ایف بی آر کی مستقل ناکامیاں اور مربوط ٹیکس اصلاحات کی ضرورت

اخراجات کے احتساب کی کم ڈگری نے ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام کو بار بار تنظیم نو کے لیے مزید کمزور بنا دیا ہے، آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ختم کرنے کی ذمہ داری صرف ایف بی آر کے کندھوں پر ڈالنے سے کامیابی نہیں ہوگی، ریاستی چور، راشد جاوید رانا

05:43 PM, 9 Jan, 2025

حذیمہ بخاری، ڈاکٹر اکرام الحق

پاکستان کو ایک دہائی تک کم از کم 8 فیصد پائیدار شرح نمو درکار ہے تاکہ صرف اپنے نوجوانوں کو ہر سال 30 لاکھ سے زائد ملازمتیں فراہم کی جا سکیں، لیکن موجودہ غیر منصفانہ اور کاروبار مخالف ٹیکس نظام کے تحت یہ ممکن نہیں ہے۔ ٹیکس کا منصفانہ نظام آسانی سے صرف وفاقی سطح پر 34 ٹریلین روپے کے محصولات حاصل کر سکتا ہے جو پاکستان کے پورے مالیاتی منظر نامے کو تبدیل کر سکتا ہے۔
ان کالموں میں اور دوسرے بہت سے جریدوں میں ، 1996 سے لگاتار، ایک ٹھوس ایجنڈا پیش کیا گیا، جس میں معیشت کی تیز رفتار ترقی اور اس کے لئے لیے مطلوبہ سرمایاکاری اور پوری آبادی کو عالمی طور پر تسلیم شدہ بنیادی حقوق فراہم کرنے کے لیے، ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کی تجویز پیش کی گئی۔ اگر اس کو نافذ کر لیا جائے تو حکومت اپنے قرضوں کو آسانی سے ادا کر سکتی ہے، جس سے پاکستان کو ایک خود کفیل ملک بنایا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں جاری کردہ  حکومتی 13 ویں پانچ سالہ (2024-29) منصوبے اڑا ن پاکستان کا مرکزی خیال بھی خود کفالت کی منزل ہی ہے۔ تاہم یہ خواب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ہوتے ہوئے اور اس کے انداز فکر کو بدلے بغیر تو ہر گز پورا نہیں کیا جا سکتا ۔
کاغذوں پر ایف بی آر ایک خودمختار ادارہ ہے جسے پارلیمنٹ کے ایک قانون، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ 2007 کے ذریعے بنایا گیا ہے، لیکن عملی طور پر یہ وقت کے حکمرانوں کی باندی ہے جن کے حکم پر یہ ٹیکس چوروں اور نان فائلرز کے محافظ کا کردار ادا کرتی ہے۔ ایف بی آر کی اصلاحات (sic) کی تاریخ  سے  پتہ چلتا ہے کہ اس نے کروڑوں ڈالر کے ادھار فنڈز کو بے دردی سے ضائع کیا۔
مندرجہ ذیل کچھ حالیہ کتابیں/ پیپرز/ رپورٹس ہیں جو کہ غیر متضاد ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے ایف بی آر کی خراب کارکردگی کو بے نقاب کرتی ہیں۔ یہ محققین، ماہرین تعلیم، ٹیکس دہندگان، ٹیکس ایڈوائزرز، ٹیکس ایڈمنسٹریٹرز، صحافیوں اور میڈیا اینکرز کے لیے مفید ذرائع ہیں جو یہ جاننے کے خواہشمند ہیں کہ ایک غیر فعال ریاستی ادارہ ،جس کے پاس بے مثال اور بے لگام اختیارات ہیں، حتیٰ کہ قوانین بنانے کے لیے بھی، وہ کس طرح معیشت کی بنیاد اور معاشرے کے تانے بانے کو تباہ کر سکتا ہے :
·      Tax Reforms in Pakistan Historic and Critical View

·      Towards Flat Low Rate Broad And Predictable Taxes 

·      "The Jagga Tax" and Psychodynamics of Tax Morale in Pakistan

·      Why does Pakistan tax so little?

·      Pakistan's narrow tax base: Failures so far, challenges ahead

·      Broadening of Tax Base: Policy Challenges and the Way Forward

 ایف بی آر کے موجودہ چیئرمین نے، ایک خبر کے مطابق، تقریباً 386 بلین روپے کے بھاری مارجن کے ساتھ ششماہی ہدف پورا نہ کرنےپر ، فاتحانہ طور پر دعویٰ کیا۔”ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب پہلی ششماہی میں بڑھ کر 10.8 فیصد ہو گیا، جو آئی ایم ایف کے 10.6 فیصد کے سالانہ ہدف سے بہتر تھا“۔ یہ بیان پاکستان کی معیشت کی زمینی اور بنیادی حقیقتوں سے لا علمی کا مظہر ہے۔ آزاد ماہرین کے مطابق پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی اس سے دوگنی ہے ،جس کا حکومت اپنی سرکاری اشاعتوں میں دعویٰ کرتی ہے۔ یہاں تک کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2010 کی ایک سرکاری رپورٹ میں غیر رسمی، غیر دستاویزی اور غیر رپورٹ شدہ معیشت کا حجم سرکاری جی ڈی پی کا 67 فیصد بتایا تھا۔ اگر ہم  غیر رسمی معیشت بھی شامل کریں تو یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس کی اصل استعداد سے بہت کم محصولات وصول کر رہا ہے۔
موجودہ چیئرمین ایف بی آر نے 24 دسمبر 2024 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو ٹیکس قوانین (ترمیمی) بل 2024 کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا۔ ” پاکستان ایک غریب ملک ہے اور 90% سے %95 لوگ ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتے“۔ یہ دعویٰ پاکستان میں ٹیکس کی بنیاد کے بارے میں وفاقی اعلیٰ ریونیو اتھارٹی کے سربراہ کی سمجھ کی سطح کو مزید ظاہر کرتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کم از کم 120 ملین منفرد موبائل صارفین سے ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل انکم ٹیکس کیوں وصول کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے %90/%95، چیئرمین ایف بی آر کے اپنے اعتراف کے مطابق، قابل ٹیکس آمدنی نہیں رکھتے تو پھر ریاست کی طرف سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے”آئین“ کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے وصول کی گئی رقم واپس ہونی چاہیے ۔
مندرجہ بالا کی روشنی میں، کیا ایف بی آر وفاقی بجٹ 2024-25 میں تفویض کردہ ٹیکس ہدف 12970 بلین روپے ، چیئرمین کے دعوے کے مطابق صرف 5-10 فیصد قابل ٹیکس آبادی ، سے اکٹھا کر سکتا ہے؟ 26 دسمبر 2024 کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک کی موجودگی میں ایک حیران کن انکشاف کیا۔”حکومت پاکستان میں ٹیکس کے بڑھتے ہوئے خلا (gap)سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، جو اس وقت 7.1 ٹریلین روپے ہے۔ اس میں سے2.4 ٹریلین روپے خاص طور پر انکم ٹیکس سے منسوب ہیں“۔
چیئرمین ایف بی آر جو ٹیکس قوانین (ترمیمی) بل 2024 کے ذریعے غیر معمولی اختیارات چاہتے ہیں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سامنے اپنی بریفنگ کے صرف دو دن بعد اعتراف کیا کہ ایف بی آر کی نااہلی یا صلاحیت کی کمی کی وجہ سے ملک میں ٹیکس خلا (tax gap) اب 7.1 ٹریلین روپے کی خطرناک سطح پر ہے ۔ ایف بی آر نے اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر2022 میں چند غیر سرکاری ماہرین سے ٹیکس گیپ اسٹڈی (tax gap study) کروائی تھی ،جس میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ملک میں ٹیکس کی اصل استعداد صرف9 ٹریلین روپے ہے اور فرق (gap) صرف 3 ٹریلین روپے ہے۔ مالی سال 2022 میں ایف بی آر کی سطح پر لگ بھگ6 ٹریلین روپے کے محصولات جمع ہوئے تھے ۔ ایف بی آر کی جانب سے 2022 کے لیے سرکاری ٹیکس فرق کا مطالعہ (Tax Gap Study 2022)، جو اس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے، میں ٹیکس خلا (tax gap) صرف 1.289 ٹریلین روپے  دکھایا گیا ہے! 
امید ہے کہ چیئرمین ایف بی آر عوام کے ساتھ ایف بی آر کی ویب سائٹ پر7.1 ٹریلین روپے کے ٹیکس فرق (tax gap)کے دعوے کی بنیاد کو شیئر کریں گے۔ اس سے قبل سابق چیئرمین عاصم احمد نے کسی اور اسٹڈی کا حوالہ دیتے ہوے انکشاف کیا تھا :”ہم نے پایا ہے کہ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں محصولات کی کل صلاحیت 9,000 بلین روپے ہے جس میں سے ایف بی آر نے 6,000 بلین روپے اکٹھے کیے اس لیے ٹیکس کا فرق کا سالانہ بنیادوں پر 3000 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے“۔ 
اوپر ظاہر کردہ متضاد اعداد و شمار بظاہر ثابت کرتے ہیں کہ ایف بی آر سائنسی طور پر آج تک ٹیکس کی اصل استعداد (potential) اور ٹیکس وصولی کے فرق کا درست تخمینہ نہیں لگا سکا۔ اس صورت حال میں ایف بی آر کی جہاں بھی واجب الادا ٹیکس جمع کرنے کی صلاحیت کے بارے میں خدشات کافی وزن رکھتے ہیں اور اس ضمن میں ، لاہور میں اخبار کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ناصر جمال نے اپنے حالیہ مضمون میں شاندار طریقے سے روشنی ڈالی ہے!
رواں مالی سال میں ایف بی آر کی کارکردگی، ایک رپورٹ کے مطابق، انتہائی غیر تسلی بخش رہی۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”... غیر حقیقی ہدف کے قریب پہنچنے کے لیے،  بڑے پیمانے پر تیسری سہ ماہی (جنوری-مارچ 2025) کے لئے واجب الادا ایڈوانس ٹیکس کا سہارا لینا پڑا . پیر کو تقریباً 89 بلین روپے کے ایڈوانس لئے گئے . ان میں سے زیادہ تر ایڈوانس ٹیکسز کراچی میں لیے گئے۔ 2024 کے آخری دن یعنی منگل کو 277 بلین روپے کی وصولی بے مثال نظیر تھی ۔ گزشتہ روز ایف بی آر کو صرف ایک ہی دن میں انکم ٹیکس کی مد میں 207 ارب روپے موصول ہوئے“۔
 سال 2024 کے آخری دو دنوں کی غیر معمولی وصولی میں کمرشل بینکوں سے تقریباً 75 ارب روپے شامل تھے۔ 29 دسمبر 2024 کوجاری کیے گئے فوری نافذ العمل صدارتی آرڈیننس، انکم ٹیکس (ترمیمی) آرڈیننس، 2024 کے تناظر میں ، ٹیکس سال 2024 کے لیے کمرشل بینکوں کی انکم ٹیکس کی شرح 39 فیصد سے بڑھا کر 44 فیصد کر دی گئی جس کے بدلے میں حکومت کو دیئے گئے قرضوں سے حاصل ہونے والے منافع پر اضافی 15 فیصد ٹیکس معاف کر دیا گیا!
رپورٹ کے مطابق پہلے ششماہی میں اہداف کے مقابلے میں وصولی درج ذیل رہی:
• انکم ٹیکس کی مجموعی وصولی 2.78 ٹریلین روپے، جب کہ ہدف 2.524 ٹریلین روپے تھا ، اس طرح 256 ارب روپے کی اضافی رقم حاصل کی گئی۔
• سیلز ٹیکس کی1.9 ٹریلین روپے کی وصولی ہدف 2.277 ٹریلین روپے کے مقابلے میں179 بلین روپے کم رہی۔ 
• کسٹمز کی مجموعی وصولی598 ارب روپے ہدف کے 754 ارب روپے کےمقابلے میں 156 ارب کم رہی۔ 
• فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تحت مجموعی وصولی 347 ارب روپے ریکارڈ کی گئی جبکہ ہدف 454 ارب روپے تھا۔اس طرح 107 ارب روپے کم وصول ہوئے ۔
انکم ٹیکس کے علاوہ، جہاں 96 فیصد وصولی ود ہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس اور گوشواروں کے ساتھ ادا کردہ ٹیکس کے ذریعے ہوتی ہے، ایف بی آر دیئے گئے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
 ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران اس نے 275 بلین روپے کے ریفنڈز کی ادائیگی کی، جب کہ2023 کی اسی مدت کے دوران ادائیگی 234 بلین روپے تھی۔ ٹیکس گزاروں کا دعوی ہے کہ تقریبا 800 بلین روپے کے غیر متنازعہ ریفنڈز ادا نہیں کیے گئے ہیں — ایف بی آر اس کی تردید کرتا ہے، لیکن اپنی ویب سائٹ پر درست اعداد و شمار نہیں دیتا۔ ہمیں وفاقی ٹیکس محتسب کے تحت ایک خودمختار کمیٹی کی ضرورت ہے، جو اس تنازعہ کی تحقیقات کرکے اسے ہمیشہ کے لیے حل کرے۔ اس کے بعد خالص وصولی کا تعین ہو سکے گا جو ایف بی آر کی حقیقی کارکردگی کا مظہر ہو گا۔
ورلڈ بینک نے پاکستان ریزز ریونیو (PRR) پروگرام سے متعلق ایک تشخیصی مقالے میں”مخصوص مفادات کی ٹیکس چھوٹ کے لیے لابنگ، اندرونی تناؤ اور ایف بی آر کے عملے کی اصلاحات کے بارے میں مزاحمت، اور صوبوں کو متاثر کرنے والے ممکنہ تنازعات کو ٹیکس نظام میں بہتری کے عمل کے لیے خطرے کے عوامل قرار دیا ہے“۔
رواں مالی سال کے بقیہ چھ مہینوں کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ: کیا حکومت کے پاس بجٹ کے مطابق اور مالی سال 2025 کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی پیشن گوئی کے مطابق 8500 بلین روپے کے بھاری مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے کوئی قابل عمل منصوبہ ہے؟ کیا ورلڈ بینک کی طرف سے اپنے 400 ملین امریکی ڈالر کے پاکستان ریونیو میں اضافہ پراجیکٹ کے تحت تجویز کردہ اقدامات یا آئی ایم ایف کی طرف سے عائد کردہ شرائط مالی سال 2025 کے بجٹ میں مختض قرض کی خدمت کے9775 ارب روپے کے خوفناک چیلنج کو پورا کرنے میں مدد کریں گے ؟
اگر ایف بی آر اس سال 12.9کھرب روپے جمع کر بھی لے تو اس کا 57.5 فیصد صوبوں کو جائے گا اور وفاقی حکومت کے پاس5000 ارب روپے سے زیادہ نہیں بچے گا (کسٹم کلیکشن این ایف سی ایوارڈ کا حصہ نہیں ہے)۔ 7ویں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کی شرائط میں صوبوں کے حصص کی منتقلی کے بعد وفاقی حکومت ٹیکس کے طور پر جو رقم رکھتی ہے اس سے زیادہ تو صرف قرض کی خدمت کا خرچہ ہے۔ اس کا علاج کیا ہے؟ مزید رجعتی/جابرانہ ٹیکسوں سے معیشت کو تباہ کرنا یا فضول خرچی کو کم کرنا— صرف ہمارے جاری اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے جو رواں سال کے بجٹ کے تخمینوں میں جی ڈی پی کے 20فیصد تک ہے۔
اصل خرابی یہی فضول خرچی ہے، جیسا کہ راشد جاوید رانا نے ریاستی چوروں(Thieves of State)میں بجا طور پر نشاندہی کی ہے، ” محصولات کی وصولی میں اصلاحات کی بھرپور مہم مروجہ علامات کو سمجھے بغیر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتی جیسے کہ سماجی ٹیکس کلچر کی کمی، مساوات کی عدم موجودگی اور شفاف حکومتی اخراجات. صرف ایف بی آر کے کندھوں پر آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ختم کرنے کی ذمہ داری ڈالنا سود مند ثابت نہیں ہو گا“۔ 
مقررہ اہداف کو پورا کرنے میں ایف بی آر کی مستقل ناکامی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر سال ایف بی آر نظرثانی شدہ ہدف بھی حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے ، بجٹ میں اصل تفویض کئے  گئےٹارگٹ  کا توذکر ہی کیا ، کیونکہ ٹیکس چور سیاسی آقاؤں کے پسندیدہ ہیں۔ ان کی کرپشن کے خلاف محض الفاظی، جس میں ٹیکس چوری بھی شامل ہے، ایک بدصورت مذاق بن چکا ہے.
مسلسل بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ، جس کے نتیجے میں مزید قرضے لینے اور قرض کی خدمت کے لیے بجٹ کا ایک بڑا حصہ وقف ہو جاتا ہے، اس وقت تک کم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ (i) ہم غیر پیداواری/ فضول خرچوں کو 30 فیصد تک کم نہ کر دیں (ii) غیر ٹیکس محصولات میں اضافہ جس کے لئے قیمتی سرکاری زمینیں اور اثاثے مثلاً GORs اور محل نما سرکاری مکانات وغیرہ کو عوامی نیلامی کے ذریعے مخصوص معاشی سرگرمیوں کے لیے روزگار پیدا کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے لیز پر دینا ہو گا اور (iii) تمام سطحوں— وفاقی، صوبائی اور مقامی — پر سادہ، کم شرح اور وسیع البنیاد ٹیکسز کا نفاذ، جن کی آسانی سے ادائیگی ہو سکے ۔
یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں عوام اور کاروبار کے لئے نقصان دہ ٹیکس پالیسیوں کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ وہ 'ریاست کے چوروں' ( Thieves of State) کو عام معافی اور استثنیٰ کے ذریعے قومی خزانے کو نا قابل تلافی نقصان پہچانے اور فضول اخراجات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ شرحوں میں کمی، موثر نفاذ اور غیر پیداواری/فضول اخراجات میں کمی کے ذریعے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کے لیے کسی بھی حکومت نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے۔
بدقسمتی سے، آج تک، ایف بی آر ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے میں بڑی کامیابی کا دعویٰ کرتا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ حقیقی آمدنی کے قریب قریب ٹیکس ادا کرنے والے اپنے کھوئے ہوئے ریٹرن فائلرز کو واپس حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب ایف بی آر کو 40 لاکھ سے زائد ریٹرن ملتے تھے جس میں ٹیکس کی خاطر خواہ رقم اور ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب 12 فیصد تک تھا! 
ایف بی آر کے ذمہ داروں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا غلط ہوا ہے اور یہ ٹیکس دہندگان کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ بہت سے مصنفین بلند شرح کے بالواسطہ ٹیکس کے تباہ کن اثرات اور ودہولڈنگ ٹیکس کے بہت زیادہ بوجھ کے بارے میں وارننگ دیتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت نے کم آمدنی کی سطح پر بھی ان پر اصرار کیا اور نتیجہ اب ہمارے سامنے ہے، بڑے پیمانے پر ٹیکس کی چوری اور قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ یہ اصل واجب الادا ٹیکس ادا کرنے والے فائلرز کی تعداد میں کمی اور ود ہولڈنگ ٹیکس کے نظام میں بڑے پیمانے پر بد عنوانی سے ظاہر ہے۔ 
پاکستان کے ظالمانہ ٹیکس نظام کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایک طرف ریاست مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے پر آمادہ نہیں اور دوسری طرف انفرادی انکم ٹیکس ادا کرنے کی اہلیت کا تعین کرنے کے لیے خاندانی حالات کے حوالے سے غیر حساس ہے، جوآئین کے آرٹیکل 3 کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
مہذب، جمہوری ممالک میں، انکم ٹیکس کے قوانین اکیلے یا خاندان کے ساتھ رہنے کی لاگت کو تسلیم کرتے ہیں- بچوں کی پرورش کے اخراجات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس طرح قوانین خاندان کے سائز کے مطابق کٹوتیوں/الاؤنسز کی اجازت دیتے ہیں۔ پاکستان میں ایف بی آر نہ صرف ایسے کسی الاؤنس یا کٹوتی سے انکار کرتا ہے بلکہ کم آمدنی والے افراد اور ان کے خاندان سے بھی ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کرتا ہے جن کی کوئی قابل ٹیکس آمدنی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ہر موبائل فون صارف سے ۔ اس پر مزید ظلم یہ کہ ایف بی آر ان سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی توقع رکھتا ہے تاکہ پیشگی وصول گئی انکم ٹیکس کی رقم بطور ریفنڈ حاصل کی جا سکے، جبکہ اسے حاصل کرنے کی لاگت واجب الادا رقم سے کہیں زیادہ ہے اور ریٹرن فائل کرنے کے بعد ہراساں کیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں بنیادی طور پر آئی ایم ایف کے حکم پر ٹیکس محصولات میں اضافے کی اہمیت پر زور دیتی رہی ہیں لیکن ناقص اور غیر معقول ٹیکس پالیسی نے ہماری معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ 
پاکستان میں مالیاتی نظام امیروں کے لیے ہے یا حکومت کو قرض دینے کے لیے، اس طرح چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو معاشی ترقی کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ ایسے حالات میں، کاروباری اداروں سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ وقت سے پہلے ہی مختلف ودہولڈنگ پروویژنز کے ذریعے بھاری ٹیکس ادا کریں، اس سے پہلے کہ وہ یہ بھی جان لیں کہ ان کی آمدنی کیا ہونے والی ہے، تباہی کا ایک یقینی نسخہ ہے۔ اس کا مقصد ٹیکس چوری کا مقابلہ کرنا ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ صرف درمیانے کاروباری اداروں کو تباہ کر رہا ہے۔
یہ ہے پاکستان میں ٹیکس اصلاحات کی تلخ کہانی ۔۔یہاں تک کہ جب800 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ فنڈز اور بہترین پیشہ ورانہ ماہرین دستیاب تھے۔ پاکستان میں ٹیکس کا اصل مسئلہ امیروں اور طاقتوروں کو خوش کرنا اور اشرافیہ کی آسائشوں پر بے دریغ خرچ کرنا ہے جو کہ بجٹ میں بڑے خسارےکی بنیادی وجہ ہیں۔ ایسی غلط پالیسیاں عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافے کی ذمہ دار ہیں۔
 اقوام متحدہ کے 2024 گلوبل ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس (MPI) کے مطابق، 93 ملین پاکستانی اس وقت یومیہ 2.15 ڈالر سے کم کمائی پر زندگی گزار رہے ہیں، جنہیں شدید غربت کا سامنا ہے۔ اس بحران سے نکلنے کے لیےحل، وسیع البنیاد، کم شرح اور قابل پیشن گوئی محصولات (پرائم، اکتوبر2024) ، میں تجویز کیا گیاہے۔

مزیدخبریں