Type to search

سیاست فيچرڈ

قانون کے راکھشس، اور فریڈرک نطشے کی حساسیت

یہ 1889 تھا۔ جنوری کا آغاز تھا اورجنوبی اٹلی کاشہر ’ٹیورن‘ شدید ٹھنڈ کے قبضے میں تھا۔ شہر کی گلیاں دھند اور سرد ہواؤں کی لپیٹ میں تھیں۔ لوگ خال خال نظر آتے تھے جو شدید پالے میں اپنے ٹھٹھرٹے ہاتھوں کو بھاری بھرکم اوورکوٹوں کی جیبوں میں دابے ہوئے تھے۔ سردی مگر کوٹ کی جیبوں کو چیرتی ایک لہر کی طرح اندر داخل ہو رہی تھی۔ اتنے میں شاہراہ ’پیازے کارلو آبرٹو‘ پر ایک تانگہ مزدور نمودار ہوا۔ اس نے اچانک تانگے سے جتے گھوڑے پر کوڑے برسانے شروع کر دیے۔ گھوڑا درد سے چلانے لگا اور اس کے ہنہنانے کی درد بھری آواز سرد فضا میں دور تک پھیل گئی۔ گھوڑے کی اس چیخ نے شاہراہ کے دوسری طرف کھڑے لمبی لمبی مونچھوں کے حامل راہ گیر کی توجہ حاصل کی۔ راہ گیر تیزی سے گھوڑے کی طرف لپکا اورچیختے ہوئے گھوڑے سے لپٹ گیا۔ فرط جذبات میں اس کی گردن کو اپنی بانہوں میں لیا اور گھوڑے سے کہا "I can feel your pain”۔ راہ گیر صدمے سے اسی لمحے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا اور زندگی کے بقیہ 11 سال اسی دیوانگی کے عالم میں رہا۔ اگست 1900 میں وہ زندگی کے اس کرب سے رہائی پا گیا اور اس کی روح جسم سے پرواز کر گئی۔ اس راہ گیر کا نام فریڈرک نطشے تھا۔

ایک طرف انیسویں صدی کا یہ یورپی سماج تھا جہاں فریڈرک نطشے کے روپ میں ایک گھوڑے جیسے جانور کا درد محسوس کرنے والے موجود تھے جب کہ دوسری طرف جنوبی ایشیا کامعاشرہ ہے جہاں آج ایک صدی بعد بھی انسانی جان کی وقعت شاید ٹیورن کے اس گھوڑے سے بھی ارزاں ہے۔

صرف 22 برس پہلے کی بات ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا دوسرا دور حکومت تھا۔ اس زمانے میں رائے طاہر نامی تازہ دم نوجوان سندھ پولیس میں اے ایس پی بھرتی ہو کر کلفٹن میں تعینات ہوا۔ کراچی کا سیاسی درجہ حرات تیز تھا۔ طاقت کے مراکز اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بھٹوکے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو رستے سے ہٹانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ڈی آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل (جو بعد میں آئی جی سندھ اور بلوچستان، ڈی جی پولیس بیورو اور ڈی جی آئی بی بنے) نے مبینہ طور پر ایک ٹیم تشکیل دی۔ 20 ستمبر 1996 کو 70۔کلفٹن میں ایک آپریشن رچایا گیا جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ بعد میں اسے پولیس مقابلے کا نام دیا گیا۔ اس میں پاکستان کے سابق صدراور سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کے بیٹے اور دو بار کی منتخب وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بھائی کو ان کے چار ساتھیوں کے ہمراہ پولیس کے چند رکنی فائرنگ سکواڈ نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

یہ وہ ہائی پروفائل قتل تھا جس کا چرچہ دنیا بھر کے میڈیا میں ہوا۔ ملک کی وزیراعظم محترمہ مرحوم انصاف کیلئے ٹپکتے آنسوؤں کے ساتھ پریس کانفرنسیں کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ ایک طویل عرصہ شور رہا، پولیس کے خلاف پولیس کی متعدد انکوائریاں ہوئیں اور برسوں عدالت میں مقدمہ چلا۔ 13 سال بعد اس قتل کے تمام ملزمان بشمول 18 پولیس افسران عدالت سے باعزت بری ہو گئے اور پھر ترقی کی منازل طے کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ اس زمانے میں ہمارے شہر وزیرآباد سے تعلق رکھنے والے دانشور منو بھائی مرحوم نے طنزاً لکھا کہ ”قاتلاں کولوں قاتلاں بارے کیہ پچھدے او؟ ایہہ تہانوں کی دسن گے؟ کیوں دسن گے؟ دسن گے تے جج وسدے نے کنج وسن گے؟“

منو بھائی تو اس دنیا میں نہیں رہے مگر میر مرتضیٰ بھٹو کا قاتل ترقی پا گیا۔ حیران کن بات یہ کہ میر مرتضیٰ بھٹوکے اس سفاک قتل پراس ملک میں کسی نطشے نے ذہنی توازن نہ کھویا اور مقتول مرتضیٰ کی بہن بے نظیر بھٹو کو کسی نطشے نے نہیں کہا کہ ”میں تمہارا درد محسوس کر سکتا ہوں“۔

1988 میں پنجاب پولیس میں عابد حسین الیاس نامی نوجوان سپورٹس کوٹہ میں اے ایس آئی بھرتی ہوا جو بعد ازاں عابد باکسر کے نام سے معروف ہوا، حیران کن طور پراسسٹنٹ سب انسپکٹر عابد الیاس باکسر پر آئے دن کوئی نہ کوئی گینگ حملہ کر دیتا۔ پولیس مقابلہ ہوتا اور ان میں ”جرائم پیشہ عناصر“ کے مارے جانے کا دعویٰ سامنے آتا۔ ان پولیس مقابلوں میں سینکڑوں لوگ عابد باکسر کے ہاتھوں مارے گئے۔ انہی دنوں فوج سے ریٹائرڈ برگیڈئیر محمود شریف کی بیوی کا اغوا اور پھر اس کے بعد قتل ہوا۔ کہانی عابد باکسر پر آ کر ختم ہوئی جو مقتول کے سنیما، گھر اور جائیداد پر قابض تھا۔ عابد باکسر پر دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ انہی دنوں لاہور میں مشہور سٹیج سٹار اداکارہ نرگس کا خوب چرچا تھا۔ اس کے گھر پرحملہ ہوا، اسے باندی بنایا گیا، جنسی تشدد کیا گیا اور سر اور بھویں مونڈھ دی گئیں۔ اس کہانی کا مرکزی کردار بھی عابد باکسر نکلا۔ اس بربریت پر بھی اس سماج میں کوئی نطشے جیسا کردار سامنے نہیں آیا جو نرگس کی چیخوں پر اپنے دل میں انسانیت کا درد محسوس کر سکے۔ اس کے بعد بھی عابد باکسر پرڈکیتی، اغوا اور قتل کے بیسیوں الزامات لگتے رہے مگر عابد باکسر اے ایس آئی سے سب انسپکٹر اور پھر انسپکٹر تک ترقی کرتا گیا۔ وہ لاہور کے کئی اہم تھانوں میں ایس ایچ او تعینات رہا۔ اوران مقدمات میں گرفتار ہونے کی بجائے ایک دن اچانک بہ خیر و آفیت نوکری چھوڑ کر دوبئی چلا گیا۔

ایک المناک سانحہ 2011 میں ہوا۔ رینجرز کانسٹیبل شاہد ظفر کراچی کے کلفٹن پارک ایریا میں اپنی ڈیوٹی پر معمور تھا۔ ان دنوں کراچی میں رینجرز مختار کل کی حامل سمجھی جاتی تھی۔ ایک نجی ٹی وی رپورٹر نے ایک بیس، بائیس سال کے نوجوان (جو بعد میں سرفراز کے نام سے شناخت ہوا) کو چند رینجرز اہلکاروں کے سامنے گڑگڑاتے زندگی کی بھیک مانتے ہوئے دیکھا۔ ایک اچھے صحافی کی طرح اس نے فوری کیمرا نکالا اور منظر فلم بند کرنے لگا۔ کانسٹیبل شاہد نے سرفراز کی رحم کی اپیل مسترد کر دی اور گولی چلا دی۔ سرفرازنے رینجرز اہلکاروں کے قدموں میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ کیمرا مین نے ویڈیو اپنے ٹی وی سٹیشن بھیجی مگر چینل نے چلانے سے انکار کر دیا۔ ایک دوسراچینل اس پر رضامند ہو گیا اور چند گھنٹوں میں وڈیو وائرل ہو کر پورے پاکستان میں پھیل گئی۔

پینل کوڈ کی دفعہ 302 میں مقدمہ درج ہوا۔ کانسٹیبل شاہد پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 بھی لگی۔ عدالت نے سزائے موقت کا فیصلہ سنایا مگر ایک روز اچانک بی بی سی نے ایک خبر نشر کی۔ سرفراز کے قاتل شاہد کو مبینہ طور پر صدر پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت معاف کر دیا۔ حکومت نے اس قاتل کانسٹیبل شاہد کی رحم کی اپیل منظور کر لی جس نے گولی چلانے سے قبل مقتول سرفراز کی رحم کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔ کانسٹیبل شاہد آزاد ہو گیا مگر پوری سول سوسائٹی میں کسی نے مقتول سرفراز کیلئے احتجاج کی صدا بلند نہ کی۔

نوے کی دہائی میں سندھ میں ڈاکوؤں کا راج تھا۔ پولیس اور نیم فوجی دستے ڈکیتیوں کے واقعات کی روک تھام کیلئے سندھ میں تعینات تھے۔ جون 1992 میں حیدرآباد کے گاؤں ٹنڈو بھاول میں ایک خوف ناک واقعہ رونما ہوا۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک مسلح مقابلے میں ڈکیتوں کے نورکنی گروہ کے مارے جانے کی اطلاع ملی۔ ایک ضعیف العمر عورت مائی جندو انصاف کیلئے احتجاجاً سڑکوں پر آ گئی۔ اس کا بیٹا اور داماد مرنے والوں میں شامل تھے۔ وزیراعظم نوازشریف نے واقعہ کا نوٹس لیا تو معلوم ہوا کہ فورسز کے میجر ارشد جمیل اور اس کے ساتھیوں نے ٹندو بھاول میں چھاپہ مار کر نو نہتے شہریوں کو ماورائے عدالت اغوا کیا اور پھر دریائے سندھ کے کنارے جا کر گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔ مائی جندو برسوں احتجاج کرتی رہی مگر جب انصاف ملتا دکھائی نہ دیا تو مائی جندو کی بیٹیوں حاکم زادی اور زیب النساء نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر خود سوزی کر کے اپنی جان لے لی۔ اس سفاک قتل اور پھر جوان عورتوں کی خود سوزی پر بھی پاکستان میں کسی نے مائی جندو کے کاندھے پر سر رکھ کر نطشے کے الفاظ نہیں دہرائے کہ "I can feel your pain”۔

کچھ عرصہ قبل سندھ پولیس میں ایک کردار راؤ انوار احمد خاں بہت مقبول ہوا۔ اس نے 1982 میں سندھ پولیس میں بطور کلرک اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ 1992 سے 1999 کے دوران بے رحم سیاسی آپریشنوں میں ہزاروں بے گناہ شہری اور سیاسی کارکن مارے گئے۔ ان آپریشنز کے دوران جعلی پولیس مقابلے کرنے والوں میں راؤ انوار کا نام سرفہرست رہا۔ وہ حیران کن طور پر اے ایس آئی سے ڈی ایس پی کیماڑی اور پھر ایس پی گڈاپ بنا اور غیر ملکی میڈیا میں انکاؤنٹر سپیشلسٹ کے ٹائٹل سے مشہور ہوا۔ 2012 میں سپریم کورٹ نے اس کا ’بہی کھاتہ‘ دیکھتے ہوئے اس کی سب انسپکٹرکے رینک پر تنزلی کا حکم دیا۔ مگر صدارتی محل سے اگزیکٹیو آرڈر جاری ہوا اور تنزلی کے بجائے اسے بطور ایس ایس پی ملیر ترقی دے دی گئی۔ پھر سب نے دیکھا کہ صرف 2014 سے 2018 کے دوران راؤ انوار نے بطور ایس ایس پی 444 لوگوں کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا۔ عباس ٹاؤن بم دھماکہ کیس میں اسے سپریم کورٹ نے معطل کیا تو طاقتور حلقوں نے اسے پھر بطور ایس ایس پی بحال کروا دیا۔ جنوری 2018 میں حسب معمول لطیف شاہ ٹاؤن میں ایک پولیس مقابلہ ہوا جس میں نقیب اللہ محسود نامی پشتون شہری ہلاک ہوا۔ احتجاجی تحریک پورے ملک میں پھیل گئی۔ سیاسی حلقے اور دنیا بھر کا میڈیا متحرک ہو گیا۔ بات حد سے بڑھتی دکھائی دی تو جنوری 2019 میں سندھ پولیس کا کلرک باعزت طریقے سے بطور ایس ایس پی ریٹائر ہو گیا۔ راؤ انوار پر قتل کا مقدمہ درج ہوا مگر وہ زیر حراست ہونے کے باوجود بغیر ہتھکڑی عدالتوں میں پیش ہوتا رہا اور پھر اسے جلد سنگین مقدمات میں ضمانت مل گئی۔ اس دوران کسی عدالت، کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور کسی حکومت نے راؤ انوار کے ہاتھوں ماورائے عدالت مارے جانے والے ہزاروں بے گناہ لوگوں کا نوٹس نہیں لیا۔

ایک سانحہ رواں برس جنوری 2019 میں رونما ہوا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ قومی سلامتی کے ایک اہم ادارے کی اطلاع پر پنجاب کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے پنجاب کے ضلع ساہیوال میں ایک کارروائی کی۔ یہ کارروائی ان روزمرہ کے معمولات کا حصہ تھی جو پولیس اور سی ٹی ڈی کے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ سی ٹی ڈی ٹیم نے مرکزی شاہراہ پر ایک گاڑی میں سوار شہریوں کو دہشت گرد قرار دے کر نشانہ بنایا۔ گاڑی میں سوار فیملی کو چند لمحوں میں سینکڑوں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ مرنے والوں میں وہ 13 سالہ معصوم بچی اریبہ بھی شامل تھی جسے کلاشنکوف سے چار بار شوٹ کیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو وزیراعظم نے نوٹس لیا۔ انکوائریاں ہوئیں، جے آئی ٹیز بنیں مگرآج بھی انصاف کوسوں دور ہے۔

کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اس واقعے میں بھی یہی ہوا۔ وقت، جگہ اور حالات تبدیل ہوئے لیکن شیکسپئرکی کلاسک ٹریجڈیز کی طرح کردار وہی رہے۔ ایک بار پھر اس واقعے میں پی ایس پی رائے طاہر کا نام گونجا۔ بالکل میرمرتضیٰ بھٹو کے سرد قتل کی طرح۔ 22 برس قبل بطور اے ایس پی اور اس بار بطور سربراہ سی ٹی ڈی پنجاب۔ لیکن قانون کے ہاتھ نہ 22 برس قبل رائے طاہر کے گریبان تک پہنچے اور نہ اس بار ایسا ہوا۔ سنگدل میڈیا اینکرز اس واقعے میں مرنے والے شہریوں کی کفن میں بندھی لاشیں اور یتیم ہونے والے بچوں کی چیخیں براہ راست نشر کرتے رہے۔ مگر اس پتھر دل سماج میں کوئی شخص نطشے کے روپ میں سامنے نہیں آیا جو اس ستم پر مینٹل بریک ڈاؤن کا شکار ہوا ہو۔

اس سانحے کاابھی خون بھی خشک نہیں ہوا تھا کہ ایک اور خبر نے ہر کسی کو جھنجھوڑ کر دکھ دیا۔ طاقت کے مراکز نے اس خبر کو دبانے کی بھرپور کوشش کی مگر میڈیا پر ریاستی اجارہ داری کب کی اٹھ چکی۔ سوشل میڈیا پر خبر چند گھنٹوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ بین الااقوامی ذرائع ابلاغ نے اس پر ایڈیٹوریل لکھے۔ پاکستان میں ہمارے محترم حامد میر صاحب نے دباؤ کے باوجود اسے رپورٹ کیا۔ یہ ایک پولیس افسر کے ہاتھوں ایک پروفیسر کا قتل تھا۔ بات یوں تھی کہ 2 فروری 2019 کو بلوچستان کے ضلع لورالائی میں دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی سیاسی تحریک کا دھرنا ہوا جو حساس اداروں کی آنکھ میں پتھرکی طرح کھٹکتی تھی۔ اس دھرنے میں پشتون شاعر پروفیسر ارمان لونی پیش پیش تھے۔ پروفیسر ارمان لونی وہیں بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ اچانک اے ایس پی کی قیادت میں پولیس کا ایک مسلح جتھہ نمودار ہوا۔ اے ایس پی عطاالرحمٰن ترین نے مشتعل ہو کر راکھشس کا روپ دھار لیا۔ قانون کا رکھوالا چند لمحوں میں قاتل بن گیا۔ عطاالرحمٰن ترین نے اپنی رائفل کے بٹ مار مار کر پروفیسر ارمان لونی کو موقع پر ہی شہید کر دیا۔ یہ منظر بیسیوں نے دیکھا۔ دنیا بھر میں یہ واقعہ رپورٹ ہوا مگر قاتل اے ایس پی عطاالرحمٰن ترین کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، کئی ہفتوں بعد بھی کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

ظلم و بربریت کے یہ چند واقعات ان ہزاروں واقعات میں سے محض چند ہیں جو انتہائی اعلیٰ سطح پر رپورٹ ہوئے۔ دنیا بھر میں اخبارت کی سرخیوں اور ٹی وی ٹاک شوز کا مرکزی موضوع بنے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بل پاس ہوئے مگر پھر بھی انصاف کوسوں دور رہا۔ یہ دراصل اس سماج کا المیہ ہے۔ اس سماج میں ہر روز نہ جانے کتنے واقعات سامنے آتے ہیں جس میں قانون کے رکھشک قانون کے راکھشس کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ چند واقعات اس نظام کی دیگ کے کچھ دانے ہیں اور ان میں موجود یہ گھناؤنے کردار اس بے حس سماج کا اصل چہرہ ہیں۔ رائے طاہر، عابد باکسر، کانسٹیبل شاہد، ایس ایس پی راؤ انوار اور اے ایس پی عطاالرحمٰن ترین جیسے کردار دراصل شیکسپیئر کے ڈرامے جولیس سیزر کے کردار ’کاسکا، سیزیس اور بروٹس‘ سے بھی زیادہ گھناؤنے ہیں۔ یہ قانون کے نہیں بلکہ اس گھناؤنے استعماری نظام کے محافظ ہیں جن کا خمیر ہی جبر اور استحصال کے اس نظام سے اٹھایا گیا ہے۔

یہ ہماری بد بختی ہے کہ اس معاشرے میں آج انسانی جان شاید ٹیورن کے اس گھوڑے سے بھی زیادہ ارزاں ہے جس کو سردی میں کوڑا لگنے پر ایک شخص کے دل میں درد ابھر آیا تھا۔ یہاں صدیوں بعد بھی کوئی نطشے پیدا نہ ہوا جو کم از کم اتنا حساس ہو کہ اس ظلم و ستم کو محسوس کر سکے جو اس سماج میں گھوڑے جیسے جانور نہیں بلکہ عام انسانوں کے ساتھ روا رکھا گیا گیا۔ وہ انسانی جبر جس کا اس سماج میں ہر دوسرا فرد شکار ہے۔ دراصل اس بے چاری دھرتی پر آج تک اتنا لہو بہا ہے کہ اگر یہاں کے باسیوں میں نطشے کے مقابلے میں ذرا بھر بھی حساسیت ہوتی تو ہر دوسرا شخص "Mental Breakdown” کا شکار ہو جاتا۔

نطشے اپنے پاگل پن کے ایام میں دوستوں کو عجیب و غریب خطوط لکھتا کرتا تھا۔ جس میں وہ کبھی حضرت عیسیٰ کو سولی چڑھانے والے یہودی پادری جوزف قیافاس کو ہتھکڑیوں میں دیکھتا تو کبھی جرمن شہنشاہ ولیم دوم کوظلم و جبر کے شکار اٹلی پر حملے کیلئے للکارتا اور کبھی روم کے پوپ اعظم کو جیل میں ڈالنے کی خواہش کا اظہار کرتا۔ اس کے یہ خطوط "Madness Letters” کے نام سے مشہور ہوئے۔ میرا احساس ہے کہ اگر آج نطشے حالت دیوانگی ہی میں زندہ ہوتا تو اپنے ان خطوط میں سانحہ ساہیوال کا بھی ذکر کرتا۔ وہ رائے طاہر، عابد باکسر، عطاالرحمٰن اور راؤ انوار کابھی ذکر کرتا۔ ظلم و ستم کے مارے اور اس نظام کے ڈسے ان لوگوں کا بھی ذکر کرتا جن کی زندگیاں اس سامراجی قانون اور نوآبادیاتی نظام انصاف کی نذر ہو گئیں۔ وہ اپنے خطوط میں جوزف قیافاس کی بجائے قانون کے ان راکھشسوں کو ہتھکڑیوں میں دیکھنے کی خواہش کرتا جن کے ہاتھ نہ جانے کتنے بے گناہ معصوم لوگوں کے خون سے رنگے گئے۔ وہ اپنے "Madness Letters” میں ان بے گناہ لوگوں کا بھی ذکر کرتا جو یہاں قانون کے محافظوں کے ہاتھوں اندھیری راہوں پر مارے گئے اور شہر کی گلیاں جن کے خون سے سرخ ہو گئیں۔ لیکن افسوس شاید آج اس سماج میں کوئی فریڈرک نطشے نہیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *