ترکیہ بھی پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے کا حصہ بننے کے قریب: بلوم برگ

اگر ترکی اس اتحاد میں باضابطہ شمولیت اختیار کرتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا، کیونکہ ماضی میں دونوں ممالک سنی مسلم دنیا کی قیادت کے حریف سمجھے جاتے تھے۔ باخبر ذرائع کے مطابق بات چیت ایک حتمی مرحلے پر ہے اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔

11:32 PM, 9 Jan, 2026

نیوز ڈیسک

باخبر ذرائع کے مطابق ترکی سعودی عرب اور جوہری صلاحیت رکھنے والے پاکستان کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے کا خواہاں ہے، جس سے ایک نئے سیکیورٹی اتحاد کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جو مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔

یہ معاہدہ، جو ستمبر میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ابتدائی طور پر طے پایا تھا، اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کسی ایک ملک کے خلاف “کسی بھی جارحیت” کو سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں ترکی امریکا کے بعد سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق بات چیت ایک حتمی مرحلے پر ہے اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے، تاہم انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی۔

ذرائع کے مطابق، اس توسیع شدہ اتحاد کی منطق یہ ہے کہ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکی کے مفادات تیزی سے سعودی عرب اور پاکستان کے مفادات سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔ ترکی اس معاہدے کو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتمادیت اور نیٹو کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عزم پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک کے ساتھ مضبوط فوجی تعلقات ہیں۔

انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاَو (TEPAV) سے وابستہ اسٹریٹیجسٹ نہات علی اوزجان کے مطابق، سعودی عرب مالی طاقت لاتا ہے، پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت ہے، جبکہ ترکی کے پاس جنگی تجربہ ہے اور اس نے ایک مضبوط دفاعی صنعت بھی ترقی دی ہے۔

اوزجان نے کہا، “جب امریکا خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے تو بدلتے ہوئے حالات اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو دوست اور دشمن کی شناخت کے لیے نئے طریقۂ کار اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔”

ترکی کی وزارتِ دفاع نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ سعودی حکام بھی ہفتے کے اختتام پر مملکت میں تبصرے کے لیے فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔

اگر ترکی اس اتحاد میں باضابطہ شمولیت اختیار کرتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا، کیونکہ ماضی میں دونوں ممالک سنی مسلم دنیا کی قیادت کے حریف سمجھے جاتے تھے۔ برسوں کی کشیدگی کے بعد اب دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ترک وزارتِ دفاع کے مطابق، اس ہفتے انقرہ میں دونوں ممالک کے درمیان پہلی مرتبہ بحری اجلاس بھی منعقد ہوا۔

دونوں ممالک شیعہ اکثریتی ایران کے حوالے سے طویل عرصے سے تشویش رکھتے ہیں، تاہم طاقت کے استعمال کے بجائے تہران سے روابط کو ترجیح دیتے ہیں۔ ترکی اور سعودی عرب شام میں ایک مستحکم سنی قیادت والی ریاست اور فلسطینیوں کے لیے ریاستی حیثیت کی بھی حمایت کرتے ہیں۔

دوسری جانب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے قریبی فوجی تعلقات قائم ہیں۔ انقرہ اسلام آباد کی بحریہ کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تعمیر کر رہا ہے اور پاکستان کے درجنوں ایف-16 طیاروں کو اپ گریڈ کر چکا ہے۔ ترکی پہلے ہی دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی شیئر کر رہا ہے اور اب چاہتا ہے کہ وہ اس کے کان (Kaan) پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے کے پروگرام میں بھی شامل ہوں، جیسا کہ بلومبرگ نے پہلے رپورٹ کیا تھا۔

یہ سہ فریقی دفاعی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے بعد ہو رہے ہیں، جس سے مئی میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان چار روزہ فوجی تصادم کا خاتمہ ہوا تھا۔

پاکستان اور اس کے شمالی پڑوسی افغانستان کے درمیان بھی کشیدگی برقرار ہے، کیونکہ اسلام آباد نے طالبان پر دشمن عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا ہے، جس کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ترکی اور قطر نے لڑائی ختم کرانے کے لیے مذاکرات میں ثالثی کی، تاہم یہ کوششیں بے نتیجہ رہیں۔

یہ بلوم برگ کی 9 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی خبر Turkey Said to Seek Membership of Saudi-Pakistan Defense Pact کا ترجمہ ہے۔

مزیدخبریں