Type to search

سیاست فيچرڈ

شیخ رشید احمد کی زبان ایک بار پھر ’’لڑکھڑا‘‘ گئی

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے وزیر ریلوے کے خطاب نے بہت سے سوالات پیدا کر دیے

ویب ڈیسک

پاکستان کے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد‘ انڈین پائلٹ ابھی نندن ورتھامان کی رہائی پر تلملا  کر رہ  گئے ہیں۔ پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خدشات کا اظہار کیا کہ گرفتار پائلٹ کی واپسی پر انڈیا ایک بار پھر پاکستان کے خلاف محاذ کھول سکتا ہے۔

شیخ رشید احمد جہادِ کشمیر کے حوالے سے ایک اہم مگر متنازعہ حوالہ تصور کیے جاتے ہیں اور ان کے بیانات انڈین میڈیا پر شدومد سے پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کی حالیہ تقریر کے باعث بھی ’’کچھ بھی نہ کہا اور کچھ کہہ بھی گئے‘‘ والی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا:’’واجپائی (انڈیا کے سابق وزیراعظم) کے دور میں یہ صورتِ حال نہیں تھی لیکن (نریندر) مودی کی سوچ مختلف ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ مودی نے یہ حملہ لوک سبھا کے انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ ‘‘

وزیرِ موصوف نے کارگل جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’کارگل جنگ کے دوران ایک انڈین طیارہ تباہ ہوا جو پاکستانی حدود میں گرا لیکن کوئی ایک انڈین طیارہ بھی کارگل کی سرحد عبور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس بار انڈیا کے 14 جنگی طیارے پاکستان میں جبہ کے مقام تک پہنچ گئے جہاں اظہر صاحب کا مدرسہ۔۔۔‘‘

شیخ رشید احمد نے اپنی بات تو پوری نہیں کی لیکن وہ جذبات کے بہاؤ میں بہہ کر بہت کچھ کہہ گئے۔ مثال کے طور پر وہ کون سے مدرسہ کے بارے میں بات کر رہے تھے یا ان کے اس دعویٰ میں بھی کوئی حقیقت ہے یا نہیں کہ انڈیا کے ایک یا دو نہیں بلکہ 14 جنگی طیارے لائن آف کنٹرول عبور کرنے میں کامیاب رہے جنہوں نے جبہ میں ایک مدرسے کو بھی نشانہ بنایا جومبینہ طور پر اظہر صاحب کا تھا؟
یہ اظہر صاحب کون ہیں؟ س بارے میں شیخ رشید احمد ہی بہتر طور پر کچھ بتا سکتے ہیں۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعتراف کیا ہے کہ جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر پاکستان میں ہی ہیں اور وہ شدید ’’علیل‘‘ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری معلومات کے مطابق ان کے لیے گھر سے باہر نکلنا تک ممکن نہیں ہے۔ شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ انڈیا اگرناقابلِ تردید شواہد فراہم کرتا ہے تو اسی صورت میں پاکستان کے لیے مسعود اظہر کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ممکن ہو سکے گا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *