیں ہو سکتا ۔ دونوں مما لک جنوبی ایشا ءمیں پائیدار اور دیر پا امن کے قیام کے لیے اپنا اہم اور مؤ ثر کردار اور کر سکتے ہیں، لہذا مسئلہ کشمیر کا حل بھی پر امن طریقے سے ہی ممکن ہے۔ا س سلسلے میں بھی ٹرمپ انتظامیہ اہم اور مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے ۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام عالمی تنازعات کے پر امن حل کیلئے خصوصی طور پر اقوام متحدہ کے کردار کو اہم اور فعال بنا یا جائے اور تمام حل طلب تنازعات کے فریقین طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں ۔
بقول امریکی صدر ٹرمپ، دنیا کسی بھی صورت سے میں تیسری عالمی جن کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ یقیناً اقوام ِ عالمی کو بھائی چارے کے لیے تمام عالمی قوتوں کو بشمول اقوام متحدہ کو اپنا اہم اور مؤثر کردار ہر قیمت پر ادا کرنا ہوگا۔