دریائے سوات کے غائب انڈے اور سیلابی ریلے
شمالی پاکستان کے ضلع سوات میں صدیوں پرانی ایک روایت ہے ! " کا ڼړي د سيند اګئي دي، او دي شاربلو پسي به يوه ورځ سیند خامخا راځي" پتھر دریا کے انڈے ہیں اور ان کو سینے ایک دن دریا ضرور آئیگا۔ یہ روایت دریا سوات کنارے آباد مقامی لوگوں کے لئے قدرت کے ساتھ ہم اہنگی کی علامت تھی جو اب ٹنوں کنکریٹ تلے دب چکی ہے۔ جب کوئی گھر یا زرعی زمین کے لئے دریا کے آس پاس کھدائی کرتا اور اسے ہموار پتھر نظر آجاتے تو وہ فورا اپنے ارادے کو ترک کرتا، کیونکہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ سیلابی پانی یہاں تک آئیگا۔
دریائے سوات ہندوکُش پہاڑی سلسلے کے گلیشیئرز اور اُشو، گبرال ندیوں کے ذریعے نکلتا ہے، تقریباً 240 کلومیٹر طویل سفر کے بعد بالآخر کابل دریا میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ دریا گندھارا تہذیب کے علمی و ثقافتی مرکزوں کو بھی زندگی بخشتا رہا ہے۔ 27 جون کو دریا سوات سیلاب میں 13 بے بس سیاحوں کی ڈوبنے کی ویڈیو جب پوری دنیا دیکھ رہی تھی تو اس دوران سوات کے دوست ملٹی میڈیا جرنلسٹ عارف یوسفزئی سے رابطہ ہوا۔ عارف کے ساتھ دریا سوات پر پہلے بھی بحث اکثر ہوتی رہتی تھی۔ عارف نے اپنے دادا سے یہ روایت اور دریا میں سیلابی ریلوں کی کئی کہانیاں سنی ہے۔ عارف نے حالیہ سیلاب میں سیاحوں کو ریسکیو کرنے کی حوالے سے حکومتی و ریاستی بے حسی کو رپورٹ کیا ہے۔ تاہم اس عارف افسوس کیساتھ تاریخی روایت کی لاج رکھنے والوں کے بارے میں بتایا کہ اُن لوگوں کو گزرے ہوئے 40 سال ہوچکے ہیں۔ وہ انڈے جو دریا سے ایکڑوں دور مقامیوں کے لئے سیلاب کی پیشنگوئی تھی،اب اس کو ہڑپنے کے لئے حکومتی و غیر حکومتی لوگ دریا کے اندر تک آچکے ہیں۔ عارف نے بتایا کہ کرش مافیہ، ہوٹلز، سیاحتی و ترقیاتی ماڈل سے منافعہ حاصل کرنے والے حکومتی و غیر حکومتی افراد دریا کے انڈوں کے حوالےس ےس کوئی کوئی معلومات نہیں رکھتے۔
انسانی تہزیبوں کی دیومالاؤں میں سیلاب آنے کی پیشگی اطلاع
جسطرح سوات میں صدیوں سے مقامی لوگ ہموار پھتروں سے یہ اندازہ کر لیتے تھے کہ یہاں سیلابی پانی پہنچ سکتا ہے، اسی طرح قدیم انسانی تہزیبوں کی بھی سیلاب سے اشنائی تھی، بلکہ اگر ایسا کہا جائے کہ دنیا کے مختلف تہزیبوں کی دیو مالائیں سیلاب کے بغیر ادھوری ہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ چینی تہزیب میں عظیم سیلاب اور طوفان سے پیشگی اطلاع دیوتاوں میں ڈریگن دیوتا نے دی تھی جو بارش کا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔ چینی تہزیب میں پیلی ندی جس کا شمار چین کے بڑے دریاؤں میں ہوتا ہے کے کنارے آباد لوگوں کو سیلاب کی پیشکی اطلاع ملی تھی۔ اسی طرح بابلی تہزیب میں جب دیوتاؤں نے عظیم سیلاب سے دنیا کو تباہ کرنے کی ٹھان لی تو اکدی یا ایّا دیوتا نے پہلے انسان اوتناپشتیم کے زریعے بادشاہ گلگا مش کو بڑے سیلاب سے دنیا کی تباہی کے منصوبے سے پیشگی اگاہ کیا اور بتایا کہ اپنے خاندان، دوستوں اور مال ومتاع کے لئے ایک بڑا بیڑا تیار کردے۔ سمیری تہزیب کی دیو مالا میں بھی رہبر زِیؤسودرا کو خدا نے سیلاب سے محفوظ ہونے کی پیشگی اگاہی دی تھی۔ سمیری اور بابلی تہذیبیں میسوپوٹیمیا میں وجود رکھتی تھیں، دونوں تہذیبیں دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے کنارے آباد تھی، یہ مشرقِ وسطیٰ کے وہ علاقے تھے جن کو ہم موجودہ دورمیں عراق، کویت اور شام کے علاقے کہتے ہیں۔ مورخین میسوپوٹیمیا میں سیلاب سے پیشگی اطلاع کو اسلامی تہزیب سے بھی جوڑتے ہیں جس میں خدا نے حضرت نوح علیہ السلام کو بڑے سیلاب سے متعلق اگاہ کیا اور حکم دیا کہ ایک بڑا بیڑا تیار کروں اور اپنے خاندان، قبیلے کے ساتھ جنگلی جانوروں کی ایک جوڑی کو لیکر اپنی حفاظت کرو۔
2010 کے سیلاب پر چینج تھرو امپاورمنٹ (سی ای ٹی) ادارے اور مہردر نے ایک تفصیلی کتاب " سیلاب کو نہ روکئے رستہ بنائیے " کے نام شائع کی ہے جس میں خصوصا بلوچستان میں سیلابی تباہ کاریوں پر متعدد تحریریں، سیلابی اداب اورسیلابی تاریخ زیر بحث ہے۔ کتاب کے مطابق، یونانی، ہندو اور سمیری تہزیبوں کی دیو مالائیں بھی اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ ان لوگوں کو طوفانوں کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔
یاد رہے! دریائے سوات میں سیلابی ریلے کی بھی پہلے سے اطلاع موجود تھی۔
سیلابی اطلاع اورحفاظت
سوات سیلاب سے ایک مہینہ قبل 29 مئی 2025 کو پاکستان میٹرولیجکل ڈیپارٹمنٹ نے ریجنل انٹیگریٹڈ ملٹی ہیزرڈ ارلی وارننگ سسٹم کے تعاون سے اسلام آباد میں کلائمیٹ ایپلیکیشن فورم کا انعقاد کیا تھا۔ فورم میں پری مون سون میں تیز طوفانی بارشوں، گرم درجہ حرارت اور سیلابوں کے الرٹس جاری ہوئے۔ فورم میں قومی و صوبائی اداروں، تعلیمی حلقوں، زراعت اور خصوصی طور پر آفتوں سے نمٹنے والے اداروں این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم آے کے اعلی اہلکاروں نے آفتوں سے نمٹنے کا عزم کیا تھا۔ سیلاب کی پیشگی اطلاع محکمہ موسمیات این ڈی ایم آے اور پی ڈی ایم اے کو اور پی ڈی ایم اے ضلعی انتظامیہ کو خبردار کرتی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ ریسکیو محکمے کو سیلاب سے پیشگی اطلاع دیتی ہے۔ سوات سیلاب میں ایسا ہی ہوا، بروقت اطلاع مل چکی تھی لیکن حفاظتی آلات نہ ہونے کے سبب سیلاب نے سیاحوں کی قیمتی جانیں ضایع کردی۔
اگر دیکھا جائے تو سیلاب سے نمٹنے اور لوگوں تک پیشگی اطلاع کا یہی نظام 100 سال سے پہلے بھی موجود تھا۔
28-1929 میں بھی شمال مغربی سرحدی صوبہ حالیہ خیبر پختونخوا کے دریاؤں میں سیلاب کی اطلاع اسی طرح مختلف اضلاع یا ڈوژنز کو دی جاتی تھی۔ لیفٹیننٹ کرنل لیسلی میلم، برطانوی ہندوستانی فوج کے افسر اور سیاسی نمائندے جنہوں نے زیادہ وقت شمال مغربی صوبے میں بطور پولیٹیکل افیسر تعنات رہے نے اپنی کتاب "تھرٹی ایئرز آن دا نارتھ وسٹ فرنٹیر" میں سیلاب سے پیشگی اطلاع پر لوگوں کی حیرانی کی داستان رقم کی ہے۔ میلم لکھتے ہیں جب ہمیں معمول سے پہلے گلیشرز کے پھٹنے کی اطلاع موصول ہوئی تو سیلاب کے راستے میں مردان ضلع کا مشرقی کنارہ واقع تھا، جو میری اگلی تعیناتی کا مقام تھا۔ بطور سب ڈویژنل افسر ممکنہ سیلاب کی پیشگی اطلاع نے میری اولین ذمّہ داری یہ بنا دی کہ دریاؤں کے کنارے واقع دیہات کو اونچی جگہوں پر منتقل کروں۔ مقامی لوگ تقدیر پر یقین رکھنے والے تھے۔ میلم نے لکھا کہ میں نے گاؤں کے بڑوں سے کہا "سیلاب آ رہا ہے، یہ تمہارے گھروں اور مویشیوں کو تباہ کر دے گا۔ آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ یہاں سے نقل مکانی کریں۔ اس پر ان کے چہروں پر ایک خالی سی نظر آ جاتی، اور میں اکثر ایسے موقع پر کہتا اللہ مالک ہے"۔ میلم کے مطابق اس سے پہلے بھی سیلاب کی غلط افواہ آئی تھی اس لئے لوگ ہماری بات کا یقین نہیں کر رہے تھے۔ لیکن بعد میں ایک بہت بڑا سیلاب آیا اور لوگوں کا کافی نقصان کیا۔
واضح رہے 1857 کے بعد سے انگریزوں نے جب پورا کنٹرول سمنبالہ تو انہوں نے باقائدہ موسموں کی نگرانی کے لئے برسغیر میں ویدر سٹیشن بنائے جن کی اطلاعات پر ضلعوں کو آفتوں سے اگاہ کیا جاتا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو وہ نظام آج بھی موجود ہے البتہ ریسکیو کے لئے 100 سال پہلے ہیلی کاپٹر موجود نہیں تھا، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اب ہمارے پاس ہیلی کاپٹر کیساتھ جنگی جہاز بھی ہیں۔ ہیلی کاپٹر کی سروس حاصل کرنے کے لئے ہنگامی صورت حال میں ضلع انتظامیہ پی ڈی ایم اے سے مدد مانگتی ہے جبکہ وہ این ڈی ایم کو ہیلی کے لئے درخواست کرتی ہے اور این ڈی ایم اے الیون کور یعنی فوج سے مدد مانگتی ہے۔ دریا سوات سیلاب کے بارے مہیں پی ڈی ایم ایک اہلکار نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کی مدد کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے درخواست موصول نہیں ہوئی تھی۔ سوات واقعے کے بعد محکموں کے ایک دوسرے پر الزامات جاری رہے تاہم وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور نے واقعے کے بعد ڈپٹی کمشنر کا تبادلہ کیا جبکہ دو اسسٹ کمشنر اور ریسکیو ضلعی انچارج کو معتل کیا۔ وزیر اعلی نے دریا کنارے غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کاروائی شروع کر دی ہے البتہ مقامی لوگوں کے مطابق اس اپریشن میں بڑے یعنی اثر رسوخ والے افراد کے ہوٹلوں کو تاحال ٹچ نہیں کیا گیا۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق 24 جون سے 4 جولائی تک بارشوں اور سیلاب سے اب تک صوبے میں 24 افراد ہلاک جبکہ 23 زخمی ہوئے جن میں 11 بچے، 5 خواتین اور 8 مرد شامل ہیں۔ سب سے زیادہ لوگ ضلع سوات میں ہلاک ہوئے جو تمام سیاح تھے
آب ہوائی بحران میں سیلاب کو نہ روکئے رستہ بنائیے!
سیلاب پر قابوکیسے پایا جائے اس بات کو سمجھنے کے لئے سیلاب کو سمجھنا ہوگا، کیونکہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہے۔ متعدد سائنسی تحقیقوں کے مطابق دریاؤں کی ابتدا تقریباً تین سے چار ارب سال پہلے ہوئی، جب زمین کی سطح ٹھنڈی ہو کر مستحکم ہوئی اور مائع پانی وجود میں آیا۔ اُس وقت سے سیلاب ایک قدرتی عمل ہے۔ بارش اور پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کا پانی نشیبی علاقوں میں بہہ کر جمع ہو جاتا تھا۔ اُس دور میں نہ پودے تھے اور نہ ہی جانور، لیکن سیلاب آتے تھے۔ انسانی تہزیبوں سے پہلے دریاؤں نے ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی بہتے پانی کے ساتھ ہی انسانی تہزیبیں پروان چھڑی ہیں۔ البتہ پچھلے تین صدیوں سے جدیدت اور ترقی کی تگ دو میں انسانی سرگرمیوں نے زمین کی فضا میں گرین ہاوس گیسز کا اضافہ کردیا جس کے نتیجے میں آب ہوا کے بحران نے جنم لیا۔ اقوام متحدہ اور آزاد سائنسی تحقیقوں کے مطابق اب دنیا کو آب ہوا کے بحران کا سامنا ہے۔ یعنی وہ قدرتی آفتیں جو وقفے کے بعد آتی تھی اب ہر سال رونما ہوسکتی ہے۔ عالمی درجہ حرارت بتدریج بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں سالوں سے جمی برف پگلنے لگی ہے اور بارشوں کے اوقات میں تبدیلی سے سیلابوں کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں اس وقت سیلاب کی پیشنگوئیاں ہیں، این ڈی ایم اے و پی ڈی ایم نے شہروں میں فلیش فلڈ کے حوالے سے بھی اگاہ کردیا ہے۔ ہم سیلاب کے راستے میں ہیں یا سیلاب ہمارے راستے اور سیلاب کو کیسے رستہ دیں۔ کلائمیٹ چینج کی بدولت اب پاکستان میں ہر سال سیلاب آںے کا خطرہ ہے لیکن 1929، 2010، 2022 اور حالیہ سوات سیلاب سے ہم نے کیا سیکھا ؟ حالیہ اور گزرے سیلابوں میں تباہیوں کا زموار کون ہے، آئندہ سیلابوں کے لئے کیا لائحہ عمل ہے اور کلائمیٹ چینج سے کسطرح بچ سکتے ہیں؟ اس حوالے سے کسی کو بھی پیشگی اطلاع ہو تو براہ کرم ہمیں بھی وہ برقت اطلاع ضرور دیں تاکہ اس کو فورا سے پہلے روپرٹ کریں۔