نئے انکم ٹیکس قانون کی ضرورت

کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ ایک فوجی آمر کی وراثت، جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل AA(2) 270 کے تحت تحفظ دیا گیا، آج بھی قوم کو پریشان کر رہی ہے!

11:10 PM, 10 Apr, 2025

حذیمہ بخاری، ڈاکٹر اکرام الحق

" ٹیکس نظام کا مقصد صرف اتنا ہونا چاہیے کہ حکومت اپنے مطلوبہ کاموں کو انجام دینے کے لئے محصولات کا حصول ممکن بنائے۔ اگرچہ تمام ٹیکسز ہی برے ہوتے ہیں، مگر کچھ تو بدترین ہوتے ہیں۔ لہذا، حکومت کو محصولات کم سے کم نقصان دہ طریقے سے وصول کرنے چاہییں۔ چونکہ محصولات عوام کے لئے ناخوشگوار ہوتے ہیں، اس لئے حکومت کو اپنے اخراجات کم از کم رکھنا چاہییں۔ حکومتی اخراجات کا درست اور بہتر استعمال ہی در اصل معاشی خوشحالی کی ضمانت ہے"—ڈاکٹر آرتھر لافر، 'افریقہ 2025' کانفرنس میں کلیدی خطاب

13 ستمبر 2001 کو جنرل پرویز مشرف  [12 اکتوبر 1999 کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا اور مواخذے سے بچنے کے لئے 18 اگست 2008 کو صدارت سے استعفیٰ دیا] اور شوکت عزیز [20 اگست 2004 سے 15 نومبر 2007 تک پاکستان کے وزیرِ اعظم اور 6 نومبر 1999 سے 15 نومبر2007 تک وزیرِ خزانہ بھی رہے] نے مل کر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایما پر ایک نیا انکم ٹیکس قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔

نئے قانون نے 22 سال کے بعد ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے عدالتی فیصلوں کی روشنی میں جانچ شدہ انکم ٹیکس آرڈیننس 1979 کو منسوخ کر دیا، جو اب عوام میں قبولیت اور استحکام حاصل کر چکا تھا۔

نئے قانون کے غیرضروری نفاذ سے پہلے، بہت سے قابل اور پیشہ ور قانون دانوں نے چند اہم اور اصولی بنیادوں پر اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا سب سے پہلے اعتراض یہ تھا کہ غیر منتخب جنرل مشرف حکومت کے پاس ٹیکس لگانے کی قانونی حیثیت کا فقدان تھا۔ یہ تسلیم شدہ اصول، ’’نمائندگی کے بغیر کوئی ٹیکس نہیں‘‘ کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ دوم، اس مجوزہ قانون میں متعدد املا کی غلطیاں، تصوراتی عدم مطابقت، اختلاف اور پیچیدگیاں تھیں، جن کا دور ہونا ضروری تھا۔

تمام تر اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے، جنرل مشرف نے، جنرل ضیاالحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، جنہوں نے انکم ٹیکس آرڈیننس 1979 جاری کیا تھا، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 جاری کر دیا۔ یہ قانون آج تک، ہزاروں ترامیم کے بعد بھی، مبہم اور پیچیدہ ہے۔

انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کو جلد بازی میں نافذ کرنے کی مجبوری، یہاں تک کہ ٹائپوگرافیکل غلطیوں اور تصوراتی غلطیوں کو دور کیے بغیر، آئی ایم ایف کی طرف سے پیشگی شرط عائد کرنے کی بنا پرتھی۔ آئی ایم ایف نے واضح طور پر کہا تھا کہ 131 ملین امریکی ڈالر کے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ (SBA) کی آخری قسط اس وقت تک جاری نہیں کی جائے گی، جب تک کہ آسٹریلیا کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر لی برنز (Lee Burns) کا تیار کردہ انکم ٹیکس کا نیا قانون نافذ نہ کیا جائے۔ یہ کھلی اور شرم ناک بلیک میلنگ تھی۔

6 ستمبر 2001 کو، اس وقت کے سنٹرل بورڈ آف ریونیو (سی بی آر) نے کابینہ ڈویژن کو باضابطہ طور پر درخواست کی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کا مسودہ کابینہ کے اگلے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ یہ آرڈیننس جولائی 2002 سے نافذالعمل ہونا تھا، لیکن نیویارک کے سانحہ [9/11] کے دو دن بعد یعنی 13 ستمبر 2001 کو جاری کر دیا گیا اور وہ بھی ایک صدارتی آرڈیننس کی شکل میں۔

اگر مشرف حکومت کچھ دن مزید انتظار کرتی تو وہ ایک ناپسندیدہ قانون کے نفاذ سے بچ سکتی تھی۔ جنرل پرویز مشرف کے بش کیمپ میں شامل ہونے کے بعد آئی ایم ایف نے بغیر کسی پریشانی کے آخری قسط جاری کر دی۔ جنرل پرویز مشرف کی افغانستان پر فوجی حملے اور قبضے کی حمایت، فوجی مقاصد کے لئے اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت اور نام نہاد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر وسائل ہتھیانے کے لئے سامراجی حملوں میں ساتھ دینے کی بنیاد پر ان کو ہر طرح کی مدد حاصل ہوئی جس میں ڈالرز کی برسات بھی شامل تھی۔

2001 میں مشرف کا دیا ہوا تحفہ، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، آج تک عوام کی منتخب پارلیمان میں بغیر کسی بحث کے قبول شدہ آج بھی عوام کے لئے وبال جان ہے۔ 2008 سے یکے بعد دیگرے اقتدار سنبھالنے والی تین بڑی سیاسی جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز (پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جو جمہوریت کے چیمپئن ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، نے کبھی بھی اس متنازع اور مبہم قانون کو تبدیل کرنے کی زحمت نہیں کی۔ کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ ایک فوجی آمر کی وراثت، جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل AA(2) 270 کے تحت تحفظ دیا گیا، آج بھی قوم کو پریشان کر رہی ہے!

پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے قوانین اور یہاں تک کہ ملک کے اعلیٰ ترین قانون میں ترامیم — تازہ ترین آئینی (چھبیسویں ترمیم) ایکٹ، 2024 — 2008 سے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں چند گھنٹوں میں منظور کر لئے گئے۔ تاہم، لاکھوں کم مراعات یافتہ پاکستانیوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کرنے والا اور ایک فوجی آمر کے دور سے کاروباری ترقی کو کم کرنے والا جابرانہ انکم ٹیکس قانون برقرار ہے۔ یہ فوجی آمروں کی میراث کو ختم کرنے کے بلند و بالا دعووں کو بے نقاب کرتا ہے۔

فنانس ایکٹ، 2003 اور فنانس آرڈیننس 2002 نے انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 میں 661 تبدیلیاں کیں۔ یہ ایک انوکھا قانون بن گیا، جس میں بے بہا ترامیم کی گئیں، اس سے پہلے کہ ٹیکس دہندگان ستمبر 2003 میں قابل ٹیکس آمدنی کا اپنا پہلا انکم ٹیکس کا گوشوارہ فائل کر سکیں!

انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 قانون سازی کا تمسخر ہے، یہ ہمارے مرحوم کمانڈو جنرل کی بزدلی پر افسوسناک عکاسی ہے، جو بے شرمی سے آئی ایم ایف کے سامنے جھک گئے۔ تاہم، یہ اتنا ہی افسوس ناک ہے کہ اس کے بعد سے اب تک چار منتخب پارلیمان ایک نئے انکم ٹیکس قانون کو ایکٹ کے طور پر نافذ نہیں کر سکیں۔ ملک کو آج بھی عوامی اور پارلیمانی بحث کے بعد، جمہوری عمل کے ذریعے ایک نئے منصفانہ انکم ٹیکس قانون کی ضرورت ہے جس کا نفاذ لوگوں کی مرضی سے ہو۔

ہمارے منتخب نمائندوں کی جانب سے آئین کے مطابق انکم ٹیکس کے قانون کو نافذ نہ کر پانے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے CIT v Eli Lily (Pvt) Ltd (2009) 100 Tax 81 میں تبصرہ کیا ہے:

"تخلیق پاکستان کے بعد سے ہم کسی بھی انکم ٹیکس ایکٹ کو مرتب نہیں کر سکے جس پر اسمبلی میں بحث ہو، دونوں آرڈیننس مارشل لاء کے دور میں جاری کیے گئے تھے ورنہ آئین نے آرڈیننس کی چار ماہ کی مدت مقرر کی ہے۔ اگر آرڈیننس اسمبلی کے سامنے پیش نہ کیا جائے اور یہ خود بخود نافذ ہو جائے گا۔ آئین نے قانون ساز ادارے پر یہ فرض بھی عائد کیا ہے کہ وہ آئین کی سکیم کے تحت طے شدہ پیرامیٹرز کے اندر قوانین وضع کرے۔

یہ حقیقت کہ زیر بحث آرڈیننس جاری کیا گیا تھا اور آرڈیننس 2001 کے نفاذ سے پہلے اور اس کے بعد بھی مختلف ترامیم کو شامل کیا گیا تھا، اس تنازعہ کو جنم دیتا ہے کہ زیر بحث آرڈیننس کو اس موضوع پر پیچیدہ بحث کے بغیر جاری کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے جائزہ لینے والے اور متعلقہ محکمے مختلف عدالتوں میں معاملات کو اٹھانے پر مجبور ہوئے"۔

انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 انتہائی نااہلی سے تیار کردہ قانون ہے۔ اس میں 2002 سے لے کر اب تک تقریباً 3000 ترامیم کی جا چکی ہیں جس سے یہ مزید برباد ہو چکا ہے۔ یہ ناقص قانون اپنے آغاز سے ہی مستقل طور پر زبردست قانونی جھگڑوں کو جنم دے رہا ہے۔

چونکہ پارلیمنٹ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں موجود تضادات کو دور کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس لئے قوم کو اربوں روپے کی مالیت کے ریونیو کا نقصان ہوا ہے۔ جب تک اس قانون کو منسوخ کر کے دوبارہ نئی شکل میں نافذ نہیں کیا جاتا، تب تک یہ نقصان جاری رہے گی۔ سپریم کورٹ نے درج بالا کیس میں مزید نشاندہی کی:

"ایسا لگتا ہے کہ آرڈیننس جلد بازی میں تیار کیا گیا تھا اور ڈرافٹ مین نے اس اہم شق کو شامل کرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا۔ اس مشاہدے کی تائید اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ آرڈیننس میں تیزی سے، یکے بعد دیگرے اور بڑے پیمانے پر ترامیم کی گئیں، خاص طور پر اس کے آغاز کے وقت سے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکشن 238 کے مطابق یہ آرڈیننس وفاقی حکومت کی طرف سے سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے مقرر کرنے کی تاریخ سے نافذ العمل ہو گا۔

اس کے مطابق نوٹیفکیشن (SRO نمبر381(I)/2002) مورخہ 16.6.2002 کے ذریعے، آرڈیننس جولائی 2002 کے پہلے دن سے نافذ العمل ہوا، لیکن فنانس آرڈیننس، 2002 کے ذریعے کم و بیش 1000 ترامیم داخل کی گئیں، جیسا کہ جواب دہندگان کے ذریعہ حساب کیا گیا ہے۔

اگر سیکشن 239 کی ذیلی دفعہ (1) کی غیر ترمیم شدہ شق قانون کی کتاب پر جاری رہتی تو 30 جون 2003 کو ختم ہونے والے تشخیصی سال کے سلسلے میں پاس کردہ تشخیصی احکامات کے علاج میں کوئی مشکل پیش نہ آتی۔ 2001 کے آرڈیننس کے نفاذ کی مدت بعد کے آرڈیننس کے تحت چلائی گئی"۔

مندرجہ بالا کیس میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا: "کسی تشخیص (assessment) میں ترمیم کرنے اور مزید ترمیم کرنے کے اختیار کی زبان، مواد اور دائرہ کار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ایک تشخیص پر نظر ثانی کرنے کی طاقت اور ان حصوں میں تصور کی گئی غلطیوں کو دور کرنے کی طاقت تاکہ اسے قانون سازی کے ارادے کے مطابق بنایا جا سکے تاکہ اسے ٹیکس دہندگان کی سہولت کے مطابق آسانی سے کیا جا سکے"۔

مذکورہ بالا سپریم کورٹ کے فیصلے (22 جون 2009 کو کیا گیا) کا نفاذ آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت سب کے لئے لازم تھا، مگر 16 سال گزر جانے کے بعد بھی اس پرعمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی طرف پارلیمنٹ اور ایف بی آر کے توہین آمیز رویے کو ظاہر کرتا ہے! ایف بی آر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی متضاد اور مبہم شقوں کی وجہ سے ٹیکس کی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ حکومت وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2025-26 کے ساتھ ساتھ ایک نئے اور سادہ انکم ٹیکس قانون کے لئے پارلیمنٹ میں بل پیش کرے۔ اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ موجودہ انکم ٹیکس قانون قانون سازی کا ایک انتہائی ناپسندیدہ نمونہ ہے۔

براہ راست ٹیکس کا نظام آمدنی کو ٹیکس کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی و اقتصادی مقاصد کے حصول کے لئے محصولات کے استعمال کے دوہرے مقاصد کو حاصل کرنے کا وصف رکھتا ہے۔ یہ دونوں مقاصد ہمارے موجودہ فرسودہ، معاشی ترقی کے دشمن نظام محصولات کی وجہ سے نامکمل ہیں۔ درحقیقت، براہ راست ٹیکس کے قانون میں شامل مراعات اور ترغیبات کا پیچیدہ نظام نفاذ میں دشواریوں کا باعث بناتا ہے اور ٹیکس چوروں کے لئے نئے مواقع کھولنے کا بھی۔

آپریشنل سطح پر، موجودہ انکم ٹیکس قانون کے نتیجے میں بیوروکریٹائزیشن اور بدعنوانی ہوئی ہے اور شہریوں کو ہراساں کیا گیا ہے۔ بلاشبہ ان تضادات کو دور کرنے اور ٹیکس ریفارمز کمیشن (TRC) کی جانب سے 2016 میں اس وقت کے وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار کو پیش کی گئی اپنی حتمی رپورٹ میں براہ راست ٹیکس کے نظام کو سادہ ٹیکس قانون میں تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اسحاق ڈار محترم نے خود ہی کمیشن کا انتخاب کیا اور بعد ازاں اس کی رپورٹ کو "خفیہ" قرار دیا جو آج تک منظر عام پر نہیں لائی گئی!

انکم ٹیکس کے نئے قانون کے تحت تمام شہریوں پر ان کی اہلیت کے مطابق ٹیکس عائد کرنا ضروری ہے (تمام موجودہ مفروضہ اور کم از کم ٹیکسز، مراعات اور چھوٹ کو ختم کرنا ہو گا)۔ ٹیکس دہندگان کو ٹیکس دہندگان کے حقوق کے بل کے ذریعے یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ ان سے وصول کیے جانے والے ٹیکس عوامی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کیے جائیں گے نہ کہ حکمران طفیلی اشرافیہ کی آسائشوں کے لئے اور یہ کہ ان کے مقدمات کا فیصلہ ایک آزاد قومی ٹیکس عدالت کے ذریعے جلد کیا جائے گا۔ ہمیں ایک انکم ٹیکس قانون کی ضرورت ہے جو کہ:

(a) انصاف پر مبنی ٹیکس کو یقینی بنائے جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 3 میں فراہم کیا گیا ہے۔
(b) ٹیکس دہندگان کے لئے جہاں تک ممکن ہو ٹیکس کی شرح میں یکسانیت فراہم کرے۔
(c) ضرورت سے زیادہ بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کرے۔
(d) موثر مکمل خودکار ٹیکس انٹیلی جنس سسٹم کے ذریعے ہر ایک کو تعمیل پر مجبور کرے۔
(e) قانونی ریگولیٹری آرڈرز (SROs) کے ذریعے ہر قسم کے ٹیکس اور اس سے چھوٹ کو ختم کرے۔
(f) ٹیکس کی رعایتوں اور چھوٹ کو ختم کرے، خاص طور پر امیروں اور طاقتوروں کے لیے۔
(g) نیشنل ٹیکس کورٹ قائم کرے، جو براہ راست سپریم کورٹ کے تحت ہو۔
(h) قانون کو مربوط اور ہم آہنگ بنانے کے لئے بے ضابطگیوں کو دور کرے۔

انکم ٹیکس کے نئے قانون کا مقصد کچھ محدود لیکن اہم معاشی مقاصد کو حاصل کرنے کے علاوہ وسائل کی پیداوار، بچتوں کو فروغ دینا، نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور توانائی کا تحفظ ہونا چاہیے۔ محترم اسحاق ڈار اور بعد میں آنے والے تمام وزیر خزانہ کی بے حسی کی وجہ سے ٹیکس ریفارمز کمیشن کی 2016 کی سفارشات بڑی حد تک لاگو نہیں ہوئیں۔ ٹیکس ریفارمز کمیشن کی رپورٹ کو کھلی عوامی بحث کے لئے پارلیمان میں پیش کیا جانا چاہیے۔

Taxtion [شمارہ اپریل 2014] میں آسان زبان میں نئے سادہ انکم ٹیکس کے قانون کا مسودہ دستیاب ہے۔ تمام متعلقہ فریق — مجلس شوریٰ کے اراکین، ٹیکس منتظمین، تجارتی و پیشہ ورانہ ادارے، ٹیکس دہندگان، ٹیکس پیشہ ور افراد اور عوام الناس — اس پر بحث کا آغاز کر سکتے ہیں، بہتری کی تجویز دے سکتے ہیں اور کوتاہیوں اور خامیوں کو اجاگر کر سکتے ہیں۔ ایک بامعنی عوامی بحث اور مناسب ترامیم کے بعد اس سادہ قانون کو اپنانے سے معاشی نمو کو تیز کیا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں انکم ٹیکس کی بہتر وصولی ہو سکتی ہے، جس کی استعداد 18 ٹریلین روپے سے کم نہیں، اگر ایک پیشہ ور، خودکار وفاقی ٹیکس ایجنسی کے ذریعے اس کو انصاف کے ساتھ لگایا جائے اور تندہی سے جمع کیا جائے۔

مزیدخبریں