Type to search

سیاست فيچرڈ

پلوامہ حملہ: مودی دور میں کشمیر میں دہشتگردی میں اضافے پر ایک تحقیقی رپورٹ

ادارتی نوٹ: یہ تحریر ادتیہ مینن نے بھارتی آن لائن جریدے The Quint کے لئے انگریزی میں لکھی تھی جسے قارئین کو کشمیر میں حالیہ تشدد کی لہر کو سمجھنے میں مدد دینے کی نیت سے نیا دور پر ترجمہ کر کے شائع کیا جا رہا ہے۔

جمعرات 14 فروری کو جنوبی کشمیر کے مقام پلوامہ میں کار بم حملے کے نتیجے میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) کے 40 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ یہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران کشمیر میں ہونے والا بدترین دہشت گردی کا حملہ تھا۔ اپنی تباہ کاری اور اموات کے باعث یہ حملہ 18 ستمبر 2016 کے اڑی حملے سے بھی زیادہ تباہ کن ہے جس میں چار مسلح دہشت گردوں نے فوج کی ایک بریگیڈ کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بناتے ہوئے 19 فوجی ہلاک کر دیے تھے۔ پلوامہ حملے کا یکم اکتوبر 2001 میں جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیس کے کار بم حملے کے ساتھ موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ اس حملے میں ٹاٹا سومو پر سوار تین مسلح دہشت گردوں نے بھاری آتش گیر مادے کی مدد سے کمپلیکس کے مرکزی دروازے پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اڑی اور قانون ساز اسمبلی پر ہونے والے دونوں حملوں کی ذمہ داری پاکستان میں کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے قبول کی تھی اور پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر حملے کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی ہے۔ یہ حقیقت کہ جیش محمد ابھی تک فعال ہے اور ابھی بھی اس نوعیت کے خطرناک حملے کرنے کی اہلیت رکھتی ہے، بھارت کیلئے پریشان کن ہونی چاہیے۔ لیکن ایک اور امر جو کہ تشویش کا باعث ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ گذشتہ دو حملوں کے برعکس پلوامہ حملے میں ملوث مرکزی کردار علاقائی عسکریت پسند عادل احمد ڈار تھا۔ بہت سے طریقوں سے پلوامہ حملہ، اڑی حملے سے بھی زیادہ صاف طور پر نریندر مودی کی حکومت کی کشمیر کے بارے میں ناکام پالیسی کو اجاگر کرتا ہے۔

آئیے کچھ اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں:

دہشت گردی کے واقعات میں 261 فیصد اضافہ۔ دہشت گردی کے واقعات کی تعداد 2013 میں 170 تھی جو 2018 میں 614 ہو چکی ہے۔ مسلح اداروں میں اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

لوک سبھا میں یونین گورنمنٹ نے جو جواب دیا اس کے مطابق جموں و کشمیر میں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں 261 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2013 میں ان واقعات کی تعداد 170 تھی جو کہ 2018 میں 614 واقعات تک جا پہنچی۔ دہشت گرد حملوں میں دو حملے قابل ذکر تھے۔

مودی سرکار کی مدت حکمرانی کے دوران کشمیر میں نوجوانوں کے عسکریت پسندی کے ساتھ وابستہ ہونے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2013 میں 16 سے یہ تعداد 2018 میں 191 تک جا پہنچی ہے جس کا مطلب 12 گنا اضافہ ہے۔ پانچ برسوں میں عسکریت پسندی اختیار کرنے والے نوجوانوں میں 12 گنا اضافہ۔

فعال عسکریت پسندوں کی تعداد جن میں ملکی اور غیر ملکی دونوں شامل ہیں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ برس یہ تعداد 300 تک پہنچ گئی۔ یہ 2013 کے مقابلے میں چار گنا زیادہ اضافہ ہے، جب یہ تعداد 78 تھی اور کشمیر میں مسلح بغاوت کے آغاز کے بعد سب سے کم رہی تھی۔

مودی سرکار سے غلطی کہاں ہوئی؟

وزیراعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور قومی سکیورٹی مشیر اجیت دیول پر مشتمل تکون کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کشمیر کے مسئلے کو سیاسی سمجھنے کے بجائے اسے میدان جنگ سمجھتے ہیں جہاں کسی قسم کی نظریاتی جنگ جاری ہے۔ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی وہی سوچ ہے جس نے شمال مشرق میں امن و امان کے مسائل پیدا کر دیے تھے جب شہریت کے ترمیمی بل کو پیش کیا گیا تھا۔ لیکن اس مدعے پر ایک الگ بحث درکار ہے۔ بی جے پی کے کشمیر کے بارے میں خیالات سیانا پرساد مکھرجی کے ادھورے مشن اور وادی میں اپنا تسلط قائم کرنے کے گرد گھومتے ہیں۔ اس کا ثبوت ہمیں اس جارحانہ عمل سے ملتا ہے جس کے ذریعے انہوں نے ریاست میں طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پہلے مفتی محمد سعید پر اتحادی بننے کیلئے دباؤ ڈالا گیا، پھر اس کی سیاسی جانشین محبوبہ مفتی کے ساتھ طاقت کی بساط پر جنگ اور آخر کار ریاست میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔

مودی کی پالیسی کے برعکس، اٹل بہاری واجپائی کی حکومت نے پی ڈی پی اور کانگریس اتحاد پر مشتمل حکومت جسے محبوبہ مفتی نے لیڈ کیا، تشکیل دی، یہ دورانیہ کشمیر میں ان چند ادوار میں گردانا جانا جاتا ہے جب وہاں امن قائم ہوا۔

مودی حکومت کی نظریاتی بنیادوں پر قائم ضد کے باعث کشمیر کے متعلق تباہ کن پالیسی بنی اور اس نے نئی دہلی کی اس تھوڑی بہت نیک نامی کو ختم کر دیا جو اس نے 2002 کے بعد حاصل کی تھی۔ 2014 میں جائیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سال اسمبلی کے انتخابات میں کشمیر میں ٹرن آؤٹ گذشتہ 25 برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ رہا۔ یہ اضافہ بالخصوص ان حلقوں میں دیکھنے کو ملا جہاں تاریخی طور پر ٹرن آؤٹ کم رہتا تھا کیونکہ علیحدگی پسند انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل جاری کر دیتے تھے۔

ٹرن آؤٹ میں 2008 سے 2014 کے دوران اضافہ: کشمیر میں 2014 میں اسمبلی کے انتخابات کے دوران مختلف نشستوں پر ٹرن آؤٹ میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔

کشمیر میں ٹرن آؤٹ کے بڑھنے کی بنیادی وجہ کشمیری مسلمانوں کا وادی میں بی جے پی کی جارحانہ مہم کے خلاف رد عمل تھا۔ بہت سے کشمیریوں کا خیال تھا کہ ان کی شناخت، جموں و کشمیر کا خصوصی سٹیٹس اور ریاست سے متعلقہ قوانین کو بی جے پی کے ریاست میں برسر اقتدار آنے سے خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ اس امر کی آگہی بھی تھی کہ ووٹ سے بہت کچھ تبدیل کیا جا سکتا ہے، بالخصوص سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللّٰہ کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار طارق حمید کارا سے 2014 میں لوک سبھا کے انتخابی معرکے میں شکست کے بعد ووٹ کے عمل پر کشمیریوں کا اعتماد بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔ لیکن بی جی پی کے خلاف دیا جانے والا یہ مینڈیٹ اس وقت تضحیک کا شکار ہو گیا جب مفتی محمد سعید نے ریاست میں حکومت بنانے کی خاطر بی جے پی سے گٹھ جوڑ کر لیا۔ حالانکہ انہیں نیشنل کانفرنس اور کانگریس سے حکومت بنانے کیلئے مدد فراہم کرنے کی پیشکشیں موصول ہوئی تھی۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد کے فوراً بعد جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے عسکریت پسند تنظیموں میں شمولیت کے رجحان میں اضافہ ہوا۔ اور یہ بات قطعاً حیران کن نہیں ہے کہ جنوبی کشمیر کے جن علاقوں میں پی ڈی پی کا اثر و رسوخ ہے وہی علاقے عسکریت پسندی کا گڑھ بن گئے۔

گذشتہ چند برسوں میں مشہور ہونے والے زیادہ تر علاقائی عسکریت پسندوں کا تعلق جنوبی کشمیر سے ہے۔ برہان وانی پلوامہ کی ڈسٹرکٹ ترال، ریاض نایکو پلوامہ ڈسٹرکٹ کے علاقے اوانتی پورا، صدام پادر شوپین ڈسٹرکٹ کے علاقے حیف اور علی احمد ڈار جس نے سی آر پی ایف کے اہلکاروں پر حملہ کیا کا تعلق بھی پلوامہ ڈسٹرکٹ کے علاقے کاکاپورا سے تھا۔

جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے جن زیادہ تر نوجوانوں نے عسکریت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کی وہ جماعت اسلامی کے حامی خاندانوں سے تقلق رکھتے تھے۔

اب یہ اہم کیوں ہے؟

ماضی میں جماعت اسلامی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کی پی ڈی پی کے ساتھ ایک خاص مفاہمت موجود تھی۔ 2002 اور 2008 کے منعقد کردہ اسمبلی کے انتخابات میں جماعت نے انتخابات بائیکاٹ کی کالوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پی ڈی پی کو ووٹ ڈالے۔ بدلے میں انہیں اپنے علاقوں میں کچھ حد تک امن میسر آ گیا اور اخوانیوں کے اختتام کا مرحلہ شروع ہوا۔ (باغیوں کے خلاف بننے والی تنظیم) جو نیشنل کانفرنس کی 90 کی دہائی کی حکومت کا سب سے زیادہ نفرت کیے جانے والا عمل تھا۔ پی ڈی پی کے بی جے پی کے ساتھ اتحاد نے پی ڈی پی اور جماعت اسلامی کے تعلقات میں دراڑیں ڈال دیں اور وادی میں اس کی حمایت میں کمی آئی۔ جب 2016 میں حزب المجاہدین کے مقبول کمانڈر برہان وانی کو ایک مقابلے میں ہلاک کیا گیا تو پی ڈی پی کی تباہی کی رفتار میں حیران کن طور پر اضافہ شروع ہو گیا۔

تشدد پر مبنی ایک نئے دور کی شروعات ہوئیں۔ احتجاج، سکیورٹی اداروں کے کریک ڈاؤن جن کے نتیجے میں سویلین اموات ہوئیں اور احتجاج مزید پھیلا۔ ہر شہری کی موت اور چھروں سے ملنے والے زخم نے کشمیریوں کے اندر اور غصہ پیدا کیا۔ نوجوانوں نے زیادہ تعداد میں عسکریت پسندی اختیار کر لی اور زیادہ تر مقامی آبادی نے سکیورٹی اداروں کی مدد کرنا بند کر دی۔ پی ڈی پی کی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی۔ نئی دہلی کا کشمیر میں سب سے بڑا اثاثہ اس کیلئے ایک بوجھ بننے لگا۔

دوسری جانب نیشنل کانفرنس نے شمالی کشمیر میں معمر رائے دہنگان کے درمیان اپنی اچھی ساکھ کو برقرار رکھا۔ ان معمر رائے دہندگان نے شیخ عبداللّٰہ کی زمینوں کی اصلاحات کے باعث دہائیوں پہلے فوائد حاصل کر رکھے تھے۔ لیکن یہ بھی اس حقیقت کو حل کرنے میں معاون نہیں تھا کہ کشمیری نئی دہلی سے گذشتہ دو دہائیوں کے مقابلے میں زیادہ منحرف ہوتے جا رہے تھے۔ اس لاتعلقی کا ایک اہم نقصان انسانی انٹیلیجینس نیٹ ورک (جو مکمل طور پر مقامی کشمیرہوں پر مبنی تھا) کا خاتمہ ہے۔ جس پر سکیورٹی کے ادارے دارومدار کرتے تھے۔ اس انسانی انٹیلیجنس کے نیٹ ورک کے ختم ہونے کی وجہ سے بھی سکیورٹی ادارے پلوامہ حملوں کی مانند دیگر حملوں کی زد میں آرام سے آ جاتے ہیں۔

کوئی سبق نہیں سیکھا گیا

بدقسمتی سے محسوس یوں ہوتا ہے کہ حکومت نے پلوامہ حملے کے بعد بھی کوئی سبق نہیں سیکھا کیونکہ اس کا زیادہ تر ردعمل اس کے کشمیر کے بارے میں کٹر خیالات پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر پی ایم او میں وزیر برائے سٹیٹ جیتندرا سنگھ کو ہی دیکھ لیجئے جنہوں نے کشمیر کی مرکزی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پر کڑی تنقید شروع کر دی حالانکہ موجودہ حالات کے تناظر میں یہی دو جماعتیں ہی کشمیر میں نئی دہلی کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہیں۔

اگر حکومت سیاسی مخالفین اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات میں تمیز نہیں کر سکتی تو اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ کشمیر میں گذشتہ چند برسوں میں عسکریت پسندی میں اضافے کو روک کیوں نہ پائی۔ یہی کچھ اس کی کشمیری شہریوں اور دہشت گردوں میں تمیز کرنے کی صلاحیت کی ناپیدگی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے۔ یہ چیز صرف بی جے پی کی حکومت تک ہی محدود نہیں ہے۔ بہت سے دائیں بازو کے حکومت کی جانب جھکاؤ رکھنے والے ٹیلی وژن چینل، اہم شخصیات اور سوشل میڈیا ٹرولز بھی اسی ذہنی مسئلے کا شکار ہیں۔ اور یہی وہ وجہ ہے جس کے باعث پلوامہ حملے کے بعد شدت پسند قوم پرستوں نے سیاسی حالات کے تجزیے اور انٹیلیجنس کی ناکامی پر مباحث کے بجائے نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور عام کشمیریوں پر تنقید اور لفظی حملوں کا آغاز کر دیا۔ مسلح اداروں کے جوان اور کشمیر کے شہری کشمیر کے متعلق اس نامناسب رویے اور سوچ کی قیمت اپنی جانیں دے کر  چکا رہے ہیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *