Type to search

خبریں دہشت گردی فيچرڈ معاشرت

نیوزی لینڈ کی کابینہ کا اسلحہ قوانین میں تبدیلی کا فیصلہ

نیوزی لینڈ کی کابینہ کے آج ہونے والے اجلاس میں اسلحہ رکھنے کے حوالے سے ملک میں رائج قانون میں تبدیلی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 50 نمازیوں کی شہادت کے بعد نیوزی لینڈ کی کابینہ نے اسلحہ رکھنے کے حوالے سے ملکی قوانین سخت کرنے کی منظوری دی ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کی کابینہ نے بندوق سے متعلق قوانین میں تبدیلی کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔

پولیس کے مطابق، حملہ آور نے فوجی طرز کا اسلحہ استعمال کیا جسے خاص طور پر بنایا ہی خطرناک حملوں کے لیے گیا ہے اور نیوزی لینڈ کے موجودہ قوانین کے تحت ایسے ہتھیار رکھنے پر کوئی پابندی عائد نہیں۔

واضح رہے کہ حملہ آور نے یہ ہتھیار کرائسٹ چرچ میں واقع اسلحے کی معروف دکان ’’گن سٹی‘‘ سے خریدے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ، دو مساجد میں فائرنگ کے الگ الگ واقعات، 49 افراد ہلاک

وزیراعظم نے یہ واضح نہیں کیا کہ قوانین میں کس نوعیت کی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں تاہم انہوں نے کہا، یہ بات 25 مارچ تک واضح ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا، جمہ کی دوپہر ایک بجے کے بعد ہماری دنیا بدل گئی تھی اور اب ہمارے قوانین بھی تبدیل ہو جائیں گے۔

جیسنڈا آرڈرن نے کہا، ان اصلاحات کا مطلب یہ ہو گا کہ اس بدترین سانحہ کے بعد دس دن کے اندر اندر ہی ہم اصلاحات کا اعلان کر دیں گے اور میں یہ یقین رکھتی ہوں کہ ان اصلاحات سے ہمارا معاشرہ محفوظ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: کیوی وزیراعظم کی سیاہ لباس اور دوپٹہ اوڑھ کر مسلمانوں سے تعزیت

اس پریس کانفرنس میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے اتحادی اور نائب وزیراعظم ونسٹن پیٹرز بھی ان کے ساتھ نظر آئے جو ماضی میں ان قوانین میں تبدیلی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے موجودہ قوانین کے تحت بندوق کے حصول کے لیے 16 برس کی قانونی عمر مقرر کی گئی ہے جب کہ نیم فوجی طرز کی خودکار بندوق رکھنے کے لیے 18 برس کی عمر کی حد متعین ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ کرائسٹ چرچ، شہید پاکستانیوں کی تعداد نو ہو گئی

نیوزی لینڈ کے موجودہ قوانین کے تحت اسلحہ رکھنے کے لیے ہر شہری کے پاس لائسنس ہونا چاہئے لیکن دلچسپ طور پر خریدے گئے اسلحہ کو رجسٹر کروانا ضروری نہیں اور نیوزی لینڈ دنیا کے ان معدودے چند ملکوں میں سے ایک ہے جہاں یہ قانون رائج ہے۔

یاد رہے، نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ کے روز دو مختلف مساجد میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 50 نمازی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھی تاہم فائرنگ کی آواز سن کر وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور ہوٹل واپس پہنچ گئے۔

سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہفتے کو ہونے والا تیسرا ٹیسٹ منسوخ کر دیا گیا تھا اور بعدازاں بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ نے نیوزی لینڈ کا دورہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *