Type to search

خبریں سائنس صحت فيچرڈ

طبی تشخیص کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری نہیں رہا

فون بوتھ کی طرح کی مشین بیماری کی  تشخیص کرنے کے علاوہ دوا بھی دے گی

امریکہ میں ان دنوں ’’آن میڈ سٹیشن‘‘ کا چرچا ہے جو کسی ٹیلیفون بوتھ کی طرح دکھائی دیتا ہے، اس میں ڈاکٹروں سے رابطے کا نظام اور دوا دینے والا خودکار ڈسپنسر بھی موجود ہے۔

آن میڈ سٹیشن میں داخل ہوتے ہی مریض بڑی سکرین اور کیمرے کے سامنے بیٹھ جاتا ہے اور اس سے سینکڑوں میل دور بیٹھا ڈاکٹر اس کا معائنہ کرتا ہے اور اس سے اس کے مرض کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ سب کچھ کسی سائنس فکشن فلم کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

آن میڈ سٹیشن میں ایک سنسر بھی نصب ہے جسے استعمال کرتے ہوئے مریض اپنا قد، وزن، باڈی ماس انڈیکس، بلڈ پریشر، نظام تنفس، خون میں آکسیجن کی مقدار اور دیگر طبی علامات کا اندراج کرواتا ہے۔ یہ سنسر انفیکشن یا بخار وغیرہ کی جانچ کے لیے مریض کی تھرمل تصاویر بھی اتارتا ہے۔ ان تمام عوامل کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر کو بہتر فیصلہ کرنے میں آسانی رہتی ہے۔

باعث دلچسپ امر یہ ہے کہ آن میڈ سٹیشن میں سینکڑوں دوائیں بھی موجود ہیں جو کسی اے ٹی ایم مشین کی طرح مریض تک پہنچ جاتی ہیں۔ مطلوبہ دوا موجود نہ ہونے کی صورت میں مشین مریض کو پرچی پر دوا کا نام اور مقدار چھاپ کر فراہم کر دیتی ہے تاکہ مریض اسے کسی بھی میڈیکل سٹور سے خرید سکیں۔

مریضوں کی معلومات کو خفیہ رکھنے کے لیے خاص انتظام کیا گیا ہے۔ مریض کے بوتھ میں داخل ہوتے ہی اس کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور ڈاکٹر سے بات کرتے ہوئے اس کی آواز باہر سنائی نہیں دیتی۔

یہ آن میڈ سٹیشن فی الحال امریکہ کے مصروف مقامات جیسا کہ ہوائی اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں پر ہی استعمال کیا جا سکے گا اور جب اس جدید کلینک کی افادیت ثابت ہو جائے گی تو اسے دیگر مقامات پر نصب کر دیا جائے گا۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *