Type to search

سیاست فيچرڈ

گالی گلوچ اور اور لعن طعن کا بڑھتا کلچر

مہذب معاشروں میں ہر عمل اور فعل تہذیب و اخلاقیات کے دائرے ميں رہ کر کیا جاتا ہے۔ وہاں اخلاقیات کے دامن کو کبھی نہیں چھوڑا جاتا۔ سرعام گالی گلوچ اور لعن طعن کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ بغیر ثبوت الزام لگانے پر قانون فوری طور پر حرکت میں آ جاتا ہے۔ ہتک عزت کے سخت  قوانين کی وجہ سے بھی بلاوجہ اور بغیر ثبوت کے الزام تراشيوں کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔ بار ثبوت الزام تراشی کرنے والے کے سر ہوتا ہے۔

بد قسمتی سے ہمارے یہاں اخلاقیات اور اخلاقی قدروں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ گالی گلوچ، لعن طعن اور بغیر ثبوت الزام کا کلچر عام ہے۔ ہر کوئی دوسرے کے پیچھے پڑا ہے۔ گھروں، بازاروں، دفاتر اور اجتماعات الغرض ہر جگہ ایک عجب سی افراتفری ہے۔ کوچہ سیاست میں بھی طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ ہر جگہ “میں میں” کی گردان ہے اور دوسرے کے لئے برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہر کوئی دوسرے کے سر پر پیر رکھ کر کامیابیاں سمیٹنے کے چکر ميں ہے۔

دین سے محبت ہر مسلمان پر لازم ہے۔ مذہب میں توحيد اور رسالت پر ایمان جیسے کئی معاملات ایسے ہیں جن پر بغیر سوچ بچار اور بحث مباحثہ کیے سر خم کرنا ضروری ہے اور ہلکا سا شک وشبہ اور چوں چراں دین سے اخراج کا سبب بن سکتا ہے۔

مذہب سے محبت کے بعد وطن سے محبت کی باری آتی ہے اور اسلام میں وطن سے محبت کو بھی خصوصی حیثیت دی گئی ہے۔ وطن سے محبت کے ساتھ ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری بھی ہر شہری پر لازم ہے اور یہ کسی بھی معاشرے کی شہرت اور ساکھ کا تعین کرتی ہے۔

وطن کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار مسلح افواج ہوتی ہيں۔ پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ ہمارے بہادر سپوتوں کے جذبہ حب الوطنی، پیشہ ورانہ مہارت اور لازوال قربانیوں کی وجہ سے ہمارے وطن عزیز کی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں۔ ہمارے آرام و سکون کے لئے اپنی نیندیں قربان کرنے والے بہادر سپاہی بلاشبہ قابل فخر ہيں۔ ہماری طویل ترین اور دشوار گزار نظریاتی سرحدوں کی بلا خوف وخطر حفاظت کرنے والے بری، بحری اور فضائی افواج کے جوان ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ہماری عسکری انٹیلیجنس ایجنسی کا شمار بھی دنیا کی بہترین ایجنسیوں میں ہوتا ہے اور یہ ہمارے دشمنوں کی آنکھوں میں بری طری کھٹکتی ہے۔

ہمارے بیرونی اور نظریاتی بارڈرز کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے اندرونی محاذوں پر بھی قابل قدر خدمات سر انجام دی ہيں۔ پاک فوج کی کاوشوں اورقربانیوں کی بدولت دہشت گردی، انتہا پرستی اور شدت پسندی کا قلع قمع ہو رہا ہے اور حالات تیزی سے بہتری کی طرف جارہے ہيں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے اور متاثرین کی مدد کرنے میں پاک فوج ہمیشہ سے پیش پیش رہی ہے۔ صحت، تعلیم، شاہراہیں بنانے اور دیگر شعبہ جات میں بھی پاک فوج کی گراں قدر خدمات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ قومی اثاثوں کی حفاظت، امن و امان، مردم شماری اور انتخابات وغیرہ پاک فوج کی شموليت اور بے لوث مدد کے بغیر ناممکن ہیں۔ بلا شبہ کرپشن اور دہشت گردی کے شکنجے میں جکڑے وطن عزیز میں امید کی واحد کرن پاک فوج ہی ہے۔ ترقی یافتہ اور مضبوط ممالک کو ديکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ دراصل ان کی افواج کو آکسیجن ان کی عوام سے ملتی ہے۔ ان ممالک کے لوگ اور حکمران اپنی اپنی افواج کی بھرپور اخلاقی حمایت کرتے ہیں۔ ویسے بھی حب الوطنی کے ترازو میں اگر ہر کسی کو تولا جائے تو فوج کا پلڑا ہی بھاری ہوتا ہے۔

ہمارے ساتھ ستم ظریفی ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر مذہب، وطن اور مسلح افواج کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور گاہے گاہے ایسے واقعات میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا میں سر اٹھاتے رہتے ہیں جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ عوامی مسائل کی طرف سے چشم پوشی اور خاموشی اختیار کرنے والے نام نہاد دانشور دین، ملک اور مسلح افواج کی طرف توپوں کا رخ کیے رہتے ہيں۔ مجال ہے جو کوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی ناہمواری جیسے معاملات پر لکھے یا بولے۔

قارئين، لعن طعن، الزام تراشی، گالی گلوچ اور تنقید برائے تنقید کے بڑھتے ہوئے اور خطرناک کلچر پر قابو پانا اشد ضروری ہے۔ بلا ثبوت اور دلائل تنقید اور الزام تراشی کی سختی سے روک تھام ہونی چاہیے۔

Tags:

1 Comment

  1. آئینہ فروری 23, 2019

    آپ اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ الزام تراشی ، بہتان باندھنے ، گالی گلوچ ، تنقید براۓ تنقید کا غیر اخلاقی عمل ہماری فوج نے ہی شرو ع کیا تھا
    سیاستداں نے ملک بنایا مگر سب سے پہلے سیاستدانوں پر ہی تیر و نشتر چلاۓ گیے وہ بھی جھوٹ کے پلندے
    “ظلم کی داستانیں ” نامی ایک گھٹیا سیریز فوج نے ہی پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن سے عوام کو دیکھائی اور اب جب یہ “دائرہ ” مکمل ہورہا ہے اور جھوٹے الزام ، گالی گلوچ ، کردار کشی کرنے والوں کا نمبر آ ہی گیا ہے تو حوصلہ کریں
    یہ قانون قدرت ہے آپ یا میں اس کو روک نہیں سکیں گے

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *