Type to search

بین الاقوامی سیاست فيچرڈ

نیویارک ٹائمز: مودی کا پاکستان سے فضائی معرکہ ہارنے کا اعتراف اور بھارتی فوج کے بڑھتے مسائل

یہ مضمون نیویارک ٹائمز میں مارچ 3 کو شائع ہوا۔ ماریہ ابی حبیب کی اس تحریر کو نیا دور اپنے قارئین کے لئے اردو میں ترجمہ کر کے پیش کر رہا ہے۔

یہ اس فوج کیلئے ایک بے عزتی کا لمحہ تھا جس پر امریکہ، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر نظر رکھنے کیلئے انحصار کرتا ہے۔ گذشتہ ہفتے بھارتی فضائیہ کے ایک پائلٹ کی پاکستانی فضائیہ سے مڈ بھیڑ ہوئی اور بھارتی پائلٹ کو کچھ دیر کیلئے پاکستان میں قیدی بن کر رہنا پڑا۔ پائلٹ تو کچھ روز بعد گھر واپس آ گیا لیکن روسی طیارہ مگ 21 اتنا خوش قسمت نہیں تھا۔ یہ فضائی لڑائی جو دونوں جنوبی ایشیائی ممالک کی فضائیہ کے درمیان گذشتہ پانچ دہائیوں میں لڑے جانی والی پہلی لڑائی تھی، اس نے بہت سے ماہرین کو حیران کر دیا۔

بھارت کی مسلح افواج ایک خطرناک صورتحال میں ہیں

گو بھارتی فوج کو درپیش مسائل کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن اس کا ایک ایسے ملک کے ہاتھوں اپنا طیارہ گنوانا جس کی فوجی طاقت بھارت سے کئی گنا کم ہے اور جسے بھارتی فوج کے مقابلے میں بیحد کم پیسے ملتے ییں ایک تشویش ناک امر ہے۔ بھارت کی مسلح افواج ایک خطرناک صورتحال میں ہیں۔ اگر کل جنگ کا اعلان ہو جائے تو حکومت کے اپنے اندازے کے مطابق یہ بھارتی افواج کو محض دس دن تک گولہ بارود فراہم کر سکتی ہے۔ جبکہ 68 فیصد اسلحہ جو افواج کے پاس ہے وہ اس قدر پرانا ہے کہ سرکاری طور پر بھی اسے “تاریخی یادگار” قرار دیا جاتا ہے۔ گوراو گوگوئی جو بھارتی پارلیمنٹ کی دفاع کی قائمہ کمیٹی کے رکن ہیں ان کا کہنا ہے کہ “ہماری افواج کے پاس جدید اسلحے کی کمی ہے۔ لیکن انہیں اکیسویں صدی کے فوجی آپریشن سرانجام دینے ہیں۔” امریکی اہلکار جنہیں بھارت کے ساتھ اتحاد کو مضبوط بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ اس کے بارے میں انتہائی مایوسی سے بات کرتے ہیں کہ ایک بڑی بیوروکریسی اسلحے کی فروخت اور مشترکہ فوجی مشقوں میں رکاوٹ ہے۔

میٹس نے بھارتی افواج کو خطے میں اپنی اولین افواج قرار دیا تھا

بھارتی افواج کو کم وسائل مہیا کیا جاتے ہیں اور بھارت کی بری، فضائی اور بحری افوج آپس میں ایک ساتھ کام کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں۔ گذشتہ برس جب سیکرٹری دفاع جم میٹس نے ورلڈ آرڈر بدلنے کیلئے بھارت کے تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا، میٹس نے بھارتی افواج کو خطے میں اپنی اولین افواج قرار دیا تھا۔ امریکی فوج نے بھارت کے ساتھ اپنے اتحاد کو اہمیت دینا شرودع کر دی ہے کیونکہ اس نے پاکستان کے ساتھ دو دہائیوں پر مبنی تلخ اتحاد کو ختم کر دیا۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کچھ نہیں کر رہا، جبکہ پاکستان اس الزام کو نہیں مانتا۔ محض ایک سال کے اندر ہی امریکہ نے بھارت کو 15 ارب امریکی ڈالروں کا اسلحہ فروخت کیا ہے لیکن پاکستان پھر بھی ماضی میں امریکہ کے دیے گئے اسلحے پر انحصار کر سکتا ہے۔

اپنی فوج کی مشکلات کے باوجود بھارت اپنے جغرافیائی مقام اور آبادی کے باعث امریکہ کیلئے سٹریٹیجیک پارٹنر کے طور پر کشش رکھتا ہے

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ان کا مگ 21 طیارہ گرانے کیلئے ایف 16 طیارے کا استعمال کیا لیکن پاکستان نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ اتوار کو اسلام آباد میں قائم امریکن ایمبیسی نے بیان دیا کہ امریکہ اس رپورٹ کے بارے میں چھان بین کر رہا ہے۔ ایف 16 طیاروں کو خریدتے وقت پاکستان نے معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان طیاروں کو بھارت کے خلاف جارحیت کیلئے استعمال نہیں کرے گا۔ امریکن ایمبیسی کا کہنا ہے کہ ہمیں اس رپورٹ کے بارے میں علم ہے اور ہم اس کی چھان بین کر رہے ہیں۔ ہم دفاعی اسلحے کے غلط استعمال کے الزامات کو بیحد سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اپنی فوج کی مشکلات کے باوجود بھارت اپنے جغرافیائی مقام اور آبادی کے باعث امریکہ کیلئے سٹریٹیجیک پارٹنر کے طور پر کشش رکھتا ہے۔ بھارت بہت جلد دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا اور 2024 تک چین کو بھی اس معاملے میں پیچھے چھوڑ جائے گا۔ بھارت کی چین کے ساتھ جنوب اور مغرب میں طویل سرحدیں ہیں اور یہ سمنر کے ان پانیوں پر تسلط رکھتا ہے جو چین کو اپنی تجارت کیلئے درکار ہیں۔

2018 میں بھارت نے 45 ارب ڈالر کا فوجی بجٹ پیش کیا جبکہ مقابلے میں چین نے اسی سال 175 ارب ڈالر فوج کیلئے مختص کیے

جیف سمتھ جو “کولڈ پیس: چائنہ انڈیا رائیولری ان ٹوینٹی فرسٹ سینچری” نامی کتاب کے مصنف ہیں اور واشنگٹن میں ہیریٹج فاؤنڈیشن میں جنوبی ایشیا کے امور پر تحقیق کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بھارت کی آبادی، اس کی فوجی قوت اور جغرافیائی مقام کی وجہ سے یہ انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ سمتھ کا کہنا ہے کہ چین ترقی کرتا جا رہا ہے اور امریکہ دنیا میں اپنا تسلط برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کیلئے امریکہ کو ایک ایسی ریاست کی مدد کی ضرورت ہو گی جو اکیسویں صدی میں طاقت کا توازن اس کے حق میں کر سکے اور یہ ریاست بھارت ہے۔ امریکہ یہ بات جانتا ہے۔ بھارتی فوج کیلئے سب سے بڑا مسئلہ وسائل کا ہے۔ 2018 میں بھارت نے 45 ارب ڈالر کا فوجی بجٹ پیش کیا جبکہ مقابلے میں چین نے اسی سال 175 ارب ڈالر فوج کیلئے مختص کیے۔ گذشتہ ماہ نئی دہلی نے 45 ارب ڈالر کا ایک اور دفاعی بجٹ پیش کیا۔

بھارتی فوج عرصہ دراز سے ایسے ملک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرتی آئی ہے جہاں بیروزگاری ایک شدید مسئلہ ہے۔ یہ آئندہ منعقد ہونے والے عام انتخابات میں بڑا مسئلہ ہو گا۔

سوال یہ نہیں ہے کہ بھارت اپنی افواج پر کتنا روپیہ خرچ کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ رقم کیسے خرچ کی جاتی ہے۔ فوج کیلئے مختص رقم کا ایک بھاری حصہ ملازمت کرنے والے 12 لاکھ سپاہیوں اور افسران یا ریٹائرڈ سپاہیوں کی پینشن کی مد میں چلا جاتا ہے۔ صرف 14 ارب ڈالر بچتے ہیں جو نئے اسحے کی خرید کیلئے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ گوگوئی کہتے ہیں کہ “اس وقت دنیا بھر میں جدید افواج اینٹیلیجنس کے معیار اور تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہی ہیں؛ ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔” چین کے برعکس جہاں آمرانہ حکومت فوجی پالیسی کو اپنی مرضی سے بنا اور چلا سکتی ہے، بھارت ایک جمہوریت ہے اور فوجیوں کی تعداد کم کرنا تاکہ فوج جدید ساز و سامان خریدنے پر پیسہ لگا سکے، اتنا آسان نہیں ہے۔ بھارتی فوج عرصہ دراز سے ایسے ملک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرتی آئی ہے جہاں بیروزگاری ایک شدید مسئلہ ہے۔ یہ آئندہ منعقد ہونے والے عام انتخابات میں بڑا مسئلہ ہو گا۔

چین نے پہلے اپنی معیشت کو بہتر بنایا اور بعد میں فوج پر رقم خرچ کر کے اپنی موجودہ فوجی قوت حاصل کی

نریندر مودی نے 2014 کا انتخاب معاشی اصلاحات اور دس لاکھ نوکریاں ہر ماہ پیدا کرنے کے وعدوں پر جیتا تھا۔ لیکن چونکہ انتخابات سر پر ہیں اس لئے مودی نے معاشی اصلاحات کو پس پشت ڈال کر مقبول معاملوں پر بات شروع کر دی ہے۔ وزارت دفاع کے سابقہ مالیاتی ایڈوائزر امیت کوشیش کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی توجہ معاشی ترقی پر مرکوز ہے جسے فوجی طاقت سے بڑھنا ہے۔ چین نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ انہوں نے پہلے اپنی معیشت کو بہتر بنایا اور بعد میں فوج پر رقم خرچ کر کے اپنی موجودہ فوجی قوت حاصل کی۔ چین نے معیشت کو بہتر بنانے کا کام ہم سے بیس تیس برس قبل شروع کر دیا تھا۔ نئی دہلی میں موجود حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہیں، انہیں ناخواندگی اور کمزور نکاسی گند کے نظام کے مسائل کا سامنا ہے جسے وہ ابھی تک حل نہیں کر پائے۔ ایسی صورتحال میں ان کیلئے فوج کے لئے مزید رقم مختص کرنا ممکن نہیں ہے۔

مودی کو حال ہی میں اپوزیشن نے 36 رافیل طیاروں کی خرید کیلئے 8۔9 ارب ڈالر کی متنازع ڈیل کو لے کر خوب لتاڑا ہے

اب جبکہ دنیا میں لڑائیاں ماضی میں بڑی فوجوں کے استعمال کے برعکس جدید اسلحے کی مدد سے جیتی جاتی ہیں، بھارت اس معاملے میں پیچھے رہ گیا ہے۔ بھارت دنیا کا پانچوں بڑا فوج پر رقم خرچ کرنے والا ملک ہے لیکن اس کے باوجود اس کے بجٹ کا محض ایک چھوٹا سا حصہ اس برس نئے فوجی سامان کی خریداری پر صرف ہو گا۔ گو فوجی ساز و سامان کے خریدنے کا عمل زیادہ تر ممالک میں سست رفتار ہوتا ہے لیکن بھارت میں یہ عمل اور بھی سست ہے جس کی بڑی وجہ بیوروکریسی ہے۔ اسلحے کی فروخت میں کرپشن کے الزامات بھی موجود ہیں۔ مودی کو حال ہی میں اپوزیشن نے 36 رافیل طیاروں کی خرید کیلئے 8۔9 ارب ڈالر کی متنازع ڈیل کو لے کر خوب لتاڑا ہے۔ اس کے سیاسی مخالفین نے اس معاہدے کو کرپشن پر مبنی قرار دیا تاکہ اسے عام انتخابات میں نیچا دکھایا جا سکے۔

مودی کو رافیل طیاروں کی کمی پاکستان کے خلاف فضائی معرکے میں شدید طور پر محسوس ہوئی

رافیل طیاروں کی یہ خرید بھارت کو پرانے مگ طیاروں اور دیگر جہازوں سے پیچھا چھڑوانے میں مدد دے گی۔ مودی نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت گذشتہ ہفتے پاکستان کے ساتھ ہوئی فضائی جھڑپ میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا تھا اگر اس کے پاس رافیل طیارے موجود ہوتے۔ مودی کا کہنا تھا کہ بھارت کو رافیل طیاروں کی کمی پاکستان کے خلاف فضائی معرکے میں شدید طور پر محسوس ہوئی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *