حکومت کو آئی ایم ایف قسط کے حصول کے لیے نئے ٹیکس اہداف اور شرائط کا سامنا

آئندہ مالی سال کے بجٹ اور گردشی قرض میں کمی پر مذاکرات ہوں گے، بجلی کے بلوں پر 2.80 روپے فی یونٹ سرچارج لگانے کی تجویز زیر غور ہے، پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر کاربن ٹیکس لگانے کے امکان پر غورہوگا،الیکٹرک وہیکل پالیسی میں ٹیکس اصلاحات پر گفتگو جاری ہے، تکنیکی مذاکرات میں پاکستان سے “ڈو مور” کا مطالبہ متوقع ہے

01:37 PM, 10 Mar, 2025

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات جاری ہیں اور   ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کو ایک ارب ڈالر کی قسط کے حصول کے لیے نئے اہداف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ اور گردشی قرض میں کمی پر مذاکرات ہوں گے،  بجلی کے بلوں پر 2.80 روپے فی یونٹ سرچارج لگانے کی تجویز زیر غور ہے، پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر کاربن ٹیکس لگانے کے امکان پر غورہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز پر بھی بات چیت ہوگی، نجکاری کے شارٹ ٹرم پلان پر حتمی بات چیت متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق الیکٹرک وہیکل پالیسی میں ٹیکس اصلاحات پر بھی گفتگو جاری ہے،  تکنیکی مذاکرات میں پاکستان سے “ڈو مور” کا مطالبہ متوقع ہے، پالیسی سطح کے مذاکرات ختم ہونے کے بعد آئی ایم ایف ابتدائی بیان جاری کرے گا۔

مزیدخبریں