Type to search

حقوقِ نسواں فيچرڈ

عورت مارچ نے ثابت کر دیا کہ مذہبی اور لبرل دونوں ہی انتہا پسند ہیں

ادارتی نوٹ: یہ تحریر اس نیت سے شائع کی جا رہی ہے کہ اختلافی آوازوں کو بھی فارم مہیا کیا جانا چاہیے۔ ادارے کا کسی بھی مصنف کی تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں لیکن اس تحریر میں درج شدہ خیالات سے خصوصی طور پر برأت کا اعلان کیا جاتا ہے۔

ﻣﺠﮭﮯ اب ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮑﮭﻨﮯ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﮮ
ﺗﺮﮮ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﺦ ﺑﺴﺘﮕﯽ ہے ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ہے

عورت کو ہمارے معاشرے میں ہمیشہ برتا گیا ہے۔ مذہبی لوگ ہوں، لبرل یا کوئی تیسرا طبقہ جو کسی حد تک مذہبی اور تھوڑا بہت لبرل ہو ہر کسی نے ممکنہ حد تک عورت کا استحصال کیا اور مضحکہ خیز بات یہ کہ ہر طبقے نے اپنے علاوہ باقی سب پر یہ الزام دھرا کہ وہ عورت کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں۔

مذہبی مذہب کے نام پر بےجا پابندیاں لگا کر اور کالے کفن میں لپیٹ کر عورت کا استحصال کرتا رہا اور لبرل آزادی کے نام پر کھلے بندوں اسے سڑکوں پر آنے  کے لئے اکسا کر یہی سب کر رہا ہے۔

کہیں عورت کو روایات سے بغاوت کے نام پر انتشار اور بدنظمی پھیلانے کے ٹول کے طور پر کام میں لایا جا رہا ہے اور کہیں اس کے خون سے مرد اپنی غیرت کی داستانیں رقم کر رہا ہے۔

مذہبی اور لبرل دونوں طبقے دو انتہاؤں پر کھڑے عورت کو بطور آلہ کار استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کھائی میں دھکیلنے کے لئے کوشاں ہیں۔

اعتدال کا راستہ کسی نے نہیں اپنایا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عورت نے خود کو ہمیشہ آسان ہدف بنائے رکھا۔

اس نے اپنے حقوق کو سمجھا نہ انہیں حاصل کرنے کے طریق پر توجہ دی۔

ہمارے یہاں کی عورت اپنی ہم جنس سے اس قدر متنفر ہے کہ کسی مرد سے اس کی بیوی کی برائیاں سن کر اس بیچارے کی ہمدردی میں مبتلا ہو جاتی ہے اور پھر یہ ہمدردی کئی روپ دھارتی ہے جن میں شاید ہی کوئی عورت کے لئے بھلا ثابت ہوا ہو۔

وہ اپنے بغض میں یہ نہیں سوچتی کہ جو اپنے رشتے میں بندھی عورت کا بھرم نہیں رکھ سکتا وہ کسی راہ چلتے تعلق کو کیا مان دے گا۔ عموماً عورت کو اپنی کسی خوبی یا برتری پر دوسری عورت کی تعریف سے زیادہ جلن خوش آتی ہے۔ اس حسد اور جلن کو عورت کی فطرت کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان وجوہات کا کھوج لگایا جائے جن کی بِنا پر عورت عورت سے اس قدر نالاں ہے۔

ابھی چند روز قبل دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔

ہر جگہ اس دن کی مناسبت سے طرح طرح کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا، بہت سارے مقاصد و مطالبات اور منشور  لے کر مارچ بھی کیے گئے۔

حقوقِ نسواں کے حق میں تقریریں ہوئیں، اجلاس اور سیمینار منعقد کیے گئے۔

اسی سلسلے میں وطنِ عزیز کے کئی شہروں میں بھی خواتین کے مارچ کا بہت چرچا سننے میں آیا۔

ہمیں بھی مارچ میں شمولیت کے لئے دعوت موصول ہوئی۔ بھلا ہوا کہ نہ گئے۔ بعد ازاں اس مارچ کی تفصیلی رپورٹنگ جو الیکٹرانک میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا پر سامنے آئی اس پہ شدت سے جی چاہا کہ یقین کر لیا جائے ہمارے ملک میں واقعی تبدیلی آ چکی ہے۔

اب تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس صورت حال پہ کئی سوال ذہن میں آتے ہیں کہ یہ بھی اسی تبدیلی کا تسلسل تو نہیں کہ جب اس صحیح معنوں میں “شوباز” مقتدر پارٹی نے سیاسی جلسوں کا چہرہ مسخ کر کے انہیں ایک نہایت عامیانہ سٹیج ڈرامے کی شکل دے ڈالی؟

کیا مارچ کے نام پر خواتین سے سڑکوں پر جو عجیب و غریب تماشا لگوایا گیا یہ بھی اسی زنجیر کی اگلی کڑی تھی؟

جیسے ان جلسوں کو دیکھتے ہی پہلا خیال یہ آتا تھا اور اس حوالے سے حقائق بھی سامنے آئے  کہ یہ پارٹی کارکنوں کے بھیس میں دہاڑی دار مزدور ہیں۔

اس مارچ سے یہ خیال مزید پختہ کیوں ہوا کہ یہ نظریاتی یا انقلابی لوگوں کی ریلی نہیں بلکہ منتشر اور پراگندہ اذہان رکھنے والے لوگوں کا گروہ ہے؟

چلیں اگر فرض کر لیا جائے کہ اس مارچ میں حکومت براہ راست ملوث نہ تھی اور نہ ہی اس شرپسندی کی کوشش کے پیچھے حکومت کے  پوشیدہ مقاصد کارفرما تھے بلکہ یہ کسی خاص گروہ یا این جی اوز وغیرہ کی کارستانی تھی جنہوں نے کسی خاص مقصد کے تحت یہ سب کیا تو بھی خواتین کے ہاتھوں میں وہ پلے کارڈز دیکھتے  ہوئے مارچ کو نہ روکنا کیا انتظامیہ کی کوتاہی نہیں ہے؟

ان سب سے بھی زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ اگر یہ عام پاکستانی خواتین کا اپنا فیصلہ تھا تو ایسی نوبت آخر آئی کیوں کہ ان عورتوں کو وہ بینر اٹھا کر سڑکوں پہ آنا پڑا جنہیں لے کر گھروں سے نکلتے ہوئے انہیں نتائج کا بخوبی اندازہ رہا ہو گا؟

ہمارے iہاں خواتین کو عموماً یہ شکایت رہتی ہے کہ انہیں ان کا اصل مقام نہیں دیا جاتا۔

انہیں وہ سہولیات، وہ مراعات حاصل نہیں جن کا وہ حق رکھتی ہیں۔

انہیں مردوں کی برابری کا اور ان کے شانہ بشانہ چلنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔

انہیں وہ عزت و تکریم حاصل نہیں جو ان کا حق بنتی ہے۔

انہیں یہ شکایت ہے کہ وہ اس ماحول میں کھلے عام کہیں گھوم پھر نہیں سکتیں، اکیلے کہیں آنا جانا ان کے لئے کارِ دشوار ہے۔

انہیں راستے میں، دفاتر میں، کارخانوں میں یہاں تک کہ گھر میں بھی ہر طرح سے ہراساں کیا جاتا ہے جس میں خصوصاً جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت سر فہرست ہے۔ مان لیا یہ سب درست ہے کہ مانے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں تو ٹھیک ہے فی زمانہ حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لئے احتجاج ریکارڈ کروائے جاتے ہیں، مارچ کیے جاتے ہیں جن میں پلے کارڈز وغیرہ کے ذریعے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ شرکائے مارچ کے کیا کیا حقوق ہیں جو ان کو نہیں دیے جا رہے۔ جنہیں حاصل کرنے کے لئے وہ یوں راستے پر آ کر احتجاج کرنے کے لئے یا مارچ کرنے کے لئے مجبور ہوئے۔

حقوقِ نسواں ایک انتہائی سنجیدہ موضوع ہے جس پر سنجیدگی سے بات کر کے ہی مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ہمارے تبدیل شدہ پاکستان میں جو مارچ ہوا اس کے مقاصد کیا تھے اور ان میں خواتین کے کیا مطالبات تھے جو وہ حکومت سے یا دیگر اداروں سے یا پھر معاشرے سے منوانا چاہتی تھیں یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔

بہت غور کرنے پر بھی اس تماشے کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ لوگوں کو چند دن کے لئے گفتگو کا ایک گرما گرم موضوع مل جائے اور اس مقصد میں کافی حد تک کامیابی بھی ہوئی۔ اس کے علاوہ  کچھ مقاصد تھے تو وہ تاحال سامنے نہیں آئے۔

ہمیں درحقیقت جس چیز کو سمجھنے اور قبول کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ خرابی ہمارے اپنے ہی گھروں سے شروع ہوتی ہے۔

اس حقیقت کو ماننا اس لئے ضروری ہے کہ مانے بغیر اصلاح کے عمل کا ہی آغاز نہیں ہو سکتا۔

مطلوبہ تبدیلی جس کی ہم خواہش رکھتے ہیں وہ کسی کل جیسے بے مقصد مارچ کے نتیجے میں واقع نہیں ہو گی بلکہ اس کے لئے تسلیم، صبر، حوصلے اور جرات سے کوشش شروع کرنی ہو گی۔

یہ عورت ہی ہے جو اپنے صحیح مقام کا تعین بھی کر سکتی ہے اور اس کے حصول کے لئے کوشش بھی۔

جب تک ہم اپنے گھروں سے ممکنہ حد تک جنسی تفریق اور امتیاز کا خاتمہ نہیں کریں گے، اور ایک خاص حد تک اس فطری تفریق کو تسلیم نہیں کریں گے تب تک بہتری کی امید رکھنا نادانی ہے۔

ہاں البتہ مذکورہ بالا صورتحال وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہنے کا قوی امکان ہے۔

اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا شعور اجاگر کرنا ہو گا اور جذباتی طور پر خود کو مستحکم کرنا ہو گا۔ تاکہ جب ہم اپنا حق حاصل کرنے کے لئے کھڑے ہوں تو ہمیں پتہ ہو کہ ہمارا حق ہے کیا؟ ہم جو مطالبہ کرنے جا رہے ہیں وہ کس قابلیت یا اہلیت کی بنیاد پر کر رہے ہیں؟ کیا ہم اس کے اہل ہیں جو چاہ رہے ہیں؟

فقط خواہش اور ضد کے تحت غیر دانشمندانہ طریق اختیار کر کے ہم کسی بھی پیمانے پہ اپنے مطالبات نہیں منوا سکتے۔ اور ہم حکومت کو، پچھلی  نسلوں کو یا خود اپنے ہی اسلاف کی سوچ اور تربیت کو بھی ایک حد سے زیادہ موردِ الزام ٹھہرا کر خود بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔

ایک وقت آتا ہے کہ ہم خود اتنے باشعور ہو چکے ہوتے ہیں کہ غلط اور صحیح میں فرق کر سکیں اور چاہیں تو تھوڑی سی کوشش اور توجہ سے غلط کو ترک کر کے صحیح کو اختیار کر لیں لیکن اس کے لئے عمل درکار ہو گا۔ صرف جذباتی ردِعمل سے شاید ہمیں وقتی توجہ تو حاصل ہو جائے اور دو چار دن کے لئے گفتگو کا موضوع بن کر تھوڑا سا ذہنی سکون حاصل کر لیں لیکن اگر دیرپا سکون اور آسودگی درکار ہے تو ہمیں الزام در الزام اور بے مہار احتجاج سے اوپر اٹھ کر سوچنا اور عمل کرنا ہو گا۔

ہمیں اپنے ساتھ ساتھ اپنی آنے والی نسلوں کا بھی سوچنا ہو گا کہ انہیں ہم سے جو ورثہ منتقل ہونا ہے اگر یہ ورثہ صرف وہی ہوا جو نسل در نسل سفر کر کے ہم تک پہنچا ہے تو بات نہیں بنے گی۔

ہمیں اس ورثے کا جائزہ لینا ہو گا۔ مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں سے اس کا موازنہ کرنا ہو گا۔

پھر اپنے ذہنوں کو تعصبات سے پاک کر کے اس ورثے کی تشکیلِ نو کرنی ہو گی۔

صرف ایک دن مزیدار جملوں بھرے پلے کارڈز سے سجا میلہ فقط کمینی سی وقتی لذت کے سوا کچھ نہ دے پائے گا۔ ان پلے کارڈز پہ لکھے جملے آپ کو جہاں سے سننے کو ملتے ہیں اور آپ کی قابلیتیں جہاں تسلیم نہیں کی جاتیں، درستی کا عمل وہیں سے شروع کرنا ہو گا اور وہ آپ کے اور ہمارے گھر ہیں، سڑکیں نہیں۔

آج کی عورت اگر اپنی نر اور مادہ اولاد کو برابر سمجھتے ہوئے بیٹے کو اس کے صحیح فرائض اور بیٹی کو اس کے صحیح حقوق سمجھنے میں معاونت کرے تو کل کسی کو حقوق و فرائض کی جنگ لڑنے سڑکوں پر نکلنا ہی نہیں پڑے گا۔

دیکھا جائے تو مسئلہ دراصل عورت اور مرد کا ہے ہی نہیں۔

مسئلہ عورت کی اپنی ہم جنس سے نفرت اور بیزاری کا ہے جس نے خصوصاً پاک و ہند کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

صرف مسلمان ہی نہیں دیگر مذاہب خاص طور پر ہندو عورت اس نفرت میں شدت سے مبتلا ہے۔

Tags:

You Might also Like

1 Comment

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *