چیونٹیوں کے پر نکل آئے

چیونٹی (Ant) ایک انتہائی محنتی، سماجی اور منظم کیڑا ہے جو زمین کے ہر کونے میں پایا جاتا ہے۔ یہ کرۂ ارض پر کروڑوں سالوں سے موجود ہیں اور ان کی دنیا بھر میں 12,000 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔

06:20 PM, 9 Jun, 2026

محمد فاروق

پروین شاکر صاحبہ کو تو شکوہ تھا کہ بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے ہیں، اب ان کو کوئی کیسے بتائے کہ بچے ہمارے عہد کے "بے دید" ہو گئے ہیں، خاص طور پر جین زی والے بچے، جو تو کسی کو بخشتے ہی نہیں۔

اب چونکہ جین زی اپنے آپ کو گلوبل جنریشن سمجھتی ہے، تو دنیا میں جین زی سے متعلق کہیں کچھ بھی ہو جائے، اس کے اثرات تمام ملکوں کی جین زی پر ہوتے ہیں۔ تازہ ترین واردات، جو ہمسایہ ملک کی جین زی نے ڈالی ہے، کاکروچ پارٹی والی، اس کو دیکھ کر ہمارے ہاں بھی کچھ چیونٹیوں کے پر نکل آئے ہیں۔

اچھے وقتوں کی روایت تو یہ تھی کہ ہمارے گانوں اور ڈراموں کے چربے ہمسایہ ملک میں تیار ہوتے تھے، اب الٹا چکر ہو گیا ہے۔ چیونٹی کو ہمارے کچھ کراچی والے بھائی "چینٹی" بھی کہتے ہیں، بروزن "پھینٹی"۔

پرانے زمانے میں کوروؤں اور پانڈوؤں کی لڑائی میں پوچھا جاتا تھا کہ آپ کس طرف ہیں؟

اب بومرز اور جین زی کی چپقلش میں ہم جین ایکس والے تماشائی بن کر مزے لے رہے ہیں۔

ویسے تو ہر نئی جنریشن پچھلی جنریشن سے مینر ازم، سٹائل اور عادات و اطوار میں مختلف ہوتی ہے، جو کہ ایک فطری عمل ہے، کیونکہ اگر ہر جنریشن ایک جیسی، یعنی Homogeneous، ہو جائے تو زندگی میں تنوع (Diversity)، تناؤ اور تضاد ختم ہو جائیں، جو آگے بڑھنے کے لیے لازمی محرکات ہیں۔

لیکن جین زی نے تو آخر کر دی ہے، اس نے تو سارے معاملات ہی الٹ پلٹ کر دیے ہیں۔

اگر بومرز ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کو بڑا کارنامہ سمجھتے تھے تو جین زی والے ایک بازو پر الٹا کھڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ پتا نہیں یہ ضد ہے یا ان کی عادت ہے۔

خیر، اب دیکھتے ہیں یہ جین چیونٹی، یعنی چیونٹی پارٹی والے، کیا گل کھلاتے ہیں۔ چیونٹی نام سے تو لگتا ہے کہ یہ گرلز کی پارٹی ہے، یعنی "یہ ہم ہیں، یہ ہماری چیونٹی پارٹی ہے اور ہم سیاست سیاست کھیل رہے ہیں۔"

اگر آگے چل کر اس میں "چیونٹے" بھی شامل ہو گئے تو پارٹی کا نام کیا ہو گا؟

جو بھی ہو، اس میں "چ" تو کامن ہو گا۔

ویسے نیشنل جیوگرافک باقاعدگی سے دیکھنے والوں کو تو پتا ہو گا کہ چیونٹیوں اور چیونٹوں پر کتنی ڈاکومنٹریز بن چکی ہیں۔ وہ دیکھ لیں تو بہتر ہے، تاکہ تحریک چلانے میں آسانی ہو۔ پھر پارٹی کا منشور، سلوگن وغیرہ بھی تو بنانا ہوں گے۔

جیسے:

قدم بڑھاؤ چیونٹیو، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔
ہر گھر سے چیونٹا نکلے گا، تم کتنے چیونٹے مارو گے؟
مانگ رہا ہے ہر چیونٹا، دال اور سوراخ۔
چیونٹے تیرے جانثار، بے شمار بے شمار۔
جب تک سورج چاند رہے گا، چیونٹے تیرا نام رہے گا۔
چلو چلو چیونٹے کے ساتھ۔
صاف رینگی، شفاف رینگی، تحریکِ چیونٹی رینگی۔
سر علامہ اقبال نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا کہ میری قوم رینگنے تک آ جائے گی، ورنہ وہ اپنی شاعری میں تھوڑی ترمیم کر لیتے، جیسا کہ:

کرگس کا جہاں اور ہے، چیونٹی کا جہاں اور ہے
تو چیونٹا ہے، بسیرا کر پہاڑوں کے سوراخوں پر۔

ویسے جین زی کا پڑھائی لکھائی سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا میرا شاعری سے، تو ان کی سہولت کے لیے چیونٹیوں سے متعلق تحقیق حاضر ہے۔

چیونٹی (Ant) ایک انتہائی محنتی، سماجی اور منظم کیڑا ہے جو زمین کے ہر کونے میں پایا جاتا ہے۔ یہ کرۂ ارض پر کروڑوں سالوں سے موجود ہیں اور ان کی دنیا بھر میں 12,000 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔

چیونٹی کا مذکر چیونٹا ہے۔ چیونٹیاں اپنے چھ پاؤں کی مدد سے چلتی اور رینگتی ہیں۔ زمین، دیواروں اور درختوں پر باآسانی چڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

حشرات میں سب سے زیادہ معاشرت پسند چیونٹی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان میں امیر غریب کی جنگ یا درجہ و مرتبہ کے حصول جیسی کوئی چیز نہیں، جو انسانی معاشروں کا خاصہ ہے۔ بہت سے سائنس دانوں نے ان کے سماجی رویّے پر برسوں تحقیق کی ہے، لیکن ان کا ترقی یافتہ معاشرتی رویہ ان پر کھل نہیں سکا۔

ایک مثالی بستی میں چیونٹیوں کی تین بڑی ذاتیں ہوتی ہیں۔ پہلی ذات ملکہ اور ان نروں کی ہے جو نسل کَشی کا کام کرتے ہیں۔

دوسری ذات سپاہی چیونٹیوں پر مشتمل ہے۔ یہ بستیوں کی دیکھ بھال، شکار اور نئی رہائشی بستیوں کے لیے علاقے کی تلاش کا کام کرتی ہیں۔

تیسری ذات کارکن چیونٹیوں کی ہے۔ ساری کارکن چیونٹیاں بانجھ مادائیں ہیں۔ ان کا کام مادرِ چیونٹی کی دیکھ بھال اور بچوں کی صفائی ستھرائی ہے۔

چیونٹیوں کو بھگانے کا سب سے مؤثر طریقہ ان کے راستوں اور سوراخوں پر سفید سرکہ، لیموں کا عرق یا پسا ہوا نمک چھڑکنا ہے۔ ان کی تیز بو چیونٹیوں کی سونگھنے کی حس کو متاثر کر دیتی ہے، جس سے وہ راستہ بھول جاتی ہیں اور گھر سے دور رہتی ہیں۔

سائنس نے بتایا کہ چیونٹیاں آواز سے بات نہیں کرتیں بلکہ ڈیٹا منتقل کر کے بات کرتی ہیں۔

چیونٹیاں چلتے چلتے رک کر دوسری چیونٹی کے منہ سے منہ لگا کر آگے چلی جاتی ہیں۔ یہ وہ عمل ہوتا ہے جس میں وہ ڈیٹا منتقل کرتی ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک چیونٹی نے چیونٹے سے بات کرنی ہو تو پھر طریقۂ کار کیا ہو گا؟

یہاں پر سائنس خاموش ہے۔

ایک اور بات بھی سائنس کہتی ہے کہ جب جسم پر چیونٹیاں رینگنے کا احساس ہو تو اس کا مطلب وٹامن B12 کی کمی ہے۔

مزید معلومات کے لیے ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی کی کتاب "باہمت چیونٹی" پڑھیے۔

اور اب چیونٹی پر کچھ شاعری:

چیونٹی کے جو پر نکل آئے
تو یقیں ہے کہ اب اجل آئے
— اسماعیل میرٹھی

چیونٹی پی ایچ ڈی کر لیتی
اور کالج میں لیکچر دیتی
— ضیاء الرحمن جعفری

دیکھ کر چلنا، کچل جائے نہ چیونٹی راہ میں
آدمی کو بے زبانوں سے بھی الفت چاہیے
— علامہ اقبال

چیونٹی پارٹی کا منشور تو رہ ہی گیا۔۔۔

مزیدخبریں