LOADING

Type to search

انسانی حقوق انصاف سیاست عوام کی آواز

کشمیر کوئی کیک کا ٹکڑا تو ہے نہیں

کشمیر اس جنت کا نام ہے جسے پاکستان بھارت کے جنگی جنون نے جہنم میں تبدیل کر دیا ہے اور اس جہنم میں کشمیریوں کی لاشوں کی آگ پر ہاتھ تاپتے ابھی بھی کشمیر کو اپنے اپنے ریاستی مفادات کیلئے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پلوامہ حملے میں بھارتی سکیورٹی ادارے کے اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سے مودی سرکار اور بھارت کے جنگی جنون کے خبط میں مبتلا ٹی وی چینلوں اور دانشوروں نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے اور بھارت میں بسنے والے کشمیریوں کی تضحیک کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پاکستان کے خلاف طبل جنگ بجانے کی دھمکیاں زور و شور سے دی جا رہی ہیں۔ جیش محمد نامی تنظیم کی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد سوالات پھر پاکستان پر کھڑے ہو چکے ہیں کہ آخر کب پاکستان کی جانب سے اپنی سرزمین کو دہشت گرداور کالعدم تنظیموں سے پاک کیا جائے گا؟

بھارت کی جانب سے کشمیریوں کا استحصال کب ختم ہوگا؟

دوسری جانب کشمیر میں مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں اور وہاں رہنے والے افراد کا استحصال کب تھمے گا یہ بھی ایک بنیادی سوال ہے۔ لیکن جو سوال سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ آخر کشمیر میں بسنے والے لوگ کب تک پاک بھارت دشمنی کی قیمت چکاتے رہیں گے۔ کشمیر میں بسنے والی آبادی کو کبھی "آزادی” کے نام پر پاکستان اور کبھی ریاستی تسلط قائم کرنے کیلئے بھارت استعمال کرتا ہے۔ وہ کشمیری نسل جس کے ہاتھ میں انجینیئرنگ، میڈیکل سائنس یا ٹیکنالوجی کی اسناد ہونی چاہئیں اس کے ہاتھ میں بندوق تھمی دیکھ کر پاکستان میں پر آسائش زندگی کے تمام لوازمات سے محظوظ ہوتے افراد کے سینے میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور ان کے جہادی شوق کی تسکین بھی ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب ان کشمیری نوجوانوں پر کبھی چھرّے اور کبھی گولیاں داغ کر اور کبھی ان کو زدو کوب کر کے ہندو قوم پرستی کی انا کی بھی تسکین ہو جاتی ہے۔

کشمیر کے مسئلے کو 1990 سے بیحد قریب سے دیکھا ہے

خون جہاں بھی گرے وہ قابل مذمت ہے، بارود کی بو جہاں بھی پھیلے وہ قابل نفرت ہے، لیکن دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) میں بدقسمتی سے قدامت پرستوں اور بنیاد پرستوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جسے یا تو لاشوں اور بے گناہ خون کو دیکھ کر تسکین ملتی ہے یا پھر ان لاشوں پر ان کا جہاد، ہتھیاروں اور قوم پرستی کا دھندہ چلتا ہے۔ کشمیر کے مسئلے کو راقم 1990 سے بیحد قریب سے دیکھتا آیا ہے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرحوم صدر امان اللہ خان، یاسین ملک اور پاکستانی جہادی تنظیمیں جو کشمیر کی لڑائی میں ملوث ہیں ان کے سربراہان سے 90 کی دہائی میں کافی نشستیں رہیں۔ امان اللہ خان کو چھوڑ کر سب کشمیر کو مسلح جدوجہد کے دم پر آزاد کروانے پر یقین رکھتے تھے لیکن تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی آج کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں موجود ہے اور امان اللہ خان مرحوم کے بیانئے کی تائید کر رہا ہے۔

اس جنگ نے ہمیں دنیا میں تنہا کر ڈالا ہے

تین دہائیوں پر مشتمل مسلح لڑائی اگر ہمیں کشمیر کا ایک انچ بھی نہ دلوا سکی اور بدلے میں حافظ سعید، مسعود اظہر جیسا بوجھ ریاست کے کاندھوں پر ڈال دیا تو ہمیں یہ ادراک ہو جانا چاہیے کہ ہمارے جہادی بیانئے نے نہ صرف کشمیریوں کی بھارتی ناانصافی کے خلاف جدوجہد کو نقصان پہنچایا بلکہ ہمارے معاشرے میں شدت پسندی کا زہر گھولتے ہوئے ہمیں عالمی دنیا میں تنہا بھی کر ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد جب بھارت نے بنا تحقیقات کے ہمیں اس کا مورد الزام ٹھہرایا تو امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک نے بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پاکستان کو اپنی سرزمین سے کالعدم جماعتوں کے ٹھکانے ختم کرنے پر زور دیا۔ ایک طرف ساری دنیا یک زبان ہو کر بھارت کے ساتھ کھڑی ہمیں اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا کہہ رہی ہے اور دوسری جانب ہمارے ارباب اختیار شترمرغ کی مانند ریت میں سر چھپائے سعودی ولی عہد کے استقبال میں ایسے مگن ہیں جیسے یہ سعودی شہزادہ نہ صرف ہمارے سارے مسائل کا خاتمہ بھی کر دے گا بلکہ ہماری عالمی تنہائی کو بھی دور کر دے گا۔

’نادان گر گیا سجدے میں جب وقتِ قیام آیا‘

وزیر اعظم عمران خان جو ویرات کوہلی کی سنچری پر بھی ٹویٹ کر دیتے ہیں ان کو شاید ان کے "سرپرستوں” کی جانب سے پلوامہ حملے کے بارے میں مذمتی ٹویٹ کی اجازت ہی نہیں ملی اور ہمارے انفارمیشن کے وزیر فواد چوہدری جو پاکستان کے دم توڑتے الیکٹرانک میڈیا کی سکرینوں پر بیٹھ کر بڑھکیں لگانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے وہ بھارتی بائیں بازو کے ٹی وی اینکروں کے سوالات کے سامنے یوں ڈھیر ہوئے جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر ہوتا ہے۔ ایسے میں ففتھ جنریشن وار کی وہ ٹویٹیں اور بیانات بھی بہت یاد آئے جو اکثر ہمارے جیسے افراد کیلئے داغے جاتے تھے تاکہ ملک میں اختلاف کرنے والی آوازوں کا شور ختم کر کے سناٹے کا راج قائم کیا جا سکے۔ جب حقیقی معنوں میں بھارتی پراپیگنڈے کے خلاف ففتھ جنریشن وار لڑنے کا وقت آیا تو ہم نے ٹوئٹر اور الیکٹرانک میڈیا پر اس حوالے سے کوئی ٹویٹ یا پریس کانفرنس نہیں دیکھی۔

ان کشمیریوں کا خون دونوں ممالک میں وقتی ابال کے علاوہ کچھ نہیں حاصل کر پاتا

بھارت کی مودی سرکار پلوامہ حملے کو اپنی انتخابی مہم کیلئے خوب استعمال کرے گی اور وہاں ہندو قوم پرستوں کے جذبات کو مشتعل کر کے ہمدردیاں سمیٹے گی جیسا کہ ہمارے یہاں بسنے والے قدامت پسندوں اور بنیاد پرستوں کو مشتعل کر کے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔ جب دونوں ممالک کو کشمیر کی پراکسی جنگ کبھی سیاسی فوائد اور کبھی دفاعی صنعتوں سے وابستہ فوائد دے رہی ہو اور عالمی قوتیں وافر مقدار میں انہیں یہ پراکسی جنگ لڑنے کیلئے اسلحہ بیچ رہی ہوں تو پھر کون یہ چاہے گا کہ ان دونوں ممالک میں امن قائم ہو اور کشمیر (سری نگر) کی ویران جھیل ڈل دوبارہ سے نغمے گاتے ماجھیوں اور ان کی کشتیوں پر سوار سیاحوں کے قہقہوں سے آباد ہو۔ اس پراکسی جنگ میں مارے جانے والے دونوں اطراف کے مسلح اداروں کے اہلکار اور کشمیری شہری شاید "کولیٹریج ڈیمیج” کے زمرے میں آتے ہیں جن کا خون دونوں ممالک کے درمیان وقتی ابال اور ایک دوسرے کو جنگوں کی بڑھکیں لگانے کے کام آتا ہے۔

یہ جیتے جاگتے انسانوں پر مبنی خطہ ہے

کشمیر کوئی کیک کا ٹکڑا تو نہیں ہے جسے دونوں ممالک اپنی اپنی پلیٹوں میں ڈالنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ جیتے جاگتے انسانوں پر مبنی خطہ ہے جس کے پرامن باسی جو آگ تاپتے امن کے نغمے گاتے زندگی کی رعنائیوں میں مگن تھے ان کی زندگیوں کو پاک بھارت حکمران اشرافیہ، مسلمان جہاد پرستوں اور ہندو قوم پرستوں نے اجیرن بنا ڈالا ہے۔

Tags:
عماد ظفر

مصنّف ابلاغ کے شعبہ سے منسلک ہیں؛ ریڈیو، اخبارات، ٹیلی وژن، اور این جی اوز کے ساتھ وابستہ بھی رہے ہیں۔ میڈیا اور سیاست کے پالیسی ساز تھنک ٹینکس سے بھی وابستہ رہے ہیں اور باقاعدگی سے اردو اور انگریزی ویب سائٹس، جریدوں اور اخبارات کیلئے بلاگز اور کالمز لکھتے ہیں۔

  • 1

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *