ربوہ میں احمدیہ عبادت گاہ پر دہشت گرد حملہ، چھ افراد زخمی

جمعے کی نماز کے دوران ربوہ میں واقع عبادت گاہ پر ایک مسلح شخص نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں احمدیہ جماعت کے چھ افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔ حملہ آور کو موقع پر ہی رضاکاروں کی فائرنگ سے ہلاک کر دیا گیا۔

05:50 PM, 11 Oct, 2025

نیوز ڈیسک

ربوہ (چناب نگر) میں احمدیہ جماعت کی عبادت گاہ پر ہونے والے ایک دہشت گرد حملے میں جماعت کے چھ ارکان زخمی ہو گئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ جماعتی رہنماؤں نے اس حملے کو پاکستان میں احمدیوں کے خلاف جاری ’’نفرت انگیز مہم کا براہِ راست نتیجہ‘‘ قرار دیا ہے۔
حملہ آور کو احمدی رضاکاروں کی جوابی فائرنگ میں موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا، جو جمعے کی نماز کے موقع پر سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ دوپہر تقریباً 1 بج کر 22 منٹ پر پیش آیا، جو جماعت احمدیہ مسلمہ کی مرکزی عبادت گاہ ہے۔ حملہ آور پستول اور ایک بیگ لیے مرکزی دروازے کے قریب پہنچا اور وہاں موجود رضاکاروں پر فائرنگ کر دی، جو جمعے کی نماز کے دوران سیکیورٹی پر مامور تھے۔ اس وقت جائے وقوعہ پر دو پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔

جماعت احمدیہ نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں ان کے چھ افراد زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ حملہ آور جوابی فائرنگ میں مارا گیا، اس سے پہلے کہ وہ اندر داخل ہو پاتا، جہاں سینکڑوں نمازی عبادت میں مصروف تھے۔

پاکستان میں جماعت احمدیہ کے ترجمان، عامر محمود نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’دہشت گردی کا گھناونا عمل‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ ملک میں احمدیوں کے خلاف جاری نفرت انگیز مہم کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا، ’’یہ المناک واقعہ اُس مسلسل نفرت انگیز مہم کا براہِ راست نتیجہ ہے جو معصوم اور پُرامن احمدیوں کے خلاف چلائی جا رہی ہے۔ تحریری اور زبانی پروپیگنڈا، خطبات، پوسٹرز اور سوشل میڈیا پر موجود مواد نفرت اور تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔ اس مواد کے ذریعے احمدیوں کے معاشرتی و معاشی بائیکاٹ کی ترغیب دی جاتی ہے، ان کے عقائد کے بارے میں جھوٹے الزامات پھیلائے جاتے ہیں اور یہاں تک کہ انہیں قتل کرنے کے فتوے تک جاری کیے جاتے ہیں۔‘‘

عامر محمود نے مطالبہ کیا کہ حکام فوری طور پر ایسی نفرت انگیز مہمات کو روکا جائے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حملہ آور کے سہولت کاروں اور شدت پسند بنانے والوں کی مکمل تحقیقات کی جائیں، کیونکہ احمدی اب اپنے تاریخی اور روحانی مرکز ربوہ میں بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو:
’’امن اور انصاف کے قیام کے لیے احمدیہ جماعت کے خلاف جاری نفرت اور تشدد کی مہم کو فوراً ختم کیا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔‘‘

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں احمدیہ برادری کو کس قدر غیر محفوظ حالات کا سامنا ہے، جو طویل عرصے سے امتیازی سلوک، ظلم اور مذہبی انتہا پسندی کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔

مزیدخبریں