Type to search

سیاست فيچرڈ

پاک بھارت: 70 سال کے جڑواں ضدی بوڑھے

1858 سے 1947 کے طویل عرصے بعد بالآخر تھک ہار کر برطانوی شاہی خاندان کے ہاں دو جڑواں بچوں کی نوید سنائی دی، جس کے تحت سب سے پہلے جون 1947 میں بچوں کے نام رکھے گئے، 8 جولائی کو کاغذات بنائے گئے، یوں سمجھیں کہ پیدائشی سرٹیفکٹ وغیرہ اور پھر 26 جولائی کو وراثتی دستور تخلیق دیا گیا۔

چودہ اگست کو وہ دن آیا کہ جب اعلان ہوا اور ایک زمین کے سینے کو چیر کو دو علیحدہ علیحدہ ناموں سے بچوں نے جنم لیا، اس معاملے میں ننھیال اور ددھیال کے بڑوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اب مسئلہ درپیش تھا کہ نومولودوں کی پرورش کیسے ہو؟

دونوں ہی بچے پیدائش سے بہت ذہین تھے، دونوں کے ساتھ ابتدا سے ہی لاکھوں لوگ جڑ گئے، کچھ اِدھر کچھ اُدھر، لیکن ایک یہ مسئلہ بھی دیکھنے میں آیا کہ پیدائش کا اعلان ہوتے ہی چند بانجھ عناصر نے خوشی منا نے والوں پر حملے کیے اور کھلا قتل عام کیا۔

دونوں نے اب اپنے سفر کا آغاز کیا، شاہی خاندان ایک کا ددھیال تھا تو اُسے بہت کچھ نواز کر گیا، جبکہ دوسرے کا ننھیال تھا تو اُس کے حصے میں بتدریج کم چیزیں آئیں۔ ددھیال نے اپنے اختیارات کا فائدہ اٹھایا اور سارے تجارتی و معاشی فوائد والے مقامات پوتے کو نواز دیے۔

ایک کا نام اسلامی نظریاتی بنیادوں پر رکھا گیا جس نے اپنی پرورش خود کی۔ ایک کی سربراہی ددھیال کی طرف سے ہندو جبکہ دوسرے کی کھوجہ مسلمان کو ملی۔ دونوں ہی نظریاتی اختلافات کے باوجود اپنے رشتے کی اہمیت کو سمجھتے تھے اس لئے لاکھ تلخیاں ہوں اپنے ساتھ رہنے والوں کو ایک دوسرے سے امن ، محبت اور بھائی چارگی کا درس دیتے رہتے تھے۔

ددھیال نے 1971 میں ایک سازش کی اور بڑے بیٹے کو گھر سے علیحدہ کرنے میں کردار ادا کیا جس کے بعد گہری دراڑ پڑ گئی۔ اب معاملات بگڑنے شروع ہوئے۔ بڑے بیٹے مجیب کو ددھیال نے بدظن کر دیا تھا۔ گھر والوں نے بھی کچھ اہمیت نہیں دی تو وہ ددھیال کی باتوں میں آ گیا اور گھر سے بھاگ کر علیحدگی کا اعلان کیا۔

دونوں کی انتظامی سربراہی 72 برسوں میں کئی لوگوں نے سنبھالی، ننھیال کے حصے میں بیشتر سخت لوگ آئے جنہیں نظم و ضبط کا پابند اور سخت مزاج سمجھا جاتا ہے جبکہ دوسرے کے حصے میں ہمیشہ ہی عوامی چناؤ آیا یعنی جو بھی خاندان کا فرد پسند ہے اُسے انتظامی سربراہی دے دی جائے۔

ان سالوں میں المیہ یہ رہا کہ دونوں طرف ہی خاص چیزوں جیسے دفاع، جارحیت، ہتھیار، نیوکلیئر، متوسط طبقے کی پشت پناہی وغیرہ پر ہی دھیان دیا گیا جبکہ غربت، تعلیم، صحت سمیت دیگر بنیادی سہولیات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ دونوں کے درمیان فاصلے نے بھرپور کردار ادا کیا جس سے پھپھو اور خالہ کے بچوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور مزید بدظن کیا۔

بڑے کا نام بھارت اور چھوٹے کا نام نظریاتی بنیادوں پر پاکستان رکھا گیا۔ دونوں جانتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، دونوں کے ساتھ رہنے والے پہلے سربراہ کی باتوں پر عمل کر کے امن کی طرح رہنا چاہتے ہیں مگر درمیان کے کچھ سازشی برصغیر کے خاندان کو بکھرتا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ بچ جانے والی چیزوں پر وراثت کا حق جما کر قبضہ کر لیں۔

دونوں طرف الیکشن سے قبل خاص ماحول بن جاتا ہے۔ پھپھو اور خالہ کا ساتھ دینے والے اس کو خوب ہوا دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے گھر تباہ، حالات خراب، بدلہ لینے اور اپنے ہی لوگوں پر ننھیال یا ددھیال کا ساتھ دینے کا الزام لگا کر غدار کہتے ہیں مگر جیسے ہی انہیں پانچ سال یا زیادہ عرصے کے لئے حکمرانی مل جائے تو وہ پھر سے امن مذاکرات کی باتیں کرتے ہیں۔

اب دونوں کی عمریں 70 برس ہو چکیں۔ ایشیا میں اگر ایک اوسط لگائی جائے تو 60 سال کے بعد عام طور پر بوڑھے چڑچڑے اور بہت زیادہ ضدی ہو جاتے ہیں۔ انہیں یہ خوش فہمی رہتی ہے کہ وہ آج بھی جوان ہیں جبکہ اب اولاد جوان ہے جسے جینے، ترقی کرنے کا ویسے ہی اشتیاق ہے جیسا بوڑھوں کو تھا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *