Type to search

تجزیہ جمہوریت میڈیا

الیکٹرانک میڈیا کے خاتمے کا دن آ پہنچا۔ کیا نیوز روم اور صحافی اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے خود کو تبدیل کر پائیں گے؟

اس مضمون میں محمد ضیاالدین میڈیا کی صنعت کے کاروباری ماڈل کی کمزوریوں پر روشنی ڈال رہے ہیں جس کے باعث اگست 2018 سے اب تک 300 سے زائد صحافی اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اور ساتھ ہی وہ ڈیجیٹل میڈیا کی آمد کا ذکر کر رہے ہیں جو نیوز روم اور صحافیوں کیلئے نئی راہیں کھول سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کے تقاضوں کو کامیابی کے ساتھ نبھا پائیں۔

میڈیا کی صنعت آج کل عتاب کی زد میں ہے۔ لیکن اس کی قیمت مالکان کے بجائے صحافیوں کو نوکریوں اور پیشے کے اصولوں کو قربان کر کے ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق گذشتہ برس اگست سے لے کر اب تک 300 سے زائد صحافیوں کو ملازمتوں سے نکالا جا چکا ہے۔ ایک مرکزی ٹی وی چینل وقت ٹی وی اور روزنامہ جنگ (پشاور، فیصل آباد اور ملتان) اور روزنامہ ایکسپریس کے کئی ایڈیشن بند کیے جا چکے ہیں جبکہ کئی رسالے، اخبارات اور ٹی وی چینل بند ہونے کے قریب ہیں یا ڈاؤن سائزنگ کے ذریعے اپنے کاروبار کی بقا کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ لیکن چند اداروں کو چھوڑ کر جن کی مالیاتی امور کی مینیجمنٹ کسی قابل نہیں تھی، زیادہ تر اخبارات اور ٹی وی چینل اپنے نفع کے مارجن میں ہلکی سی کمی کا شکار ہیں۔ اور اس صنعت سے وابستہ کچھ ادارے 71 سالہ منافع بخش کاروباری ماڈل سے اس قدر منافع کما چکے ہیں کہ وہ اس عتاب کی زد میں رہ کر بھی دہائیاں ڈاؤن سائزنگ یا علاقائی ایڈیشنوں کو بند کیے بنا گزار سکتے ہیں۔

کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ان نئے کھلاڑوں نے میڈیا کی صنعت میں سرمایہ کاری پیسوں کے منافع کی غرض سے نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرنے کیلئے کی تھی۔ ان کے نزدیک میڈیا کی صنعت اپنے سماجی اور سیاسی رتبے کو مشتہر کرنے کا ذریعہ تھی۔

تقریباً ساری میڈیا کی صنعت کا کاروباری ماڈل جہاں بیحد منافع بخش تھا وہیں یہ 71 برسوں میں بیحد غیر محفوظ بھی رہا۔ چند اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو چھوڑ کر ان کے منافع کی شرح کا دارومدار حکومتی اشتہارات پر منحصر تھی اور بہت سے میڈیا کے ادارے یہ اشتہارات بنا قارئین تک قابل قدر رسائی یا کم ناظرین تک رسائی کے باوجود بھی حاصل کر لیتے تھے۔ جب تک الیکٹرانک میڈیا کو نجی شعبے کیلئے کراس ملکیت کے قانون کا خاتمہ کر کے کھولا نہیں گیا تھا اس وقت تک تین بڑے اخبارات کے گروپ (جنگ گروپ، نوائے وقت گروپ اور ڈان گروپ) ملک میں موجود تھے۔ ان تینوں نے بھی اپنے ٹی وی چینلوں کا آغاز کر دیا۔ بہت جلد ہی میڈیا کی صنعت میں ترقی دیکھنے کو ملی کیونکہ کارپوریٹ شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اپنے ٹی وی چینل کھولنے کا آغاز کر دیا۔ کچھ نے تو ٹی وی چینلوں کے ساتھ اخبارات شائع کرنے کا کام بھی شروع کر دیا۔

کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے یہ نئے کھلاڑی میڈیا کی صنعت میں سرمایہ کاری منافع کی غرض سے نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کا مقصد بدلے میں سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرنا تھا۔ ان کے نزدیک میڈیا کی صنعت اپنی سماجی اور سیاسی حیثیت کو مشتہر کرنے کا ذریعہ تھی۔ نہ ہی ان افراد کو اپنے میڈیا کے منصوبوں کی ساکھ اور شفافیت سے کوئی غرض تھی جو ایک پروفیشنل اور اخلاقی اقدار سے بھرپور میڈیا کیلئے لازمی جزو تصور کیے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جلد ہی الیکٹرانک میڈیا سے مدیر اور خبروں کے حقائق پرکھنے والے افراد کے کردار کا خاتمہ ہو گیا۔ مالکان نے خود ہی مدیروں اور حقائق جانچنے والوں کے فرائض سنبھال لیے۔ کارپوریٹ سیکٹر سے وابستہ میڈیا میں آنے والے زیادہ تر نومولود افراد کے پاس اخلاقی ذمہ داریوں اور کام کے تقاضوں سے نمٹنے کا حوصلہ موجود نہیں تھا جو اس عوامی خدمت کی صنعت کو دیگر پیسہ کمانے والی صنعتوں سے مختلف بناتے ہیں۔

اس کے باعث ایک دہائی کے عرصہ کے اندر ہی پوری میڈیا کی صنعت کی سماج میں ساکھ مجروح ہو گئی۔ ایک عوامی خدمت فراہم کرنے والی صنعت سے یہ تبدیل ہو کر سیاسی ایجنڈے پر مبنی صنعت کی شکل اختیار کر گئی۔ حال ہی میں حکومت نے اپنا میڈیا کا بجٹ تقریباً نصف حد تک کم کر دیا ہے جبکہ ساتھ ہی ریاست نے میڈیا کے سیاسی اثرو رسوخ کو کم کرنے کیلئے دباؤ ڈالا اور ڈکٹیشن پر مبنی اداریے اور ادارتی پالیسیاں بنوا کر اسے کمزور کر دیا ہے۔

ملک کے اشتہارات کا کیک کبھی بھی اتنا بڑا نہیں تھا کہ کثیر تعداد میں اخبارات، رسائل اور ٹی وی چینلوں کی ضروریات پوری کر پاتا۔

اصل بات یہ ہے کہ وہ افراد جو اخبارات خریدتے ہیں وہ اس کی پوری قیمت ادا نہیں کرتے جو کہ کم سے کم اس کی حالیہ قیمت سے تین گنا زیادہ ہوتی ہے اور اس کے باوجود آدھے سے زیادہ یہ کم قیمت ڈسٹریبیوٹرز کی جیبوں میں جاتی ہے۔ ٹی وی چینلوں کے معاملے میں مالکان کو ان پروگراموں سے کچھ منافع حاصل نہیں ہوتا جو وہ ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے نشر کرتے ہیں۔ یہ کیبل آپریٹرز ہیں جو ٹی وی دیکھنے والوں سے حاصل ہونے والی فیس کا منافع جیب میں ڈالتے ہیں۔ اس لئے میڈیا کی صنعت کی اشتہارات پر انحصار کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ لیکن  ملک کے اشتہارات کا کیک کبھی بھی اتنا بڑا نہیں تھا کہ کثیر تعداد میں اخبارات، رسائل اور ٹی وی چینلوں کی ضروریات پوری کر پاتا۔ اشتہارات کا کیک 2015 میں 66.9 ارب روپے تھا جو 2016 میں بڑھ کر 76۔2 ارب اور 2017 میں 87 ارب روپے تک جا پہنچا۔ اس میں ٹیلی وژن چینلوں کا حصہ بتدریج بڑھا۔ 2015 میں 33.6 ارب سے بڑھ کر 2016 میں یہ 38 ارب اور 2017 میں 42 ارب ہو گیا۔ اس عرصے میں پرنٹ میڈیا کا حصہ 2015 میں 16.1 ارب روپے، 2016 میں 18 ارب اور 2017 میں 20 ارب رہا۔ اس عرصے میں ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا کا حصہ بہت معمولی رہا البتہ ڈیجیٹل میڈیا نے بعد میں بیحد تیز رفتاری سے اپنی رسائی کو بڑھایا۔ لیکن 2018 کے آخری حصے میں اس کیک کا سائز سکڑ گیا کیونکہ نئی حکومت نے اشتہارات پر مبنی میڈیا پالیسی ختم کر دی اور ساتھ ہی ملکی معیشت جمود کا شکار ہو گئی۔

پہلے ہی ایک ٹی وی چینل بند ہو چکا ہے۔ اس بحران کو میڈیا کے اداروں کی جانب سے رائٹ سائزنگ کیلئے ایک عذر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس کا مطلب سٹاف کو نوکری سے نکالنا ہوتا ہے۔

زیادہ تر میڈیا ہاؤسز کا اشتہاری منافع بتدریج گر رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں ان حالات میں اپنا وجود قائم رکھنے میں انتہائی دقت کا سامنا ہے۔ پہلے ہی ایک ٹی وی چینل بند ہو چکا ہے۔ اس بحران کو میڈیا کے اداروں کی جانب سے رائٹ سائزنگ کیلئے ایک عذر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس کا مطلب سٹاف کو نوکری سے نکالنا ہوتا ہے۔ میڈیا کی صنعت میں جو ہو رہا ہے، اس کی پیش گوئی عرصہ دراز سے کی جا رہی تھی۔ لیکن یہ زبردستی اور اچانک ہے۔ بلکہ الیکٹرانک میڈیا کے 2000 میں قائم ہونے سے لے کر جو بھی پیش گوئیاں اس کے ڈوبنے کے بارے میں کی جا رہی تھیں وہ درست ثابت ہو رہی ہیں۔ لگتا ہے کہ بلبلہ اب پھٹ چکا ہے۔ دوسری جانب اخبارات کی صنعت کو ڈیجیٹل میڈیا سے خطرات لاحق ہیں جو وہ اشتہارات حاصل کر رہا ہے جو روایتی طور پر اشاعتی میڈیا کو جاتے تھے۔ زیادہ تر اخبارات بقا کیلئے اپنے صفحات کم کر کے ملازمین کو فارغ کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ تحریک انصاف کی حکومت کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ ہونا ہی تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے البتہ اس زوال کی رفتار کو حکومتی اشتہارات بند کر کے اور مسلم لیگ نواز کے دور میں حکومتی اشتہارات کی رقم کے بقایاجات روک کر تیز کر دیا۔ بلکہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں، بالخصوص پنجاب اور سندھ نے حالیہ سالوں میں پرنٹ میڈیا کے اشتہارات پر بے پناہ رقم صرف کی اور کمرشل بنکوں، ٹیلی کام کمپنیوں، ہاؤسنگ کالونیوں، ایف ایم سی جی فرموں اور فوڈ کمپنیوں کے مقابل اشتہارات دے کر صف اول کے دس پرنٹ میڈیا اشتہارات فراہم کرنے والوں میں شامل رہیں۔

زیادہ تر میڈیا کے کاروبار پر نگاہ رکھنے والوں کو معلوم تھا کہ حکومتیں ٹی وی چینلوں سے ایئر ٹائم مہنگے داموں خرید کر انہیں سبسڈی فراہم کر رہی تھیں جو کہ نجی کمپنیوں کی جانب سے دیے جانے والے معاوضے سے تین گنا زیادہ تھا۔ یہ رعایت اچانک ختم ہو گئی ہے۔

اس دوران کرنسی کی قیمت کم کرنے اور معاشی محاذ پر حکومت کے بروقت فیصلے نہ لینے کے باعث معاشی عدم استحکام پیدا ہوا اور تجارتی اشتہارات دینے والوں نے بھی اپنے اشتہارات کا بجٹ کم کرنا شروع کر دیا۔ زیادہ تر میڈیا کے کاروبار پر نگاہ رکھنے والوں کو معلوم تھا کہ حکومتیں ٹی وی چینلوں سے ایئر ٹائم مہنگے داموں خرید کر انہیں سبسڈی فراہم کر رہی تھیں جو کہ نجی کمپنیوں کی جانب سے دیے جانے والے معاوضے سے تین گنا زیادہ تھا۔ یہ رعایت اچانک ختم ہو گئی ہے۔ حالیہ چند ماہ میں ریاست اور اس کے کچھ مخلتلف اداروں نے میڈیا مالکان پر “قابو” پانے کی غرض سے حکومتی اشتہارات کا استعمال کیا ہے۔ لیکن جو امر پھر بھی حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ میڈیا کی صنعت کے مالیاتی بحران کا شکار ہونے کے باوجود نئے ٹی وی چینل ابھی بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔

بہت سے صحافیوں کو اب اپنے آپ کو دوبارہ سے تبدیل کرنا پڑے گا اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا پڑے گا تاکہ مختلف پلیٹ فارمز پر رپورٹ کر سکیں۔ انہیں اپنے آپ کو سوشل میڈیا میں ضم کرنا پڑے گا تاکہ وہ نئے ناظرین سے رابطہ بنا سکیں۔

انٹرنیٹ کے عروج کے باعث اشتہارات دینے والوں کو اپنے صارفین تک پہنچنے کا ایک اور پلیٹ فارم مل چکا ہے اور روایتی ٹی وی اور اخبارات کی جگہ اشتہارات دینے والوں کی توجہ کا مرکز سوشل میڈیا بن چکا ہے۔ اشتہارات کے کیک کا سائز چند برسوں میں بڑا ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس کیک کے نئے حصے دار بھی آ گئے ہیں۔ اشتہارات کی آمدنی حاصل کرنے کیلئے اب مقابلہ بڑھ چکا ہے۔ اس دوران سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کی تعداد ملک میں ٹی وی سکرینوں سے کئی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس لئے محض معیشت ہی میڈیا کی صنعت پر اثرات مرتب نہیں کر رہی۔ ناظرین اب مختلف پلیٹ فارمز کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ بالخصوص نوجوان نسل انٹرٹینمنٹ اور معلومات کے حصول کیلئے مختلف پلیٹ فارمز کا استعمال کرتی ہے۔

نیوز روم اور صحافیوں دونوں کو اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہو گا۔ نیوز روم اپنے آپ کو ایک ہی ذریعے یا زبان تک محدود نہیں رکھ سکتے۔ اور نہ ہی صحافی ایسا کر سکتے ہیں۔ بہت سے صحافیوں کو اب اپنے آپ کو دوبارہ سے تبدیل کرنا پڑے گا اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا پڑے گا تاکہ مختلف پلیٹ فارمز پر رپورٹ کر سکیں۔ انہیں اپنے آپ کو سوشل میڈیا میں مصروف کرنا ہو گا تاکہ وہ نئے ناظرین سے اپنا تعلق قائم رکھ سکیں۔ خبریں بنانے اور ان کی ترسیل کا کام موجودہ طریقہ کار سے مکمل تبدیل ہو جائے گا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *