عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک اور خط لکھنے کا دعویٰ، الزامات دہرا دیئے

عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری اس مبینہ خط میں لکھا گیا کہ میں نے ملک و قوم کی بہتری کی خاطر نیک نیتی سے آرمی چیف (آپ) کے نام کھلا خط لکھا، تاکہ فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کیا جا سکے مگر اس کا جواب انتہائی غیرسنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا،سیکورٹی ذرائع نے پہلا خط نہ ملنے کی بات کی تھی

01:38 PM, 8 Feb, 2025

نیوز ڈیسک

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے آرمی چیف کے نام ایک بار پھر کھلا خط لکھا ہے، جس میں مبینہ طور پر فوج اور عوام میں بڑھتی ہوئی دوریاں کم کرنے کی درخواست کی ہے، خط میں فوج کو اپنی آئینی حدود میں واپس جانے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔

عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری اس مبینہ خط میں لکھا گیا کہ ’میں نے ملک و قوم کی بہتری کی خاطر نیک نیتی سے آرمی چیف (آپ) کے نام کھلا خط لکھا، تاکہ فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کیا جا سکے مگر اس کا جواب انتہائی غیرسنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا۔خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنما کہہ چکے ہیں عمران خان کے اس اکاؤنٹ پر جاری کردہ پیغامات بانی کی ہدایت پر ہی جاری کیے جاتے ہیں۔

اس سے قبل بھی عمران خان کی جانب سے ایک کھلا خط آرمی چیف کے نام لکھا گیا تھا، تاہم سکیورٹی ذرائع نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ آرمی چیف کو کوئی خط موصول نہیں ہوا۔ اڈیالہ جیل انتظامیہ نے بھی خط لکھے جانے کی تردید کی تھی۔

جس کھلے خط کا ذکر کیا جا رہا ہے، اس میں عمران خان نے لکھا کہ ’میرا جینا مرنا صرف اور صرف پاکستان میں ہے۔ مجھے صرف اور صرف اپنی فوج کے تاثر اور عوام اور فوج کے درمیان بڑھتی خلیج کے ممکنہ مضمرات کی فکر ہے، جس کی وجہ سے میں نے یہ خط لکھا۔ میں نے جن 6 نکات کی نشاندہی کی ہے ان پر اگر عوامی رائے لی جائے تو 90 فیصد عوام ان نکات کی حمایت کرے گی۔

عمران خان نے اپنے اس خط میں ’الیکشن میں دھاندلی اور نتائج میں تبدیلی، چھبیسویں آئینی ترمیم، من پسند ججز کی بھرتیاں، پیکا کا اطلاق کرنے، سیاسی عدم استحکام سے ملک کی معیشت کی تباہی اور ریاستی اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انجینئیرنگ اور سیاسی انتقام میں شامل کرنے‘ جیسے چھ نکات کی نشاندہی کی گئی۔

مذکورہ خط میں مزید کہا گیا کہ ’دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو۔‘

خط میں نے آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’فوج کو اپنی آئینی حدود میں واپس جانا ہوگا۔ سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی متعین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا ہوگا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصطلاح میں فالٹ لائنز بن جائے گی۔عمران کے آرمی چیف کے نام خط کا مقصد فوج اور عوام کے درمیان فرق ڈالنا ہے، رانا ثنا اللہ

خط میں مزید کہا گیا کہ ’9 مئی اور 26 نومبر کو ہمارے نہتے جمہوریت پسند کارکنان پر ظلم و تشدد کی انتہا کر دی گئی۔ پر امن شہریوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں۔ سیاسی انتقام کی آڑ میں تین سال میں لاکھوں شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، ہمارے 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کو گرفتار کیا گیا۔‘

عمران خان نے لکھا کہ ’میری اہلیہ، ڈاکٹر یاسمین راشد ، میری دونوں بہنوں سمیت سمیت سیکڑوں خواتین کو بے جا پابند سلاسل رکھا گیا۔ ہمارے دین کا حکم تو یہ ہے کہ جنگی حالات میں دشمن کی عورتوں اور بچوں سے بھی بدسلوکی نہ کی جائے۔ یہ سب ہماری روایات کے منافی ہے اور اس کی وجہ سے عوام میں فوج کے خلاف نفرت بہت بڑھ گئی ہے جس کا سدباب بروقت ہو جائے تو یہ فوج اور ملک دونوں کے حق میں بہتر ہے ورنہ اس سب سے ناقابل تلافی خسارہ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔‘

عمران خان نے کہا ہے کہ چاہے ادارہ ہو یا اُس کا سربراہ، فوج ہماری ہے، بیرسٹر گوہر

خط میں کہا گیا کہ ’پیکا جیسے کالے قانون کے ذریعے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہو رہا ہے۔‘

خط میں کہا گیا کہ ’سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معیشت کا برا حال ہے اور سرمایہ کار اور ہنرمند افراد مجبور ہو گئے ہیں کہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو جائیں۔‘

مزیدخبریں