ہمارے ٹی وی ڈرامے محض "ڈرامے" کیوں؟

لگتا ہے ہمارے ڈرامہ نگاروں نے اپنی سوچ آؤٹ سورس کر دی ہے؛ عشق معشوقی، ساس بہو اور نند کے مسائل سے آگے بھی ایک معاشرہ ہے۔

11:31 PM, 9 Sep, 2026

محمد فاروق

کہیں پڑھا، سنا تھا کہ کسی خوشبو والے کے پاس بیٹھو گے تو تم سے بھی خوشبو آئے گی، گندگی کے ڈھیر سے گزرو گے تو بدبو ہی آئے گی۔

اساتذہ بھی خوشبو کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کی محفل میں جب بھی بیٹھو گے تو کوئی نہ کوئی عقل، علم کی بات لے کر اٹھو گے۔ عبدالرؤف صاحب نے ایک بات سنائی، جو یہ بلاگ لکھنے کا باعث بنی۔

بہت سال پہلے، جب ایک ٹریننگ کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ میں تھے، تو ہم نے اپنے فرنچ ٹرینر سے کہا کہ ہمیں اپنے لوکل کیبل ٹی وی پر انٹرٹینمنٹ کے چینلز دیکھنے کا طریقہ بتائیں۔ اس نے جو بتایا، وہ ہمارے لیے حیران کن تھا کہ ہمارے ہاں ٹی وی، بالعموم، اور انٹرٹینمنٹ ٹی وی، بالخصوص، یا تو بے روزگار دیکھتے ہیں، یا بیوہ خواتین، یا پھر ذہنی طور پر پسماندہ لوگ۔

ہم نے پوچھا، تو پھر آپ لوگ شام کو کیا کرتے ہیں؟ اس نے کہا کہ کیفے جا کر اپنی کمیونٹی سے گپ شپ کرتے ہیں، ان کے مسائل پوچھتے اور اپنے بتاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی آرٹ گیلری، لائبریری یا بک شاپ وغیرہ چلے جاتے ہیں۔

دوسری بات، جو سب کو ہی معلوم ہے، لیکن عبدالرؤف صاحب نے یاد دہانی کرائی کہ تہذیب کا دھارا بدلنے میں دو چیزوں کا بڑا کردار ہے: ایک پہیہ اور دوسرا ٹی وی۔ پہیے، یعنی ٹرانسپورٹ، نے چوپالوں، تکیوں کی ضرورت کو ختم کردیا، اور ٹی وی نے فیملیز کی آپس میں گفتگو۔ تفصیلات میں گئے تو اصل موضوع رہ جائے گا۔

فکشن کے شوقینوں کو بہت کچھ پڑھنا چاہیے، لیکن میں اپنی محدود اسٹڈی کو مدنظر رکھ کر عرض کر رہا ہوں کہ دو ناول ضرور پڑھنے چاہیے، جو کہانی، کردار نگاری، منظر نگاری سمیت فکشن کے تمام معیاروں پر نہ صرف پورا اترتے ہیں بلکہ نئی جہتوں پر لے جاتے ہیں۔

اس میں ایک عبداللہ حسین کا "اداس نسلیں" اور دوسرا ترک مصنف اورحان پاموک کا "مائی نیم از ریڈ"۔

اور عبداللہ حسین صاحب کی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ فکشن کا پہلا پڑاؤ Suspension of Disbelief ہے، کیونکہ فکشن کی اپنی ایک حقیقت ہوتی ہے، جو واقعات کی اصل شکل سے زیادہ اصل اور مستند سمجھی جاتی ہے۔

ہمارے ٹی وی ڈراموں میں جو فکشن دکھایا جا رہا ہے، اس کا نہ تو کوئی سر ہے نہ پیر، پڑاؤ تو دور کی بات ہے۔

ہمارے ڈراموں کی کہانیوں، منظر کشیوں، ڈائیلاگوں میں وہ گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے کہ کچھ دکھائی اور سمجھائی نہیں دیتا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کئی دفعہ ایک سین چلے ہی جا رہا ہوتا ہے، اس کا کوئی ڈراپ سین ہی نہیں ہوتا۔ لایعنی، بے ربط قسم کی ڈائیلاگ بازی ہو رہی ہوتی ہے، میوزک، ٹائٹل سونگ یا OST کے ساتھ ڈرامے کا ٹائم پورا کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ایک دو چینلز پر تو ڈرامے کی رفتار نارمل سے کم کی ہوتی ہے، قسطیں بڑھانے کے لیے۔

گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ، محبتیں، عشق معشوقیاں، حسد، رقابتیں، کدورتیں، سازشیں، شادی شدہ مردوں کی دوسروں کی خوبصورت بیویوں پر اچھی بری نظر، اچھی بری نیت، دیور کا بھابی، بہن کا بہنوئی سے معاملات، وغیرہ۔

لیکن جو نیکسٹ لیول ہمارے بالکل لیٹسٹ ڈراموں میں نظر آ رہا ہے، وہ رشتوں کی بے حسی یا سنگ دلی ہے۔

جیسے بہن، بھائی کے خلاف کرمنل قسم کی سازش کر رہی ہے، یا ماں اپنے بیٹے کے ہونے والے بچے کو مارنے کے لیے بہو کو کچھ ایسا پلا رہی ہے کہ حمل ضائع ہو جائے۔ یہ سمجھ سے باہر ہے؟

ایک ڈرامے میں محبوبہ کی بے وفائی کے فوراً بعد ہیرو صاحب کو برین ٹیومر ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے ان کی کوئی علامات نہیں ظاہر ہوئیں۔ کسی میڈیکل ایکسپرٹ سے چیک کر لیتے کہ کیا محبوبہ کی بے وفائی کا سائیڈ ایفیکٹ فوری برین ٹیومر کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔

تھوڑا ہاتھ ہلکا رکھ لو۔ کوئی بخار، کوئی بلڈ پریشر ہائی، چلو کوئی پینک اٹیک، کوئی ہلکے پھلکے انجائنا پر گزارہ کر لو۔

فکشن کی اپنی الگ حقیقت ہوتی ہے، لیکن اس کی گراؤنڈ بھی ہونی چاہیے نا؟ ہوا میں تو فکشن نہیں ٹھہر سکتا؟

اچھا، پھر یہ تو سمجھ آتا ہے کہ ایک خاتون فل میک اَپ کے ساتھ سو گئی، لیکن یہ سمجھ سے باہر ہے کہ وہ صبح جب اٹھتی ہے، نہ ہیئر اسٹائل، نہ میک اَپ ذرا سا بھی خراب ہوا، لپ اسٹک کا ایک انچ بھی اِدھر سے اُدھر نہیں ہوا۔

ایک اور مثال، ایک لڑکی بیک وقت تین ڈراموں میں ہیروئن آ رہی ہے، اور وہ تینوں ڈرامے تین چینلز سے اسی ٹائم سلاٹ میں نشر ہو رہے ہیں۔ ایک ڈرامے میں وہ ایک بہت ہی ماڈرن، لبرل، پڑھی لکھی، آؤٹ گوئنگ لڑکی کا رول کر رہی ہے، دوسرے میں ایک بہت قدیم روایات کے امین کسی قبیلے کے ینگ سردار وغیرہ کی منگیتر کا، اور پھر تیسرے ڈرامے میں وہی اداکارہ ایک غریب، سہمی لڑکی کا رول کر رہی ہے۔

اب یہاں پر فکشن اپنی اصل حقیقت کہاں کھڑی کرے؟ عبداللہ حسین صاحب ہوتے تو ضرور شافی جواب دیتے۔

کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمارے ملک، معاشرے نہیں، مریخ کے ڈرامے ہیں۔ یا پھر سائنس فکشن ڈرامے ہیں۔

سالا ممی ڈیڈی ٹائپ ہیرو کالا چشمہ لگائے، دونوں ہاتھوں میں آٹومیٹک گنز اٹھائے، ایسے کشتوں کے پشتے لگا رہا ہوتا ہے جیسے آرنلڈ شیوارزنیگر ہو۔

ٹی وی ڈرامہ نہ فلم ہوتا ہے نہ تھیٹر، ڈرامہ معاشرے کی عکاسی کر رہا ہوتا ہے اور معاشرے کی اجتماعی سوچ کو آگے لے کر جاتا ہے، وے فارورڈ بتاتا ہے۔ اس میں یقینی طور پر مبالغہ آرائی ہوگی، محاذ آرائی ہوگی، اپنے وقت سے آگے کی بات ہوگی، روزمرہ کے مسائل کا تخلیقی حل ہوگا، لیکن یہ سب کچھ اسی زمین، یعنی Planet Earth، پر ہوگا، اس سے مطابقت رکھتا ہوگا، مریخ کی مخلوق کے مسائل کی عکاسی نہیں ہوگی۔

اب اگر کوئی یہ کہے کہ بلاگر پرانی، روایتی جنریشن سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے اس طرح کی درفنطنیاں چھوڑ رہے ہیں، تو بھائی، ٹی وی ڈراموں کی Core Audience ہماری جنریشن ہی ہے۔ یہ جین زی والے تو نیٹ فلیکس، پرائم ویڈیو وغیرہ پر سیزنز دیکھتے ہیں یا انسٹا ریلز، ٹی وی ڈرامے نہیں۔

میں پی ٹی وی کے ڈراموں سے تقابل کرکے پرانا رونا نہیں رونا چاہتا، یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ٹی وی ڈرامے کو ڈرامہ ہونا چاہیے، "ڈرامہ" نہیں لگنا چاہیے۔

ایک ڈرامے میں ایک باقاعدہ محل نما گھر کی مالکن اپنے رشتے داروں سے اپنے کاروبار میں نقصان کا بتا کر مدد کی اپیل کر رہی ہے۔ اس محل کا ایک پورشن کرائے پر دینے سے کئی لاکھ مل سکتے ہیں۔

فکشن کی دنیا اتنی بھی غیر حقیقی نہیں ہوتی۔

اکثر ڈراموں کے انتباہ یا Disclaimer میں ایک لائن لکھی ہوتی ہے کہ "اس کہانی کا مقصد معاشرے میں شعور بیدار کرنا ہے۔" کیا مطلب؟ عشق معشوقی کا شعور؟

یہ شعور تو اس سماج میں صدیوں سے موجود ہے۔ سسی پنوں، ہیر رانجھا، لیلیٰ مجنوں سے لے کر مرزا صاحباں۔۔۔

وہ الگ بات ہے، مرزا جٹ صاحب نے شعور کی لہروں کو "سلا دیا" تھا۔

لیکن چند ایک ڈرامے ایسے بھی ہیں جو واقعی معاشرے کے عکاس ہیں، اصل مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ایک وے فارورڈ بھی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹی وی ڈرامہ "کفیل"، جس کا مرکزی خیال اس نکتے کے گرد گھومتا ہے کہ شوہر، باپ، گھر کا سربراہ اگر بیوی، بچوں کی کفالت نہ کر سکتا ہو تو اسے چھوڑ دینا چاہیے۔

پھر اسی ڈرامے میں بچوں نے جس طرح اپنی ماں کو اپنے باپ کی اذیت سے آزاد کروا کر اس کی شادی کروائی، وہ ذرا آگے کی بات لگتی ہے، روایت شکنی لگتی ہے، معاشرے کے مروجہ Threshold کو کراس کرتی ہے۔ تو کوئی بات نہیں، معاشرے اسی طرح ہی آگے بڑھتے ہیں۔

کسی حد تک خواتین کو Undermine کرنے کا بھی ایک ٹرینڈ ہے، جو شعوری یا لاشعوری طور پر پروموٹ کیا جا رہا ہے، یعنی لڑکیوں، خواتین میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وہ Commitment نہیں پائی جاتی جو عام طور پر مردوں میں ہوتی ہے، یا وہ ذہنی، نفسیاتی طور پر اتنی مضبوط نہیں ہوتیں کہ مردوں کے بہکاوے سے بچ سکیں۔

یعنی اگر مرد امیر، بااختیار اور اسمارٹ ہے تو کسی بھی خاتون کو سرنڈر کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، اپنے اثر و رسوخ سے، اپنے پیسے سے، بس اس کی ضروریات پوری کر دے۔ یعنی ہمارے معاشرے میں خواتین اپنی ٹرمز، اپنے اصول وغیرہ کچھ نہیں، ان کی روزمرہ کی ضروریات پوری کر دو، بس وہ کافی ہے۔

لیکن اس میں اکا دکا مستثنیات ہیں جو ان فروعات سے اوپر دکھائی دیتے ہیں، جیسا کہ صرف شبانہ یا کفیل وغیرہ۔

روایات اگر بن سکتی ہیں تو ٹوٹ بھی سکتی ہیں؟ ضروری نہیں کہ انتظار کیا جائے کہ کب وہ فرسودہ ہوں اور خودبخود ٹوٹ جائیں۔ اگر کسی روایت کے ٹوٹنے سے نقصان کی بجائے فائدہ ہو رہا ہے تو توڑ دیں۔

ہمارا معاشرہ ابھی ارتقاء کی اس اسٹیج پر ہے، جہاں اذیتوں، زیادتیوں، ذلتوں، مجبوریوں، بے بسیوں اور لاتعداد دوسری کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔۔ نور مقدم کی کہانی، شاہ زیب کی کہانی، میر رضا کی کہانی، حنا جاوید کی کہانی۔۔ یہ کہانیاں لکھنے کی بھی ضرورت نہیں، صرف ڈرامائی تشکیل دینی ہے۔ اس کے علاوہ جو ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، چلو، اس میں کچھ ورکشاپس، پان شاپس، ٹائر شاپس، بھٹوں وغیرہ میں کھپ جائیں گے، لیکن باقی کہاں جائیں گے؟ ظاہر ہے، جرائم کی دنیا کا ایندھن بنیں گے، اور جب یہ کروڑوں کریمنلز معاشرے میں دندناتے پھریں گے تو پھر معاشرہ کہاں جائے گا؟

پی ٹی وی نے ڈرامے آؤٹ سورس کر دیے، حکومت نے تعلیم آؤٹ سورس کر دی، لگتا ہے ہمارے ڈرامہ نگاروں نے اپنی سوچ آؤٹ سورس کر دی ہے۔۔ عشق معشوقی، ساس بہو، نند کے مسائل سے آگے بڑھیں۔

ہمارے کالج کے دور (دو ہزار سال پہلے نہیں، کوئی 35 سال پہلے) کوئی بڑا شوخا، شانا، شوباز، رنگ باز، چلتر، اوور قسم کا لڑکا ہوتا تو اسے کہا جاتا تھا۔۔ او، بڑا وڈا "ڈرامہ" اے۔

ٹی وی ڈراموں کو محض "ڈرامہ" نہیں ہونا چاہیے، بلکہ معاشرے کا عکاس ہونا چاہیے۔

مزیدخبریں