Type to search

تاریخ فيچرڈ مذہب

محمد بن سلمان اور سعودی عرب کا معتدل مزاجی کی جانب سفر

اس مضمون میں ندیم فاروق پراچہ محمد بن سلمان کی زیر قیادت سعودی عرب کے جدیدیت کی جانب غیر منظم سفر کا جائزہ لے رہے ہیں اور ولی عہد کا تقابل شاہ فیصل سے کر رہے ہیں جس نے کئی دہائیاں پہلے اسی سفر کا اعادہ کیا تھا۔

اکتوبر 2017 میں مختلف اخبارات میں محمد بن سلمان کا بیان چھپا کہ وہ سعودی عرب کو معتدل اسلام کی جانب گامزن کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب میں عقیدے کی سخت مذہبی تشریحات اپنانے سے پہلے معتدل مزاج اسلام کا ہی پرچار ہوتا تھا۔ کٹر اور بنیاد پرست مذہبی تشریحات نے سعودی عرب میں شدت پسند ریاست اور سیاسی نظام پیدا کیے۔ سلمان نے کہا کہ یہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد ہوا۔ انہوں نے وضاحت دی کہ انقلاب کے ردعمل میں، مختلف سنی اکثریت والے ممالک نے سخت مذہبی نظریات کو اپنایا جس میں سعودی عرب بھی شامل تھا۔ سلمان نے کہا تھا کہ "سنی اکثریت والے مسلمان ممالک کو اندازہ نہیں تھا کہ ایران میں عروج پاتے شدت پسند اسلام سے کیسے نمٹا جائے”۔

گو سلمان ابھی باشاہ نہیں بنا ہے لیکن سعودی بادشاہت کے نظام میں اس کا گہرا اثر و رسوخ ہے اور وہ کافی طاقت بھی رکھتا ہے۔ اس لئے اس کے بیانات نے نہ صرف سعودی عرب میں لوگوں کو متوجہ کیا بلکہ بین الاقوامی برادری کے ان دو مختلف طبقوں کو بھی متوجہ کیا جو سعودی عرب کے بارے میں مختلف خیالات رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک طبقہ یورپ اور امریکہ کے تجزیہ کار اور "معتدل” اور "لبرل” مسلمانوں پر مشتمل ہے جو مختلف مسلمان ممالک میں بستے ہیں۔

عرصہ دراز سے ان کا ماننا تھا کہ سعودی ریاست نے مسلمان عقائد کی کٹر تشریح اور قدامت پسند نظریات کی ترویج کی۔ ان کا ماننا تھا کہ سعودی ریاست نے ایسا ملک میں اختلاف رائے کو دبانے کیلئے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پھر سعودی عرب نے ان اسلامی نظریات کو دیگر مسلمان ممالک میں پھیلانا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فعل "پیٹروڈالر” کی طاقت کے بل بوتے پر انجام دیا گیا۔ نتیجتاً یہ پالیسی مختلف مسلمان ممالک اور معاشروں میں شدت پسندی کو فروغ دینے کا مؤجب بنی جس نے غیر روایتی قسم کی شدت پسندی اور دہشت گردی کو جنم دیا۔ اور پھر یہ پالیسی آہستہ آہستہ سعودی عرب کو بھی اپنا شکار بنانے لگی۔

بہت سے تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے سعودی عرب نے مختلف شدت پسند گروہوں کی مالی معاونت کی لیکن یہ چال آخر میں الٹی پڑ گئی اور خود سعودی عرب بھی اس کا شکار ہونے لگ گیا۔

دوسرے طبقے نے ہمیشہ اس پالیسی کی حمایت کی اور ان کا ماننا ہے کہ سعودی عرب نے یہ سب انقلابی ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے کیا جس نے 1979 میں انقلاب ایران کے بعد اپنا شدت پسند اسلامی نظریہ پھیلانا شروع کر دیا تھا۔ اس طبقے کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سعودی عرب میں تشکیل پانے والی یہ سخت پالیسیاں اور ان کا دوسرے مسلمان ممالک میں پرچار اس وقت مسلم دنیا میں کمیونزم، سوشلزم اور سیکیولرزم پر مبنی نظریات و خیالات کا مقابلہ کرنے کیلئے ناگزیر تھیں۔

یہ بات قطعاً حیران کن نہیں ہے کہ اس سوچ سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت سعودی مالیاتی اور سیاسی مراعات سے براہ راست مستفید ہوتی تھی۔ حال ہی میں محمد بن سلمان کے سعودی باغی صحافی کو قتل کرنے کے احکامات جاری کرنے کے بعد جب وہ بین الاقوامی تنقید کی زد میں آیا تو دوسرے طبقے کے بیانئے کو خود سلمان کی وجہ سے شدید دھچکا لگا۔ نیو یارک ٹائمز کے پانچ نومبر 2017 کے ایڈیشن میں یہ خبر چھپی کہ اسی سال 4 نومبر کو سلمان نے "اثرو رسوخ رکھنے والے ملاؤں” اور مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف شدید کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔ نیو یارک ٹائمز نے مزید کہا کہ اس مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے افراد نے سالہا سال سعودی عرب کی تیل کی دولت کو اپنی تنگ نظر اسلامی تشریحات دنیا میں پھیلانے کیلئے استعمال کیا۔

اسی دن سعودی حکمران خاندان سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عہدوں پر فائز شہزادوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ نیو یارک ٹائمز نے خبر دی کہ گرفتار ہونے والے شہزادوں نے سلمان کی قطر کو تنہا کرنے کی کوشش کی مخالفت کی تھی اور ان پر اخوان المسلمین سے تعلقات کا الزام بھی تھا۔ اپنے "معتدل سعودی عرب” کے وژن کو سمجھانے کیلئے سلمان اکثر سابق سعودی بادشاہ شاہ فیصل بن عبدالعزیز کی پالیسیوں کا حوالہ دیتا ہے۔ فیصل کو 1975 میں قتل کر دیا گیا تھا اور اس کو قتل کرنے والا شخص اس آدمی کا بھائی تھا جسے سعودی عرب کی پولیس نے 1966 میں مارا تھا۔ مرنے والا شخص ریاض میں اس ریلی میں شرکت کر رہا تھا جس کے شرکا فیصل کے سعودی عرب میں پہلے ٹی وی چینل کو کھولنے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ فیصل کو ابھی بھی سعودیہ میں "سب سے زیادہ ترقی پسند” اور "جدت پسند” بادشاہ کے طور پر جانا اور مانا جاتا ہے۔

وہ 1964 میں اپنے بھائی بادشاہ وقت سعود بن عبدالعزیز کے خلاف کامیاب محلاتی بغاوت کے بعد اقتدار میں آیا۔ فرزانہ مون نے "نو اسلام بٹ اسلام” میں لکھا تھا کہ فیصل (بطور وزیر اعظم) اپنے بھائی کا ناقد تھا اور اسے "سعودی عرب کی تیل کی دولت ضائع کرنے” کا قصوروار قرار دیتا تھا۔ فیصل نے سعودی نیشنل گارڈز کا استعمال کر کے سعود کو اقتدار سے باہر کیا جو 1953 سے برسر اقتدار تھا۔ جیمز پی جانکوسکی نے اپنی کتاب Nasser’s Egypt میں لکھا تھا کہ فیصل کے عروج کے وقت مشرق وسطیٰ بالخصوص اور مسلمان دنیا زیادہ تر دو جدید اور بائیں بازو کے نظریات سے متاثر تھی۔ عرب قوم پرستی اور بعث انقلاب۔ مصر کے کرشمہ ساز صدر اور عرب قوم پرست جمال عبدالناصر کو مسلم دنیا کا عالمی رہنما تسلیم کیا جاتا تھا۔ جانکوسکی نے تحریر کیا کہ ناصر سعودی عرب کو "پسماندہ” اور "رجعت پسند” قرار دیتا تھا۔

عرب قوم پرست اور مصر کے صدر جمال عبدالناصر کو 1950 سے لے کر اس کی وفات (1970) تک مسلمان دنیا کا رہنما تصور کیا جاتا تھا۔

قاہرہ 1960 کی دہائی: جمال عبدالناصر کی حکومت کے زیر اثر مصری ریاست اور مصری باشندوں کی اکثریت سعودی عرب کو "پسماندہ” اور "رجعت پسند” تصور کرتی تھی۔

پروفیسر شرفیہ زہر نے 2011 میں سعودی بادشاہت سے متعلق اپنی کتاب میں لکھا کہ ناصر کے عرب نوجوانوں پر اثر و رسوخ کو کم کرنے کیلئے فیصل نے سعودی عرب کو جدید بنانے کی تیز کوششوں کا آغاز کیا۔ اس نے ٹیلی وژن متعارف کروایا، جدید تعلیم کی حوصلہ افزائی کی اور سعودی خواتین کو دفاتر میں مردوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی۔ مورڈیچائی عبیر نے 1987 میں اپنے مضمون The Consolidation of the Ruling Class and the New Elites of Saudi Arabia میں لکھا تھا "فیصل کو جلد ہی ملک کی طاقتور مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے ارکان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ اور نتیجتاً فیصل نے اپنی حکومت کے اعلیٰ مرتبوں میں ان کی تعیناتی پر پابندی عائد کر دی۔

جب ناصر کی اچانک وفات کے بعد اس کا اثرو رسوخ ختم ہونا شروع ہوا تو فیصل مسلم دنیا کے ایک مقبول رہنما کے طور پر ابھرا۔ بالخصوص جب اس نے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کو اسرائیل اور مصر کی جنگ (1973) کے دوران اسرائیل کا ساتھ دینے پر تیل کی فراہمی بند کر دی۔ یہی وہ وقت تھا جب سعودی عرب نے دیگر مسلمان ممالک میں پیسہ لگانا شروع کیا تاکہ مسلم دنیا کے معاملات میں اس کا اثر و رسوخ بڑھ سکے۔

شاہ فیصل

فیصل نے سعودی عرب میں چند کلیدی اصلاحات کا آغاذ کیا۔

فیصل نے سعودی دولت کا استعمال کر کے دیگر مسلمان ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش بھی کی۔

وہ شہزادے جنہیں سلمان کے حکم پر گرفتار کیا گیا تھا ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے روابط اخوان المسلمین کے ساتھ تھے۔ یہ دلچسپ امر ہے کیونکہ سلمان، فیصل کو اپنا ہیرو مانتا ہے لیکن فیصل کے دور میں سعودی عرب اخوان کا سب سے بڑا حمایتی تھا اور اسے رقوم بھی مہیا کرتا تھا۔ مصری تنظیم اخوان المسلمین ناصر کی حکومت کی 1950 سے لے کر 60 کی دہائی کے آخر تک مخالفت کرتی رہی تھی۔ اس تنظیم کے ایسے بہت سے ارکان جنہیں ناصر نے جلاوطن کیا تھا کو فیصل نے پناہ دی اور سعودی عرب میں انہیں تعلیم حاصل کرنے، سکول، کالج اور جامعات چلانے کی اجازت بھی دی۔

یہ ابھی حال ہی کی پیش رفت ہے کہ سعودی عرب اور اخوان کے تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے۔ ڈیوڈ ہرسٹ نے 17 اپریل 2017 کو مڈل ایسٹ کیلئے لکھے گئے اپنے مضمون میں کہا تھا کہ مصری رہنما عبدل السیسی نے سعودیوں کو اس بارے رضامند کیا کہ اخوان المسلمین جیسی منظم تنظیم بادشاہت کیلئے خطرات پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

محمد بن سلمان اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی ایجنڈے کو ہر ممکن طریقے سے آگے بڑھا رہا ہے۔ یہ چیز دلچسپی کا باعث ہوگی کہ یہ تبدیلیاں ان مسلمان ممالک کی سیاست اور نظام پر کیا اثرات مرتب کریں گی جہاں سعودی عرب کی جانب سے ترک کی جانے والی مذہبی تشریحات کو ابھی بھی قبول کیا جاتا ہے اور ان کے نفاذ کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

سعودی عرب ایک سیاحتی مرکز ایک ایسے علاقے میں تعمیر کر رہا ہے جو کہ بیلجئم جتنا بڑا ہے۔ یہ سیاحتی ریزارٹس بحیرہ احمر میں واقع ہوں گے اور یہاں سعودی قوانین کا اطلاق نہیں ہو گا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہاں خواتین کے لباس اور شراب نوشی پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہو گی۔ یہ سیاحتی مراکز غیر سعودی باشندوں کیلئے کھولے جائیں گے لیکن بعد ازاں سعودی عرب کے باشندوں کو بھی یہاں آنے کی اجاذت دی جائے گی۔ سعودی عرب نے پہلے ہی خواتین کے گاڑی چلانے پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. Ijaz Ahmad فروری 22, 2019

    Me ap k page articalls aksar parhta hn boht ummdah or informative hoty hn specially historical articalls achy likhty hn

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *