Type to search

خبریں دہشت گردی فيچرڈ

ہالینڈ کے شہر یوتریخت میں مختلف مقامات پر فائرنگ، تین افراد ہلاک

ہالینڈ کے تاریخی اہمیت کے حامل اور چوتھے بڑے شہر یوتریخت میں ایک ٹرام پر فائرنگ میں تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق یوتریخت پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ فائرنگ کرنے والے مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قبل ازیں پولیس نے 37 سالہ ترک نژاد مشتبہ حملہ آور گوکمین تانِس کی تصویر جاری کی تھی اور عوام کو تنبیہ کی تھی کہ وہ ملزم سے دور رہیں۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی ’’اناطولو‘‘ نے ملزم کے عزیزوں کے حوالے سے کہا ہے، ’’ملزم نے خاندانی تنازع پر رشتہ داروں اور ان کی مدد کرنے والوں پر فائرنگ کی۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ، دو مساجد میں فائرنگ کے الگ الگ واقعات، 49 افراد ہلاک

یوتریخت کے میئر نے ٹویٹر پر ویڈیو بیان جاری کیا تھا کہ ہم اب تک تین ہلاکتوں کی تصدیق کر سکے ہیں جب کہ نو زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔ تاہم، بعدازاں مختلف ذرائع نے زخمیوں کی تعداد پانچ بتائی۔

واضح رہے کہ مسلح حملہ آور ٹرام میں سوار مسافروں پر فائرنگ کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی پولیس ہالینڈ کے سربراہ پیٹر جاپ آل برسبرگ کا کہنا تھا کہ ٹرام پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد  شہر کے مختلف علاقوں میں بھی فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔

پولیس نے حملہ آور کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا جو بالآخر کامیاب رہا ہے۔

انسداد دہشت گردی پولیس نے شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی تھی، اس کی وجہ اب یہ بیان کی گئی ہے کہ فائرنگ کے واقعات کسی ایک علاقے میں نہیں ہوئے تھے۔

ڈچ میڈیا کے مطابق، پولیس کو فائرنگ میں ہلاک ہونے والے تین میں سے ایک شخص کی لاش چادر میں لپٹی ہوئی ملی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، جائے وقعہ کے اطراف میں مساجد اور سکولوں کو بند کر دیا گیا تھا جب کہ حکام نے یوتریخت میڈیکل سینٹر کو ہدایت کی تھی کہ وہ ہنگامی مرکز کو مکمل طور پر فعال رکھیں اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی جائے۔

ڈچ وزیراعظم مارک روٹے کا کہنا تھآ کہ مقامی انتخابات سے چند روز قبل اس نوعیت کا حادثہ نہایت پریشان کن ہے۔

انہوں نے مشتبہ حملہ آور کی گرفتاری سے قبل کہا تھا، یوتریخت میں فائرنگ کے واقعہ میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں، ہم اسے دہشت گرد حملے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *