میتھس اور محبت

بچپن میں مجھے سکول کے ڈراموں اور ٹیبلو میں حصہ لینے کا شوق تھا۔ اس عمر میں شاید مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ کسی کردار کے لئے منتخب ہونے میں صلاحیت کے ساتھ ساتھ ظاہری شکل بھی کتنی اہم سمجھی جا سکتی ہے۔ میں کبھی پری نہیں بنی، نہ ہی شہزادی۔

11:40 PM, 7 Nov, 2026

ڈاکٹر رخشندہ پروین

1996 میں میری کتاب مجھے محبت سے ڈر لگتا ہے شائع ہوئی تھی۔ اس میں چند نثری نظمیں تھیں، جو میں نے لڑکپن سے لے کر بیس اکیس برس کی عمر تک لکھی تھیں۔ کتاب کے پیش لفظ، ’’پہلی بات‘‘ میں، میں نے لکھا تھا:

’’میری جنریشن کی کسی عورت کو شاعری کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘

بچپن کی کہانیاں، لڑکپن کے خواب، دل ٹوٹنے کے تجربے، خوابوں کے بکھرنے کا دکھ، عشق کی نزاکتیں، آرزو کے اسرار، ورکنگ وومن کا المیہ، خوب صورت ہونے کے نقصانات—یہ سب تو پروین شاکر کی شاعری میں پہلے سے موجود تھا۔ پھر ہم جیسے کیوں لکھنا چاہتے ہیں؟

کتاب کے عنوان میں میرے لئے محض ایک جملہ نہیں، ایک اعتراف، ایک confession بھی تھا۔ میں محبت کی کشش سے انکار نہیں کرتی تھی، مگر اس کی طاقت کو اپنی کمزوری بھی سمجھتی تھی۔ محبت مجھے مسحور کرتی تھی، لیکن میں زندگی کو اس کی اصل صورت میں قبول کیے بغیر اسے رومانوی رنگ دینے کے حق میں نہیں تھی۔ شاید مجھے محبت سے نہیں، اس کے اس تصور سے ڈر لگتا تھا جس میں خواب تو بہت ہوتے ہیں، مگر ان خوابوں کی قیمت اور ان کے بعد بچ رہنے والی زندگی کا ذکر کم ہوتا ہے۔

خوب صورت تو وہ لڑکیاں تھیں جنہیں دیکھ کر ان کی نالائقی کے باوجود viva میں زیادہ نمبر ملے یا جنہیں دیکھ کر راہی راستہ بھول جاتے تھے۔ یہ گلہ یا طنز نہیں، میری زندگی کا ایک مشاہدہ ہے۔

کچھ لوگ اکثر میرے سچ کو self-deprecating humour سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ سچ صرف سچ ہوتا ہے۔

میں فوٹوجینک ہوں، خوب صورت نہیں۔

ذرا فرق سمجھیے۔ ایک ہلکی پھلکی بات یہ بھی ہے کہ beauty lies in the eyes of my make-up artist! اچھے میک اَپ کے بعد میں واقعی بہت اچھی لگتی ہوں۔ یا لگتی تھی۔ اس عمر میں تو میک اَپ کی ضرورت کچھ زیادہ ہی پڑ جاتی ہے۔ اب یہ حسن ہے، ہنر ہے یا دونوں کی ملی بھگت، اس کا فیصلہ آپ خود کر لیجیے۔

لیکن اس مذاق کے پیچھے کچھ ایسے تجربات بھی ہیں جنہیں کسی ہلکے پھلکے جملے میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ بچپن میں بدسلوکی، جنسی استحصال، ریپ اور marital rape جیسے تجربات سے گزرنے کے بعد کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے شاید میں صرف محرومیوں ہی کی حق دار تھی۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو سمجھتی ہوں کہ یہ احساس بھی عورت کے اندر بٹھائے گئے ان جھوٹوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے وہ دوسروں کے کیے کی ذمہ داری خود اٹھانے لگتی ہے۔ کسی عورت کے ساتھ ہونے والا تشدد اس کے حسن، اس کی کمی یا اس کی کسی غلطی کا ثبوت نہیں ہوتا۔

محبت اور تحفظ کی خواہش کے باوجود محرومی بھی میرے حصے میں آئی۔ شاید اسی لئے میں حسن، محبت اور عورت کی قدر کے بارے میں کسی ایک آسان نتیجے پر نہیں پہنچ پاتی۔

میں فیمنسٹ ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ عورت کی تصویر سے زیادہ اس کے تصور، اس کی ذہانت، اس کے کردار اور اس کی صلاحیتوں کو اہمیت دی جائے۔ لیکن حسن اور ظاہری شکل و صورت کے بارے میں میرے خیالات محض نظریاتی نہیں؛ ان کے پیچھے بچپن کی کچھ خواہشیں اور ان سے جڑی ہوئی یادیں بھی ہیں۔

بچپن میں مجھے سکول کے ڈراموں اور ٹیبلو میں حصہ لینے کا شوق تھا۔ اس عمر میں شاید مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ کسی کردار کے لئے منتخب ہونے میں صلاحیت کے ساتھ ساتھ ظاہری شکل بھی کتنی اہم سمجھی جا سکتی ہے۔ میں کبھی پری نہیں بنی، نہ ہی شہزادی۔

مجھے تقریر، تحریر اور ذہنی آزمائش کے مقابلوں کے لئے زیادہ موزوں سمجھا گیا۔ یوں میری صلاحیتوں کو اظہار کا ایک راستہ ملا، لیکن ڈراموں اور ٹیبلو کی وہ خواہش کہیں پیچھے رہ گئی۔ آج سوچتی ہوں تو سوال اٹھتا ہے کہ اس راستے کے انتخاب میں میری اپنی دلچسپی کتنی تھی اور دوسروں کی نظر کا کتنا دخل۔

شاید اسی لئے میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ عورت کی زندگی میں حسن کی اہمیت سرے سے موجود ہی نہیں۔ ظاہری حسن کے اثرات پر ہونے والی تحقیق بتاتی ہے کہ بعض حالات میں شکل و صورت پیشہ ورانہ مواقع اور لوگوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسے halo effect کہا جاتا ہے: کسی شخص کو پُرکشش دیکھ کر لاشعوری طور پر یہ فرض کر لینا کہ وہ ذہین، قابل، پُراعتماد یا زیادہ اہل بھی ہوگا۔ البتہ یہ فائدہ ہر ماحول میں یکساں نہیں ہوتا، اور عورتوں کے لئے ظاہری کشش بعض حالات میں نقصان بھی بن سکتی ہے۔

میں آج بھی سمجھتی ہوں کہ عورت کی قدر اس کے چہرے سے نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن یہ کہہ دینے سے کہ حسن اہم نہیں، حسن کی بنیاد پر ملنے والے فوائد اور نقصانات ختم نہیں ہو جاتے۔ بعض سچ ایسے ہوتے ہیں جن پر لوگ زندگی کے ایک خاص مرحلے کے بعد بات نہیں کرنا چاہتے۔ شاید انہیں لگتا ہے کہ اب کیا حاصل ہوگا؟ میرا خیال ہے، بات تب بھی ہونی چاہیے۔ عمر گزر جانے سے تجربے کی معنویت ختم نہیں ہوتی۔

اور ہاں، فیمنزم، ذہانت، تعلیم، کانفیڈنس اور self-worth پر میرے یقین کے باوجود ایک بات آج تک سمجھ نہیں آئی: اگر آپ عورت ہیں تو اچھے نصیب کی دعا ضرور کریں—ایسے نصیب کی جس کا آپ کی ڈگریوں یا transcripts سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ جملہ شاید میرے اپنے فیمنسٹ یقین سے متصادم محسوس ہو، لیکن زندگی ہمیشہ ہمارے نظریات کی ترتیب سے نہیں چلتی۔ آپ تعلیم یافتہ ہوں، ذہین ہوں، بااعتماد ہوں، اپنی قدر پہچانتی ہوں؛ ان میں سے کوئی خوبی اس بات کی ضمانت نہیں کہ آپ کو ایسا شخص بھی ملے گا جو آپ کی قدر کرے، آپ کو سمجھے اور آپ کے ساتھ محبت کو محض لفظ نہیں، ایک باہمی تجربہ بنا سکے۔ یہ کوئی academic achievement نہیں جسے محنت، قابلیت اور درست حکمتِ عملی سے یقینی بنایا جا سکے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں خود اعتمادی اور انسانی بے بسی ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔

ایک شخص نے مجھے سینکڑوں خط لکھے تھے۔ پھر اس نے مجھ سے شادی کی۔ شادی کیسی تھی، یہ ایک الگ کہانی ہے۔ کبھی میری ذہانت اور بہادری کی تعریف کرتے ہوئے وہ کہتے کہ اگر انہیں صرف چہرہ دیکھنا ہوتا تو وہ کسی اور سے نکاح کر لیتے۔ پھر وہ ان عورتوں کے نام بھی بتاتے جن سے وہ نکاح کر سکتے تھے۔

یہ سب سن کر مجھے لگتا تھا کہ شادی ایک بہت بیہودہ institution ہے۔ تکلیف بہت ہوتی تھی، حالاں کہ میرے لئے وہ شادی اپنے آپ میں ایک خوفناک تجربہ تھی۔ میں ہنستی رہتی تھی۔ شاید ہنستے ہوئے میں بہتر لگتی ہوں اور آنسو چھپ جاتے ہیں۔ نظر آ بھی جائیں تو لگتا ہے جیسے ہنستے ہوئے آ رہے ہیں۔ میرے dimples بھی ہیں، لیکن انہوں نے کبھی مجھے دیکھا ہی نہیں۔

بظاہر یہ تعریف تھی، لیکن کبھی کبھی تعریف بھی عورت کو اس کمی کی یاد دلا دیتی ہے جس کے باوجود اسے قبول کیا گیا ہو۔ شاید میں چاہتی تھی کہ میری ذہانت اور بہادری میری خوبیاں ہوں، کسی دوسری خوبی کی عدم موجودگی کا ازالہ نہیں۔

فیمنزم نے مجھے مرد اور عورت کی دوستی، برابری اور احترام کی اہمیت سمجھائی۔ کشور آپی کی نظم ’’میرے دوست بنو‘‘ مجھے اسی لئے عزیز رہی۔ لیکن نظریے اور ذاتی زندگی کے درمیان ہمیشہ سیدھی سڑک نہیں ہوتی۔ ایک دور ایسا بھی آیا کہ ان کی لسٹ میں ایک نام دیکھ کر مجھے اردو شاعری سے بھی نفرت ہو گئی تھی، مگر پھر دل کو سمجھا ہی لیا۔

دفتر میں بھی جب کوئی مشکل فیصلہ کرنا ہوتا، تو کبھی میں فائل آگے بھیجتے ہوئے لکھ دیتی: Let’s pause for a while۔ شاید میں فیصلے سے پہلے خود کو اور دوسروں کو کچھ مہلت دینا چاہتی تھی؛ شاید دل کے کسی کونے میں یہ خواہش بھی ہوتی تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ فیصلہ خود ہی آسان ہو جائے گا۔ مگر فائلیں ہمیشہ کے لئے رکی نہیں رہ سکتی تھیں۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آتیں، اور بالآخر مجھے ان پر Approved لکھنا ہی ہوتا تھا۔

زندگی کے بعض فیصلے بھی شاید ایسی ہی فائلیں ہوتے ہیں۔ ہم انہیں دل کی میز پر ایک طرف رکھ دیتے ہیں، ان پر وقت کی گرد جمنے دیتے ہیں، مگر ایک دن انہیں کھولنا ہی پڑتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دفتر کی فائل پر Approved لکھ کر اسے بند کیا جا سکتا ہے؛ دل کے بعض فیصلوں پر رضامندی کی مہر لگانے کے بعد بھی کہانی ختم نہیں ہوتی۔

میرا بیڈ روم بھی کسی نہ کسی معنی میں بھرا ہوا تھا۔ لیڈی ڈیانا کا اپنی شادی کے بارے میں کہا گیا جملہ یاد آتا ہے:

“There were three of us in this marriage, so it was a bit crowded.”

کسی رشتے میں بھیڑ صرف لوگوں کی نہیں ہوتی؛ توقعات، محرومیاں، غیرحاضریاں اور ادھورے خواب بھی جگہ گھیر لیتے ہیں۔

ایک صوفی مزاج دوست نے ایک بار میری اللہ سے ناراضی پر کہا: ’’اللہ سے صلح کیوں نہیں کر لیتیں؟ تمہاری یک طرفہ ناراضی سے اللہ کو کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘

اس وقت یہ بات بری لگی تھی۔ بعد میں سوچا کہ یک طرفہ محبت اور یک طرفہ ناراضی میں شاید کوئی مماثلت ہے۔ ہم اپنے اندر ایک پوری کہانی لکھ سکتے ہیں، اس میں سوال اٹھا سکتے ہیں، شکوے کر سکتے ہیں، اپنے دلائل پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن جس کے نام یہ سب لکھا گیا ہو، ضروری نہیں کہ وہ کبھی اسے پڑھے بھی۔

پھر زندگی میں کچھ ملاقاتیں ہوتی ہیں۔

کچھ ملاقاتیں برسوں پر محیط ہوتی ہیں اور پھر بھی یاد میں کوئی خاص جگہ نہیں بنا پاتیں۔ کچھ ملاقاتیں صرف پندرہ منٹ کی ہوتی ہیں، مگر ایک صدی کی طرح ٹھہر جاتی ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے ایک ایسی ہی ملاقات ہوئی۔ اس سے پہلے خط و کتابت تھی—ایسی گفتگو جس میں ذہانت، شوخی اور ایک دوسرے کو حیران کرنے کی گنجائش موجود تھی۔ لفظوں کے درمیان ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ لیکن لفظوں سے بنائی ہوئی عمارت اور حقیقت میں کسی کمرے کے اندر بیٹھنا دو الگ تجربے ہیں۔

مجھے کسی فلمی منظر کی توقع نہیں تھی۔ بس یہ امید تھی کہ گفتگو میں وہی روانی، وہی ذہنی قربت اور وہی بے تکلفی ہوگی جو خطوں میں محسوس ہوئی تھی۔ لیکن وہاں سوال زیادہ تھے، جواب کم۔ کچھ ذاتی دروازوں پر دستک ہوئی، مگر گفتگو اس مقام تک نہ پہنچی جہاں تک خطوں نے مجھے پہنچنے کا احساس دلایا تھا۔

یہ شکایت نہیں کہ دوسرا شخص میری توقعات پر پورا نہیں اترا۔ میں بھی وہ عورت نہ تھی جو خطوں میں تھی، اور وہ بھی وہ شخص نہ ہو جو لفظوں میں دکھائی دیتا تھا۔ خط جھوٹ نہیں ہوتے، لیکن وہ پوری کہانی بھی نہیں ہوتے۔ ہم ان میں اپنا بہترین حصہ بھیجتے ہیں؛ کبھی انجانے میں، کبھی شعوری طور پر۔ ملاقات میں انسان اپنی خاموشیوں، اپنی جلدبازی، اپنی جھجک اور اپنے تضادات سمیت سامنے آتا ہے۔

مجھے Scent of a Woman کا کردار فرینک سلیڈ یاد آیا—ایک عمر رسیدہ، نابینا، ریٹائرڈ فوجی افسر، تلخ مزاج، حاضر جواب، دل کش اور بعض اوقات بے حد کٹھن۔ اس کی شخصیت میں تلخی بھی تھی اور زندگی کو بھرپور انداز میں محسوس کرنے کی خواہش بھی۔ اس کی بینائی ختم ہو چکی تھی، مگر فلم کا سوال صرف یہ نہیں تھا کہ وہ دیکھ نہیں سکتا؛ سوال یہ بھی تھا کہ دیکھ سکنے والے لوگ اپنے سامنے موجود انسان کو واقعی دیکھتے بھی ہیں یا نہیں۔

فلم میں وقت اور زندگی کے بارے میں ایک خیال ہے: کبھی ایک لمحہ پوری زندگی جتنا محسوس ہو سکتا ہے۔ اس وقت یہ محض ایک دل کش فلمی خیال لگا تھا۔ معلوم نہیں تھا کہ ایک روز پندرہ منٹ کی ملاقات کے بعد میں اسی خیال کی طرف لوٹوں گی۔

کیا واقعی ایک لمحہ پوری زندگی ہوتا ہے؟ شاید نہیں۔ پندرہ منٹ، پندرہ منٹ ہی رہتے ہیں۔ ان سے کوئی رشتہ ثابت نہیں ہوتا، نہ کسی دوسرے کے دل کا حال معلوم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کبھی کوئی مختصر ملاقات ہمارے اندر پہلے سے موجود سوال کو روشن کر دیتی ہے۔ وہ دوسرے شخص کے بارے میں کم اور اپنے بارے میں زیادہ بتاتی ہے—ہم کیا چاہتے ہیں، کس چیز کی امید رکھتے ہیں، اور کن امکانات کو حقیقت سے پہلے ہی اپنے اندر جگہ دے چکے ہوتے ہیں۔

لوگ اسے twin flame کہیں، اتفاق کہیں یا عمر کے کسی موڑ پر اچانک کھل جانے والی ایک پرانی کھڑکی—نام سے حقیقت نہیں بدلتی۔ ہر دل کش شخص ہماری کہانی کا کردار بننے کے لئے نہیں آتا۔ کبھی وہ صرف ایک آئینہ ہوتا ہے، جس میں ہم اپنی خواہش، اپنی محرومی اور اپنی دیرینہ آرزو کو دیکھ لیتے ہیں۔

کاش تم پہلے ملے ہوتے—ہزار زندگیوں پہلے۔

یہ کوئی مطالبہ نہیں، کوئی الزام نہیں۔ صرف ایک نامکمل امکان کا دکھ ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اگر وقت مختلف ہوتا تو کہانی بھی مختلف ہوتی یا نہیں۔ شاید کچھ بھی نہ بدلتا۔ شاید ہم وہی لوگ رہتے، اپنے اپنے تضادات کے ساتھ۔ لیکن دل کبھی کبھی اس زندگی کا ماتم بھی کرتا ہے جو گزری نہیں، جسے ہم نے جیا نہیں، اور جس کے بارے میں جاننے کا اب کوئی راستہ نہیں۔

شاید اسی لئے مجھے محبت سے ڈر لگتا ہے، مگر محبت سے انکار نہیں۔ میں اب بھی اس کی قوت کو مانتی ہوں، لیکن یہ بھی جانتی ہوں کہ ہر احساس کو انجام نہیں ملتا، ہر خط ملاقات میں نہیں ڈھلتا، اور ہر ملاقات کسی رشتے کا آغاز نہیں ہوتی۔ بعض تجربات کی معنویت ان کے نتیجے میں نہیں، ان سوالوں میں ہوتی ہے جو وہ ہمارے اندر چھوڑ جاتے ہیں۔

اور میری میتھس کمزور ہے۔ اب تک calculate نہیں کر سکی کہ کیا پندرہ منٹ صرف پندرہ منٹ ہوتے ہیں؟

مزیدخبریں