Type to search

خواتین فيچرڈ

’’میرا گناہ یہ ہے کہ میں ایک لڑکی ہوں‘‘ بلوچستان میں خواتین کے حقوق کی فراہمی کا چیلنج

خدائے بزرگ و برتر قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ

"اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ داری کے تعلقات کو بگاڑنے سے بچو بے شک الله تم پر نگرانی کر رہا ہے"۔ سورۃ النساء (4:1)

مندرجہ بالا آیت واضح طور پر یہ بیان کرتی ہے کہ مرد اور عورت برابر ہیں اور ان میں سے کوئی بھی محض صنف کے اعتبار سے ایک دوسرے پر برتر یا افضل نہیں ہے۔ اسلام دونوں صنفوں کو کسی بھی ذات پات، برادری، روایات اور ثقافت کی تفریق کیے بنا برابر حقوق دیتا ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت میں کہا گیا ہے کہ

’’خواتین کے بھی مردوں پر حقوق واجب ہیں، جیسے عورتوں کے ذمے مردوں کے حقوق واجب ہیں‘‘۔

اسلامی تایخ میں کوئی بھی ایک ایسا بیان تک نہیں ڈھونڈا جا سکتا جس میں یہ کہا گیا ہو کہ مردوں کو دیے گئے حقوق میں سے کوئی ایک حق بھی ایسا ہے جو عورتوں کو نہ دیا گیا ہو۔ عزت صنف یا رنگ و نسل سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ انسان کا اچھا رویہ اور اس کے اعمال ہیں جو دنیاوی زندگی اور آخرت میں اس کے کام آتے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ اسلام نے خواتین کو ان کے حقوق عطا کیے ہیں، ابھی بھی اسلامی ممالک میں بسنے والی خواتین اپنے بنیادی حقوق کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی البتہ محض پاکستان یا اسلامی دنیا کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔

یو این ویمن جیسی کئی ممتاز تنظیمیں اپنی تمام تر توانائیاں ان خواتین کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے پر خرچ کر رہی ہیں جو ذہنی، سماجی، معاشی اور مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ تاریخ میں کئی بہادر خواتین گزری ہیں۔ مثال کے طور پر خولہ بنت الأزور، جو ایک بہادر جنگجو خاتون تھیں اور لڑائی اور تیر اندازی کے گروں کی ماہر تھیں۔ اپنی دلیری اور مہارت کی بدولت نہ صرف انہوں نے یرموک کی جنگ میں شرکت کی بلکہ اپنے بھائیوں کو بھی دشمنوں سے بچایا۔ خولہ کی مثال یہ بات عیاں کرتی ہے کہ خواتین کو اپنے حقوق کیلئے ہر حال میں لڑنا چاہیے اور یہ جدوجہد انہیں شکست کے خوف سے بالاتر ہو کر کرنی چاہیے۔ بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں ہمیں خولہ جیسی کئی عورتوں کی ضرورت ہے۔ ہماری بلوچ ماؤں اور بہنوں کی صلاحیتوں سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا، لیکن ایک ایسا صوبہ جہاں لڑکی کی زندگی ایک گھر کی چار دیواری میں مقید ہو اور ایسا معاشرہ جہاں آبائی اور سماجی رسومات اسے اس کی موت تک ان پڑھ رہنے پر مجبور کر دیں، وہاں خواتین کو ابھی بھی ان کے حقوق کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

لڑکی کو کم عمری میں سرپرستوں سے بیاہ دیا جاتا ہے۔ بلوچ معاشرے کیلئے یہ نئی بات نہیں ہے کیونکہ بیٹیوں کی ابتدائی عمر میں شادی کرنے کی رسم میں کمی کے ابھی کوئی آثار نمودار نہیں ہوئے ہیں۔ گو قانون ساز اداروں میں اس حوالے سے بہت سی قراردادیں اور قوانین منظور کیے گئے ہیں لیکن خواتین ابھی بھی اپنے گھروں میں ہی قیدی جیسی زندگی بتا رہی ہیں۔ اپنے بنیادی حقوق کے بغیر وہ اپنی موت تک مصائب کا شکار رہتی ہیں۔ صوبے میں لڑکیاں دو باتوں کے حوالے سے کڑے مصائب کا شکار ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ انہیں معیاری تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں دیا جاتا اور دوسری یہ کہ معاشرے کے صنفی تعصب نے ان کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ حال ہی میں، میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ "ایک لڑکی کو تعلیم دلوانے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟” اس نے جواب دیا کہ بہت سے خاندان اپنی بچیوں کو اس لئے تعلیم نہیں دلواتے کہ ان کے نزدیک شادی کے بعد لڑکیوں کو دلوائی گئی تعلیم ضائع ہو جاتی ہے جبکہ بہت سے خاندان بچیوں کو اس لئے تعلیم دلواتے ہیں کہ ان کی شادی کی مارکیٹ میں قدر و اہمیت بڑھ سکے۔ بنادی جو ایک تعلیم یافتہ بلوچ لڑکی ہے کہتی ہے کہ "ہمارے پڑوس میں کئی ایسی لڑکیاں موجود ہیں جنہیں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہیں دیکھ کر مجھے اکثر خیال آتا ہے کہ میں اپنی تعلیم کو اپنی برادری کی بہتری کیلئے استعمال کروں لیکن مجھے اب ایسا کرنے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی”۔

اس کا مزید کہنا تھا کہ ’’میرا گناہ یہ ہے کہ میں ایک لڑکی ہوں۔ اگر میں لڑکا ہوتی تو سب کچھ مختلف ہوتا۔ میں اپنی برادری کیلئے رول ماڈل بننا چاہتی ہوں۔ میں ایک استانی بننا چاہتی ہوں تاکہ بچیوں کی اگلی نسل کو بااختیار بنا سکوں۔ بدقسمتی سے میرے اس خواب کی تکمیل میں بے پناہ رکاوٹیں حائل ہیں‘‘۔

یہ بلاشبہ بلوچ معاشرے کے منہ پر ایک تھپڑ ہے جو عورتوں کو انسان تو کہتا ہے لیکن خدا کی جانب سے ان کو دیے گئے حقوق کی فراہمی سے انکار کرتا ہے۔ دنیا کے بہت سے حصوں میں خواتین کو ان کے حقوق مل رہے ہیں اور وہ وہاں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ دنیا میں کوئی بھی قوم عورتوں کو ان کے حقوق فراہم کیے بنا ترقی نہیں کر سکتی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *