Type to search

بین الاقوامی سیاست فيچرڈ

بھوکے کی جنگ

صحیح کہتے ہیں کہ آج کل کے دور میں پروپیگنڈا حقیقت سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ سچ پوچھیں تو حقیقت بھی کس نے دیکھی ہے۔ تو جانے دیجئے دونوں جانب کا میڈیا کیا کہہ رہا ہے، سب چھوڑیے، آئیے کچھ سکون کے لمحات ساتھ گزارتے ہیں۔

معلوم ہے اس رات امیر شہر کی ایک نکڑ پر کسی چھپر ہوٹل میں بیٹھا وہ ادھیڑ عمر شخص اس بات سے پریشان نہیں تھا کہ جنگ ہوگی یا نہیں، اس کو اس بات سے بھی کوئی غرض نہیں کہ جنگ ہوئی تو کیا ہوگا، اور اس کو ایٹمی جنگ جیسے پیچیدہ مسئلے سے بھی کیا لینا دینا۔ بلکہ پیالی کو بار بار منہ سے لگانا اور بدمزہ چائے کی تیز تیز چسکیاں لینا یہ بتا رہا تھا کہ اس کو کہیں پہنچنا ہے اور وہاں اس کا کوئی شدید منتظر ہے۔

چہرے کی بے رنگی اس کے حالات کی خوب تشریح کر رہی تھی۔ کیا معلوم کہ اس کو یہ فکر ہو کہ بجلی کا بل اتنا زیادہ کیسے آ گیا، وہ بھرے گا یا بچوں کی فیسیں، اور اگر گھر کا خرچ بھی کم پڑرہا ہو تو مالک مکان کو دو ماہ کا اکٹھا کرایہ جس کی تاریخ بھی گزر چکی، کہاں سے ادا ہوگا۔ آخر میں خودکشی کرنے کا وہ مشکل عمل ہی بچتا ہے جس سے غریب آدمی بچنا چاہتا ہے، ایسے میں ایٹمی جنگ کا مطلب ذرا تفصیل سے سمجھائیے گا، صاحب۔ غریب نالائق کو اس کی کوئی سمجھ نہیں ہے۔

اس دھندے کی سب سے اہم کڑی نفرت ہے۔ معلوم ہے ظلم جب یہودیوں پر کیا جا رہا تھا تو ان کا ریستوران، پارک اور عوامی جگہوں پر جانا بند کر دیا گیا تھا۔ حکم تھا کہ دائیں بازو پر سفید پٹی پہننی ہے جس سے پہچانے جائیں گے۔ دکانوں کے باہر لکھت میں آویزاں تھا کہ یہودیوں کا داخلہ منع ہے۔

یہ سوچ آج بھی زندہ ہے۔ اسلحے کی ضرورت کو وقت کی ضرورت سمجھ کر اس بات کو باآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر اس بار اس جنگ میں ٹماٹر بھی شامل ہیں۔ مگر سوچا جائے ٹماٹروں اور ٹماٹر اگانے والوں کا اس میں کیا قصور؟ جواب یہ کہ عوام زد میں نہ آئے تو جنگ کیسی؟

کشمیر سے آئی ایک تصویر میں کسی دکان کے باہر نوٹ لکھا تھا کہ dogs are allowed, Kashmiris are not آپ کو اور مجھے تو یہ پڑھ کر یقیناً برا لگا، مگر جو لوگ ستر سال سے ایسی نفرت کے نشانے پر ہیں ہم کیوں ان کے بارے میں کسی ابہام کا شکار ہوں۔ ایسے میں تو جو کشمیری نوجوان پلوامہ میں جاکر پھٹا اور چھیالیس فوجی مارے، اس نے بڑا احسن کام کیا۔

نہیں؟ چلیں مان لیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے آپ کو یہ جاننے کی اب ضرورت نہیں رہی کہ کون جا کر کہاں پھٹا۔ آپ کے لئے ہر ایک انسان کی جان برابر اہم ہے۔ صحیح۔ مطلب اب آپ کو کہانی کا اگلا پڑاؤ جاننا ہے۔

آپ اور میں تو جنگ و جدل، فساد، نفرت اس سب سے دور بھاگتے ہیں نا، ہمیں تو اس بات کی فکر ہی مان نہیں کہ ہمارے گھروں میں پریشانیوں کا خاموش واویلا کب ختم ہوگا۔ ویسے آپس کی بات ہے، راقم کے حالات اگر پروپیگنڈا سے بہتر ہوا کرتے تو جنگ کسی بھی لحاظ سے برا موضوع نہیں ہے۔ خیر یہ پتا لگانا ہے نا کہ وہ کون ہے جو اس کی ضرورت کو پیدا کرکے اس بیانئے کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ بنا کر ہمارے ہاتھوں میں تھما رہا ہے۔ ملک کی بقا ترجیح ہے اور روٹی کا سوال اس سب کے بعد، سوالوں کی ترتیب خراب کرنا عین غداری۔ یہ جو ‘کون’ ہے اس کو پہچانیے۔ آئیے اس بیانیے کے خلاف جنگ کریں۔ یہ پیغام لکیر کی دونوں جانب کی عوام کے لئے یکساں ہے۔

پرسکون لمحات کا دھوکہ دینے پر معذرت، امید ہے جواب میں آپ بھی اپنے خیالات لکھیں گے، آپ کے خیال میں بھارت اور بھوک میں سے کس کے خلاف لڑنا زیادہ اہم ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *