Type to search

سیاست فيچرڈ

ملعون کیمرا، مریم کا سر اور سرخ نشان

بغیر کسی تمہید کے، مریم نواز صاحبہ والد نواز شریف کی تیمارداری کو جناح ہسپتال لاہور آتی ہیں۔ گذشتہ روز سیاسی کارکنوں، میڈیا، سکیورٹی اہلکاروں کے رش اور دھکم پیل میں ایک کیمرا مریم نواز کےسر پر لگ گیا۔ جبکہ چند سینٹی میٹر کے فاصلے پر دوسرے کیمرے نے وہ منظر محفوظ کر لیا۔ بریکنگ نیوز بنی اور دھڑا دھڑ چلی۔ اس کے بعد سے جنگ جاری ہے۔ دونوں اطراف کمریں کس لی گئی ہیں۔ سوشل میڈیائی مورچوں میں بیٹھی افواج کی جانب سے گذشتہ روز شروع ہونے والا بمباری کا سلسلہ عروج پر ہے۔ کولیٹرل ڈیمج کی مد میں صبر، ہوشمندی اور معاملہ فہمی کی لاشیں جا بجا بکھری ہیں۔

یہ پاک بھارت جنگ کا بیان نہیں، معاملہ جناح ہستال لاہور کے اسی واقعے کے بعد کا ہے۔ ایک جانب خود کو جمہوریت پسند کہلوانے والے اور مریم نواز صاحبہ کے ہمدرد ہیں، جنہوں نے ٹویٹر، فیسبک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بی بی مریم کو کیمرا لگنے کے واقعے پر یوں نوحہ خوانی کی ہے کہ کلیجہ گلے کو آ جائے۔ ایک معروف اور محترم سوشل میڈیا پرسنیلٹی اور ایکٹوسٹ نے کیمرامین کو پلانٹڈ ہی قرار دے دیا۔

ہمارے ایک دوست صحافی اور ڈیموکریٹ اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ہر سلیبرٹی کی غیر متعلقہ پوسٹس پر بھی جا کر ان سے مریم نواز کے ساتھ ہونے والے اس “تباہ کن” واقعہ پر مذمتی بیان جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اور اسی طرح دیگر معروف و غیر معروف افراد ہیں جن کے مطابق ’میڈیائی کتوں‘ کو پٹے ڈالنے چاہئیں اور وغیرہ وغیرہ۔

دوسری جانب میرے صحافی بھائی یا صحافتی حلقوں سے دور کا بھی تعلق رکھنے والے بھائی اور بہنیں ہیں۔ جن کے کلیجوں کو مریم نواز کو کیمرا لگنے سے اتنی ٹھنڈک پہنچی ہے کہ جیسے ان کی زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔ ان میں سے جو ڈیوٹی پر موجود تھے خوش تھے کہ بیچنے کو “سودا” مل گیا۔  کئی فرماتے ہیں کہ اب پتہ چلا جب ان کے گارڈز ہمیں دھکے دیتے تھے تو کیا محسوس ہوتا تھا؟ ایک نے فیس بک پر لکھا تھا کہ جمہوریت زخمی تو نہیں ہو گئی؟ جس کے جواب میں ایک جمہورے نے لکھا کہ تم لوگ ہو ہی اس قابل۔ اور بس پھر الامان الحفیظ۔۔

تیسری قسم قوم یوتھ جو کہ آج کل حکومت میں ہے، ان کی ہے۔ کل سے جن کی تین روزہ عید شروع ہو چکی ہے اور آج اس کا دوسرا روز ہے۔ ان کے الفاظ اور تحریریں دہرانا وقت کی بدترین بربادی ہے، اس لئے گریز بہتر۔

مگر غور کریں۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ صحافی جن کے بدلے کی آگ مریم نواز کو کیمرا لگنے سے بجھ رہی ہے یہ کیا مائنڈ سیٹ ہے؟ آپ میں اگر اتنا ہی غصہ ہے حضور تو جائیے اپنے سی این آر اور ڈائریکٹر نیوز سے کہہ دیجئے کہ سر آج سے کوئی بھاگم بھاگ نہ ہوگی۔ بہتر شاٹ اور ایکسکلوژو فوٹیج کی دوڑ میں نہیں پڑیں گے۔ ہمیں کوریج کے دوران سکیورٹی عملے سے نہیں الجھنا۔ مریم نواز (سمیت کسی کو بھی) کو میڈیا ٹاک کرنا ہوگی تو وہ خود آ جائیں گی۔ سوچیے! آپ کہہ سکتے ہیں؟ نہیں؟ تو پھر چپ کیجئے۔ اور اس حادثاتی غلطی کو دوسری آپریشنل غلطی کی بنیاد پر درست مت قرار دیجئے۔

دوسری طرف آ گئے جمہوریے۔ جن کی جمہوریت شریف خاندان کے ارد گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی مسئلہ نہیں کہ آپ کا حق ہے جسے چاہیں پسند کیجئے سیاسی قبلہ بنائیے۔ مگر آپ تو برداشت، معاملہ فہمی اور منطقی بیانئے قسم کی چیزوں کے داعی ہیں؟ آدھ ادھور ویڈیو کلپ دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچنا کہ یہ سب پلانٹڈ ہے اور پھر سب کو ہی ملعون قرار دیتے ہوئے کربلا کا نقشہ کھینچ دینا ہوش مندی ہے؟ اگر یہی ہوش مندی اور طریق احسن ہے تو پھر یقین کیجئے آپ اپنا آپ ترک کر کے قوم یوتھ اور ان کے سرخیل کی پیروی شروع کر رہے ہیں۔

بہر حال مصالحے کے طور پر دی گئی ایک خبر جس کے مطابق مریم نواز صاحبہ کے سر پر کیمرا لگنے سے سرخ نشان بھی پڑ گیا تھا کے بعد سرخ نشان کدھر پڑا کس نے دیکھا سے قطع نظر دونوں اطراف کمریں کس لی گئی ہیں۔ سوشل میڈیائی مورچوں میں بیٹھی افواج کی جانب سے گذشتہ روز شروع ہونے والا بمباری کا سلسلہ عروج پر ہے۔ کولیٹرل ڈیمج کی مد میں صبر، ہوشمندی اور معاملہ فہمی کی لاشیں جا بجا بکھری ہیں۔ اور میدان جنگ میں لاوارث گلتی سڑتی ان لاشوں کے بیچوں بیچ ایک سرخ نشان جل بجھ رہا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *