Type to search

انسانی حقوق خبریں فيچرڈ مذہب معاشرت

فیاض الحسن چوہان کی چھٹی

ہندو اقلیت کی توہین، پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا

فیاض الحسن چوہان کو ملک کی ہندو اقلیت کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کے استعمال پر وزیر اطلاعات و ثقافت  کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے صوبائی وزیر کے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو موصوف کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔

فیاض الحسن چوہان کے متنازعہ بیان کے بعد حکمران جماعت کے سینئر رہنمائوں نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے فیاض الحسن چوہان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندو ہماری طرح ہی اس ملک کے وفادار شہری ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں انڈیا پر تنقید کرتے ہوئے ملک کی ہندو کمیونٹی کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کہے تھے جس کے باعث اب وہ اپنی وزارت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا:”گائے کا پیشاب پینے والو، میری بات سنو۔ ہم مسلمان ہیں، ہم نے حضرت علی اور حضرت عمر کی بہادری کا پرچم بلند کررکھا ہے۔ آپ کے پاس یہ پرچم نہیں ہیں۔” انہوں نے مزید کہا تھا:’’بتوں کی پوجا کرنے والوں کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ وہ پاکستان سے بہتر ہیں۔‘‘

ملک کے وزیرِ خزانہ اسد عمر نے فیاض الحسن چوہان پر تنقید کرتے ہوئے انہیں یہ یاددہانی کروائی  تھی کہ ’’قائداعظم کی پوری جدوجہد تعصب سے پاک ملک کے حصول کے لیے تھی۔‘‘

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے موصوف پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ہمارے ہندو شہریوں نے بھی ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔۔۔ ہم کسی بھی طرح کے تعصب یا مذہبی نفرت کے فروغ سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے۔‘‘

وزیراعظم عمران خان کے سپیشل اسسٹنٹ نعیم الحق نے کہا تھا کہ پارٹی مذکورہ وزیر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرے گی اور حکومت کے کسی سینئر رہنما یا کسی بھی حلقے کی جانب سے اس نوعیت کی ’’بیہودگی‘‘ برداشت نہیں کی جائے گا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے بھی اپنے ایک پیغام میں فیاض الحسن چوہان کے بیان کو رَد کیا تھا۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا تھا،’’پاکستان فخریہ طور پر اپنے پرچم میں موجود سفید حصے کو اسی طرح اپناتا ہے جس طرح سبز حصے کو۔ ہم ہندو برادری کی ملک کے لیے خدمات کی قدر کرتے ہیں اور انہیں اپنا سمجھ کر عزت دیتے ہیں۔‘‘

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی فیاض الحسن چوہان پر کڑی تنقید کی گئی۔ سابق وزیردفاع خواجہ آصف نے سابق صوبائی وزیر کو’’جاہل‘‘ہی قرار دے ڈالا تھا تو پنجاب اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

فیاض الحسن چوہان نے اپنے بیان پر معافی مانگتے ہوئے یہ وضاحت کی تھی کہ انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان میں موجود ہندو برادری کو نہیں بلکہ نریندر مودی، انڈین افواج اور انڈین میڈیا کو مخاطب کیا تھا۔

ہندوؤں کی نمائندہ تنظیم پاکستان ہندو کونسل کے مطابق ہندو کمیونٹی ملک کی مجموعی آبادی کے قریباً چار فی صد پر مشتمل ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *