ستمبر فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ چناب کا بحران اور جنگ کے بڑھتے خدشات

بھارت نے اپنے زیرِ انتظام چناب میں بڑے شگاف ڈال کر سرنگیں بنا لی ہیں، جہاں سے چناب کا پانی دریائے بیاس میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ہمارے زیرِ انتظام چناب میں پانی نہیں آ رہا، جو بہت تشویش ناک بات ہے۔

12:01 AM, 9 Jul, 2026

حسنین جمیل

کیا ایک اور پاک بھارت جنگ پانی کے مسئلے پر ہو سکتی ہے؟ اس کے امکانات ہیں یا نہیں؟ اس سوال کا جواب ہنوز طلب ہے۔

پچھلے سال پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلگام دہشت گردی کے بعد جو چار روزہ جھڑپیں ہوئیں، ان کے نتیجے میں بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کر دیا۔

سندھ طاس معاہدہ ہماری بقا کی ضمانت تھا، جس کے تحت دریائے چناب کے پانی پر ہمارا حق تسلیم کیا گیا تھا۔ بھارت ہمارے حصے کا پانی نہیں روکتا تھا اور بھارتی زیرِ انتظام چناب سے پانی پاکستانی چناب میں داخل ہو جاتا تھا۔

مگر اب ایسا نہیں ہو رہا۔ بھارت نے اپنے زیرِ انتظام چناب میں بڑے شگاف ڈال کر سرنگیں بنا لی ہیں، جہاں سے چناب کا پانی دریائے بیاس میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ہمارے زیرِ انتظام چناب میں پانی نہیں آ رہا، جو بہت تشویش ناک بات ہے۔

یہ پانی ہماری بقا اور زندگی کی علامت ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی افسر شاہی اور حکمران اس سلسلے میں کیا کر رہے ہیں، ابھی تک کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی۔ صرف عسکری سطح پر یہ کہا گیا ہے کہ اگر بھارت باز نہ آیا تو ہم حملہ کر کے بھارتی ڈیم تباہ کر دیں گے۔ جواباً بھارتی عسکری قیادت بھی اسی طرح کے بیانات دے رہی ہے۔

اس سلسلے میں سفارتی سطح پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو چین اور امریکہ کے ساتھ مل کر سفارتی محاذ گرم کرنا ہوگا۔ چین پاکستان اور بھارت، دونوں کا مشترکہ ہمسایہ ہے، جبکہ امریکہ ایک سپر پاور ہے۔

ادھر کولمبو میں پاک بھارت ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا ایک دور ہوا ہے۔ یہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی لگ بھگ آٹھ سال بعد دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ ایک خط بھی منظرِ عام پر آیا ہے، جو تقریباً سو اہم پاک و بھارت شہریوں نے نریندر مودی اور شہباز شریف کو لکھا ہے۔ مودی تو بااختیار وزیرِ اعظم ہیں، مگر شہباز شریف کے پاس جس قدر اختیار ہے، اس پر کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔

چناب اور بیاس کے پانی کے بحران کا حل اگر آئندہ چند ہفتوں میں نہ نکلا تو ستمبر تک حالات بہت خوفناک ہو سکتے ہیں۔ ہم ایک ممکنہ جنگ کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ ایسے میں امریکہ اور چین کا کردار بہت اہم ہے۔ وہ جنوبی ایشیا کے پونے دو ارب لوگوں کو جنگ سے بچانے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حرفِ آخر: اس بدنصیب جنوبی ایشیا کے عوام، جو پہلے ہی غربت اور بھوک کے ہاتھوں مر رہے ہیں، اب ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

مزیدخبریں