کیا موسمیاتی حکمرانی کو شامل کئے بغیرصرف ا نتظامی اصلاحات سے کراچی کے مسائل حل ہوسکتے ہیں؟

گرمی کا اثر ہر شہری پر ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ایک صاحبِ حیثیت خاندان شدید گرمی میں ایئر کنڈیشنر چلا سکتا ہے، متبادل بجلی کا انتظام کر سکتا ہے، بوتل کا پانی خرید سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر بہتر طبی سہولت حاصل کر سکتا ہے۔

11:26 PM, 10 Oct, 2026

محمد توحید

کراچی کے مستقبل پر جب بھی بات ہوتی ہے تو عموماً گفتگو کا آغاز شہر کی انتظامی حیثیت، اختیارات کی تقسیم، نئے انتظامی یونٹس، صوبائی اور مقامی حکومت کے درمیان تعلق اور بااختیار بلدیاتی نظام سے ہوتا ہے۔ یہ تمام سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن آج کراچی کے لیے شاید اس سے بھی بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم 2050 کا کراچی کس طرح کا دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا ایسا کراچی جہاں شدید گرمی معمول بن چکی ہو، جہاں بارش کے چند گھنٹوں بعد شہر کے بڑے حصے زیرِ آب آ جائیں، جہاں پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ شہری سیلاب کا مسئلہ موجود ہو، جہاں درخت اور کھلی جگہیں مسلسل کم ہو رہی ہوں، جہاں فضائی آلودگی صحت عامہ کے لیے خطرہ بن رہی ہو اور جہاں کم آمدنی والے طبقات موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ اثرات برداشت کر رہے ہوں؟ اگر یہ سوالات ہمارے سامنے موجود ہیں تو پھر کراچی کے مستقبل کی بحث صرف انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں رہ سکتی۔ ہمیں کراچی کے لیے ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس کے مرکز میں موسمیاتی حکمرانی ہو۔

موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا کوئی دور کا خطرہ نہیں رہی۔ یہ کراچی کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ شدید گرمی، ہیٹ ویو، بارشوں میں شدت، شہری سیلاب، پانی کی قلت، بڑھتا ہوا درجہ حرارت، فضائی آلودگی اور ساحلی خطرات ایک دوسرے سے الگ مسائل نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ شہری منصوبہ بندی میں اگر زمین کے استعمال، تعمیرات، سڑکوں، پانی، نکاسیٔ آب، سبز مقامات، رہائش اور ٹرانسپورٹ کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے الگ کر کے دیکھا جائے تو ہم دراصل شہر کے مستقبل کو ادھورا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کو اکثر معاشی فوائد کے پیمانے سے دیکھا جاتا ہے، جبکہ ماحولیات، حیاتیاتی تنوع، زمین کے استعمال، شہری ثقافت، روزگار اور رہائش جیسے عوامل کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ کراچی جیسے شہر میں اس طرزِ منصوبہ بندی کے اثرات سب سے زیادہ کمزور طبقات پر پڑتے ہیں۔ 

کراچی میں گرمی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت بڑھنے کا مسئلہ نہیں۔ یہ اس بات کا بھی نتیجہ ہے کہ ہم نے شہر کو کس طرح تعمیر کیا ہے۔ جہاں پہلے درخت، کھلی زمینیں اور قدرتی سطحیں موجود تھیں وہاں اب کنکریٹ، سڑکیں اور بلند عمارتیں موجود ہیں۔ عمارتیں اور سڑکیں دن کی گرمی جذب کرتی ہیں اور پھر یہی حرارت رات کے وقت خارج ہوتی رہتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہر میں صرف دن ہی گرم نہیں ہوتے بلکہ راتوں میں بھی گرمی کا دباؤ برقرار رہتا ہے۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی گرمی اور شہری پھیلاؤ کے درمیان اس تعلق کی نشاندہی پہلے بھی کی جا چکی ہے۔ 

لیکن گرمی کا اثر ہر شہری پر ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ایک صاحبِ حیثیت خاندان شدید گرمی میں ایئر کنڈیشنر چلا سکتا ہے، متبادل بجلی کا انتظام کر سکتا ہے، بوتل کا پانی خرید سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر بہتر طبی سہولت حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سڑک پر کام کرنے والا مزدور، ٹریفک پولیس اہلکار، رکشہ یا موٹر سائیکل چلانے والا، تعمیراتی کارکن، ریڑھی بان یا کچی آبادی کا رہائشی براہِ راست دھوپ، گرمی اور بجلی و پانی کی قلت کا سامنا کرتا ہے۔ اسی لیے ہیٹ ویو کو صرف موسمی مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ یہ شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے، صحت عامہ اور سماجی عدم مساوات کا مسئلہ بھی ہے۔ کراچی میں ہیٹ ویو کے خطرے پر ہونے والی بحث نے بھی یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا ہم شدید گرمی کو واقعی ایک شہری آفت کے طور پر سمجھتے ہیں اور کیا ہمارے ادارے اور عوام اس کے لیے تیار ہیں؟ 

یہاں شہری منصوبہ بندی کا ایک بظاہر معمولی مگر انتہائی اہم سوال سامنے آتا ہے: شہر میں سایہ کہاں ہے؟ اگر ایک شہری کو اپنے گھر سے بازار، بس اسٹاپ، اسکول یا کام کی جگہ تک پہنچنے کے لیے مسلسل دھوپ میں چلنا پڑے تو سڑک صرف ٹرانسپورٹ کا راستہ نہیں رہتی بلکہ گرمی کے دباؤ کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔ درخت، سایہ دار راستے، پارکس، سبز مقامات اور مناسب شہری ڈیزائن اب خوبصورتی کے عناصر نہیں بلکہ موسمیاتی موافقت کے بنیادی ذرائع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی شہری منصوبہ بندی میں یہ سوال شامل ہونا چاہیے کہ ہر نئی سڑک، ہر نئی عمارت اور ہر نئے ترقیاتی منصوبے کا شہری درجہ حرارت اور انسانی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔ 

کراچی کا ایک اور بڑا تضاد پانی سے متعلق ہے۔ ایک طرف گرمی کے دنوں میں لوگ پانی کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں اور دوسری طرف بارش کے چند گھنٹوں بعد یہی شہر پانی میں ڈوب جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، گنجانیت، درجہ حرارت میں اضافہ اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب نے شہر کے آبی بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دوسری طرف قدرتی نکاسی کے راستوں پر تعمیرات، نالوں میں کچرا، ناکافی ڈرینیج، نشیبی علاقوں میں آبادی اور کھلی زمینوں میں کمی شہری سیلاب کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ کراچی کے بار بار ڈوبنے کا مسئلہ صرف بارش زیادہ ہونے کا نتیجہ نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کے بحران سے بھی جڑا ہوا ہے۔ 

ہمیں نالے کو صرف ایک انجینئرنگ ڈھانچے کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے شہر کے ماحولیاتی انفراسٹرکچر کا حصہ سمجھنا ہوگا۔ قدرتی برساتی راستے، کھلی زمینیں، پارکس، گرین بیلٹس اور وہ مقامات جہاں بارش کا پانی جذب ہو سکتا ہے، شہر کے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنی سڑکیں اور پل۔ اگر ہر خالی جگہ کو تعمیرات کے لیے دستیاب زمین سمجھا جائے گا تو بارش کے پانی کے لیے قدرتی راستے کہاں باقی رہیں گے؟ یہی سوال کراچی کے ساحل، مینگرووز اور دیگر قدرتی ماحولیاتی نظام کے بارے میں بھی پوچھنے کی ضرورت ہے۔ ساحل صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب زمین نہیں بلکہ شہر کے ماحولیاتی اور موسمیاتی نظام کا حصہ ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا ایک اور اہم پہلو موسمیاتی نقل مکانی ہے۔ جب شدید گرمی، پانی کی قلت، سیلاب، خشک سالی اور روزگار کے مسائل کسی علاقے میں زندگی کو مشکل بناتے ہیں تو لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ کراچی خود موسمیاتی نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ لوگ امید کے ساتھ شہر میں داخل ہوتے ہیں لیکن یہاں انہیں پہلے سے موجود رہائش، روزگار، پانی، صحت اور بنیادی سہولتوں کے بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں موسمیاتی تبدیلی صرف ماحول کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ رہائش، روزگار، شہری غربت اور شہری منصوبہ بندی کا مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ 

یہ تمام مسائل ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتے ہیں: کراچی کی موسمیاتی حکمرانی کی ذمہ داری کس کی ہے؟ اگر کسی محلے میں بارش کے بعد پانی جمع ہو جاتا ہے، گرمی کے دوران درخت موجود نہیں، پارک ختم ہو رہے ہیں، سڑک پر پیدل چلنے کے لیے سایہ نہیں، کچرے کی وجہ سے نالے بند ہیں یا پانی کی فراہمی کا مسئلہ ہے تو اس کا ذمہ دار شہری کس کو سمجھے؟ اگر مقامی نمائندے کے پاس ان مسائل کو حل کرنے کے لیے نہ اختیارات ہوں، نہ وسائل اور نہ ہی ضروری معلومات، تو پھر مقامی حکومت صرف ایک سیاسی ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے۔

ایک بااختیار مقامی حکومت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اسے کچھ فنڈز دے دیے جائیں۔ مقامی حکومت کو اپنے علاقے کا ڈیٹا بھی معلوم ہونا چاہیے۔ ہر کونسلر کے پاس اپنے علاقے کے آبادیاتی اعدادوشمار، زمین کے استعمال، پانی و سیوریج، سڑکوں، درختوں، پارکس، نکاسیٔ آب، سیلابی خطرات اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کا جغرافیائی ڈیٹا موجود ہونا چاہیے۔ آج کے دور میں GIS صرف نقشہ بنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ شہری حکمرانی کا بنیادی آلہ ہے۔ جس مقامی حکومت کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اس کے علاقے میں خطرہ کہاں ہے، وہاں مؤثر موسمیاتی منصوبہ بندی کیسے ممکن ہوگی؟

یہی وجہ ہے کہ کراچی میں مقامی حکومت کو موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات سے متعلق منصوبہ بندی کا واضح اختیار ملنا چاہیے۔ زمین کے استعمال، نکاسیٔ آب، پارکس، درختوں، کھلی جگہوں، پیدل راستوں، مقامی ٹرانسپورٹ، پانی کے تحفظ اور موسمیاتی موافقت کو ایک دوسرے سے الگ شعبے سمجھنے کے بجائے مقامی سطح پر مربوط کیا جانا چاہیے۔ صوبائی حکومت قانون سازی، معیار، بڑے علاقائی منصوبوں اور نگرانی کی ذمہ داری ادا کر سکتی ہے، لیکن شہری سطح پر موسمیاتی منصوبوں کے نفاذ اور ان کے نتائج کی ذمہ داری مقامی حکومت کے پاس ہونی چاہیے۔ اختیارات کے بغیر مقامی حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ بھی ایک نامکمل تصور ہے۔

دنیا کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی موسمیاتی پالیسی کو شہری حکومت کے کام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ نیویارک سٹی اس حوالے سے ایک قابلِ غور مثال ہے۔ وہاں Local Law 97 کے ذریعے بڑے پیمانے کی عمارتوں کے گرین ہاؤس گیس اخراج کے لیے حدود مقرر کی گئی ہیں اور شہر کے محکمۂ عمارات کو ان قوانین کے نفاذ اور نگرانی میں کردار دیا گیا ہے۔ نیویارک نے شہر بھر کے لیے موسمیاتی موافقت کے منصوبے کو بھی مقامی قانونی فریم ورک کا حصہ بنایا ہے-اس مثال کا مطلب یہ نہیں کہ کراچی نیویارک کا نظام جوں کا توں اختیار کر لے۔ اصل سبق یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو صرف وفاقی یا صوبائی ماحولیات کے محکموں کا مسئلہ نہیں سمجھا گیا بلکہ اسے شہری حکومت کے منصوبہ بندی، عمارتوں، انفراسٹرکچر اور انتظامی فیصلوں سے جوڑا گیا ہے۔

کراچی کے لیے بھی ہر بڑے ترقیاتی منصوبے سے پہلے ایک ’’2050 موسمیاتی اور عوامی مفاد کا امتحان‘‘ متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ کسی بھی منصوبے کی منظوری سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ کیا اس سے شہر کا درجہ حرارت بڑھے گا یا کم ہوگا؟ کیا یہ کسی قدرتی برساتی راستے کو متاثر کرے گا؟ کیا اس سے پانی کی طلب اور سیوریج میں اضافہ ہوگا؟ کیا درخت یا کھلی جگہیں متاثر ہوں گی؟ کیا فضائی آلودگی بڑھے گی؟ کیا کم آمدنی والے طبقات پر اضافی بوجھ پڑے گا؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ اس منصوبے کے بارے میں مقامی لوگوں کی کیا رائے ہے؟

عوامی رائے کو محض ایک رسمی عوامی سماعت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ایک محلے کا رہائشی بہتر جانتا ہے کہ بارش کا پانی کہاں جمع ہوتا ہے، ایک دکاندار جانتا ہے کہ پیدل چلنے والوں کی زیادہ آمدورفت کہاں ہے، ایک خاتون اپنے محلے میں روزمرہ کی مشکلات اور غیر محفوظ مقامات کو بہتر طور پر بیان کر سکتی ہے، جبکہ کسی کچی آبادی کا رہائشی یہ بتا سکتا ہے کہ پانی، بجلی اور نکاسیٔ آب حقیقت میں کس طرح کام کر رہے ہیں۔ یہ مقامی علم سائنسی اور تکنیکی ڈیٹا کا متبادل نہیں بلکہ اس کا اہم تکملہ ہے۔ موسمیاتی منصوبہ بندی اس وقت زیادہ مؤثر ہوگی جب GIS، سائنسی تحقیق اور شہریوں کے تجربے کو ایک ساتھ استعمال کیا جائے۔

اسی کے ساتھ موسمیاتی انصاف کو بھی شہری منصوبہ بندی کا بنیادی اصول بنانا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی کا نقصان سب سے زیادہ اس شخص کو نہیں پہنچتا جس نے سب سے زیادہ وسائل استعمال کیے ہوں بلکہ اکثر وہ شخص زیادہ متاثر ہوتا ہے جس کے پاس اپنی حفاظت کے لیے سب سے کم وسائل ہوتے ہیں۔ کچی آبادیوں کے مکینوں کے لیے شدید گرمی، بارش اور شہری سیلاب محض موسمی واقعات نہیں بلکہ زندگی اور روزگار کے مسائل ہیں۔ اس لیے موسمیاتی پالیسی میں کمزور طبقات کو صرف متاثرین کے طور پر نہیں بلکہ فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔ 

کراچی کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کو صرف سڑک، پل، عمارت اور کنکریٹ سے ناپنا چھوڑ دیں۔ ایک درخت بھی انفراسٹرکچر ہے، ایک پارک بھی انفراسٹرکچر ہے، ایک محفوظ برساتی راستہ بھی انفراسٹرکچر ہے، سایہ دار فٹ پاتھ بھی انفراسٹرکچر ہے، صاف ہوا بھی شہری انفراسٹرکچر ہے اور محفوظ ساحل بھی شہر کا انفراسٹرکچر ہے۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان چیزوں سے کتنی فوری معاشی آمدنی حاصل ہوگی، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ یہ شہر کو آنے والے برسوں میں کتنا محفوظ، صحت مند اور رہنے کے قابل بنائیں گی۔

کراچی کی انتظامی بحث بھی اسی تناظر میں دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ شہر کے پاس کتنے اضلاع ہوں، کتنی حدود ہوں یا اختیار کس ادارے کے پاس ہو۔ اصل سوال یہ ہے کہ جس ادارے کو اختیار دیا جائے گا، کیا اس کے پاس وسائل، معلومات، منصوبہ بندی کی صلاحیت اور عوام کے سامنے جواب دہی بھی ہوگی؟ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں بااختیار مقامی حکومت صرف سڑکوں اور صفائی کی حکومت نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے اپنے علاقے کے ماحولیاتی مستقبل کی بھی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔

کراچی کے بچے آج جن اسکولوں میں بیٹھے ہیں، 2050 کا کراچی ان ہی کی زندگی کا شہر ہوگا۔ وہ ہم سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ ہم نے کتنی عمارتیں تعمیر کیں یا کتنے منصوبوں کے افتتاح کیے۔ وہ یہ ضرور پوچھ سکتے ہیں کہ کیا انہیں صاف پانی ملا، کیا وہ صاف ہوا میں سانس لے سکے، کیا ان کے محلے میں درخت اور کھلی جگہیں موجود تھیں، کیا شدید گرمی کے دوران ان کے لیے سایہ اور تحفظ موجود تھا، کیا بارش کے بعد ان کے گھر محفوظ رہے اور کیا شہر کی منصوبہ بندی میں ان کی آواز شامل تھی؟

کراچی کا مستقبل صرف نئے انتظامی نقشے بنانے سے محفوظ نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ایک ایسے شہری نظام کی ضرورت ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کو منصوبہ بندی کے مرکز میں رکھا جائے، مقامی حکومت کو اختیار اور وسائل دیے جائیں، شہریوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے، سائنسی اور مقامی ڈیٹا کو اہمیت دی جائے اور ہر بڑے ترقیاتی فیصلے کو اس سوال سے گزارا جائے کہ اس کا اثر آنے والی نسلوں پر کیا ہوگا۔

کراچی ایک ایسا شہر نہیں جو صرف نقشے پر بنائی گئی سڑکوں، عمارتوں اور حدود سے تشکیل پاتا ہے۔ شہر وہ ہے جسے لوگ روزانہ اپنی زندگی میں محسوس کرتے ہیں۔ اگر گرمی میں سایہ نہیں، بارش میں محفوظ راستہ نہیں، پانی دستیاب نہیں، ہوا صاف نہیں اور فیصلوں میں شہری کی آواز نہیں تو شہر کی ترقی کا دعویٰ ادھورا ہے۔ اسی لیے کراچی کے مستقبل کی شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی حکمرانی کو مرکز بنانا اب انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ کراچی کو ایسا شہر بنانا ہوگا جہاں مقامی حکومت بااختیار ہو، شہری باخبر اور شریک ہوں، اور ترقی کا پیمانہ صرف تعمیرات نہیں بلکہ انسانی زندگی، ماحول اور آنے والی نسلوں کا تحفظ بھی ہو۔

مزیدخبریں