Type to search

سیاست فيچرڈ

کیا نیت کے بغیر شدت پسندوں کا خاتمہ ممکن ہے؟

بین الاقوامی دباؤ اور معروضی حالات کے پیش نظر پاکستان نے ایک بار پھر شدت پسند اور کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ شدت پسند کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن کا یہ سلسلہ کوئی پہلی بار نہیں کیا گیا۔ نائن ایلیون کے بعد، ممبئی حملوں کے بعد، کالعدم تنظیموں اور آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحے کے بعد شدت پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن کے اعلانات ہوئے تھے اور کارروائیاں بھی کی گئی تھیں لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات کے مترادف نکلا۔ نہ تو حافظ سعید کو اپنی تنظیم کو چلانے میں کسی قسم کی دقت پیش آئی اور نہ مولانا مسعود اظہر یا عصمت معاویہ کو کسی قسم کی دقّت کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ شدت پسند اور کالعدم تنظیمیں اب ویسے بھی معاشرے کے سماجی ڈھانچے اور ریاست کے مذہبی و دفاعی بیانئے میں اس حد تک رچ بس چکی ہیں کہ اب سماجی و ریاستی ڈھانچوں اور بیانییوں کو تبدیل کیے بنا ان شدت پسند جماعتوں سے پیچھا چھڑوانا ناممکن ہے۔

مسئلہ اب یہ ہے کہ محض مدارس کے ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی جامعات کے اساتذہ اور طلبہ بھی ان گلے سڑے بیانیوں پر یقین رکھتے ہیں جن کی بنیاد ضیاالحق کے دور میں رکھی گئی اور پھر اس کی آبیاری آج کے دن تک زور و شور سے کی جاتی رہی۔ جیش یا جماعت الدعوۃ نے ہمارے معاشرے کو طالبان کی نسبت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

طالبان نے ہمارے نہتے شہریوں کو بارود سے نشانہ بنایا جبکہ جیش اور لشکر طیبہ جیسی جماعتیں ہمارے سماج کے نظریاتی ڈھانچے کو کھوکھلا کرنے میں مصروف رہیں۔ چونکہ ان جماعتوں کا بیانیہ جہاد اور بھارت دشمنی پر مبنی تھا اس لئے نہ صرف انہیں مقتدر قوتوں کی سرپرستی حاصل رہی بلکہ عوام میں بھی یہ اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں کامیاب رہیں۔ ان جماعتوں کے خلاف آپریشن سوائے اپنی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ دنیا تو ایسے آپریشن پر یقین نہیں رکھتی اور اسے صاف دکھائی دیتا ہے کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر یا عصمت اللّٰہ معاویہ اور احسان اللّٰہ احسان جیسے کئی شدت پسند آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں ہیں بلکہ یا تو ہسپتالوں میں علاج کے بہانے موجود ہیں یا پھر اپنے اپنے گھروں میں نظر بندی کے نام پر حفاظتی حصار میں ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس ملک میں ایک وزیر اعظم کو پھانسی دی جا سکتی ہے دوسرے کو کال کوٹھڑی میں بند کیا جا سکتا ہے تو پھر حافظ سعید، مسعود اظہر یا احسان اللّٰہ احسان کو کال کوٹھڑی میں بند کرنا کیا مشکل ہے، ویسے بھی ریاست سے طاقتور کوئی اور نہیں ہوتا اور ہم نے اس کا عملی نمونہ دیکھ رکھا ہے کہ جب مقتدر قوتوں نے حقیقی معنوں میں ملک اسحاق جیسے شدت پسند کو ختم کرنا چاہا تو انہیں اسے مارنے میں محض چند گھنٹے لگے تھے۔

اس لئے یہ شدت پسند اور کالعدم تنظیموں کے محض دفاتر کو بند کرنا ان کے مدارس کو حکومتی تحویل میں لینا یا ان کی فلاحی تنظیموں کے معاملات اپنے قابو میں لینا ایک مخصوص حد تک کارروائی کر کے دنیا کے دباؤ کو کم کرنے سے زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔

یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب یہی بات نواز شریف نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں کی تھی اور اپنے گھر کو شدت پسندوں سے پاک کرنے کا بیان دیا تو اسے اور ڈان اخبار جس میں یہ بیان چھپا کو غدار کیوں قرار دیا گیا؟

کیا نواز شریف نے اس وقت درست نہیں کہا تھا اور کیا آج ہم خود زور و شور سے پوری دنیا کو یہ باور کروانے میں مشغول نہیں ہیں کہ ہم اپنا گھر درست کر رہے ہیں اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی بھی کر رہے ہیں؟

یعنی کیا ہم نے سو جوتے سو پیاز کھانے کے بعد یہ سمجھا کہ اس وقت “ڈان لیکس” دراصل ہمارے قومی مفاد میں تھیں اور اسے غداری کا مسئلہ قرار دینے والے ہمیشہ کی مانند ایک غلط انداز میں قومی بیانیوں کا رخ اسی جگہ مرکوز رکھنا چاہتے تھے جہاں یہ گذشتہ چار دہائیوں سے مرکوز ہے۔

اگر آج بھی مقتدر قوتیں محض بین الاقوامی دباؤ پر کالعدم اور شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر کے اپنے سٹریٹیجک اثاثے بچانا چاہتی ہیں تو پھر شاید اس ملک میں یہی سٹریٹیجک اثاثے ہی بچیں گے اور آنے والی کئی نسلیں شدت پسندی، نفرت اور جہادی بیانئے کی نذر ہو جائیں گی۔ حافظ سعید، مسعود اظہر، احسان اللّٰہ احسان، عصمت اللّٰہ معاویہ، مولانا فضل الرحمان خلیل اور ان جیسے کئی شدت پسندوں نے سوائے ہمارے سماج میں شدت پسندی پھیلانے اور دنیا بھر میں ہمارے چہرے پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کی کالک ملنے کے علاوہ اور کیا کارنامہ انجام دیا ہے؟

اگر مقتدر قوتوں کا خیال ہے کہ انہیں اور ان جیسے کئی دیگر افراد کو قومی دھارے میں واپس لانے سے شدت پسندی ختم ہو جائے گی تو یہ انتہائی نامناسب اور غلط خیال ہے۔ نہ تو ایسے افراد شدت پسندی اور مار دھاڑ کے سوا کچھ کر سکتے ہیں اور نہ ہی ڈبل کیبن جیپوں پر مسلح گارڈز کے ساتھ پھرتے ہوئے وسائل کے بے دریغ استعمال کی لت ایسے ختم ہو سکتی ہے۔

ان شدت پسندوں کے خلاف آپریشن سے پہلے ریاست کو خود یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا وہ واقعی میں معاشرے سے شدت پسندی کا خاتمہ چاہتی ہے؟ اور اگر واقعی میں شدت پسندی کا سد باب کرنا ہے تو بچوں کو نسیم حجازی کی تاریخ نصاب میں پڑھوانے کے بجائے مولانا روم کی مثنوی یا سٹیفن ہاکنگ اور آئن سٹائن کے خیالات اور نظریات کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟

ہمارا سب سے بڑا مسئلہ وہ بیانیہ ہے جو ہمیں ایک جدید فلاحی ریاست بنانے کے بجائے ایک دفاعی اور عرب ممالک کی پیروکار مذہبی ریاست بنانے کے گرد گھومتا ہے۔ یہ بیانیہ مقتدر قوتوں کیلئے بھی موزوں ہے اور عربوں اور ان کے سرپرست انکل سام کیلئے بھی کہ آخر انہیں مختلف خطوں میں پراکسی جنگیں لڑنی ہوتی ہیں اور جہادی اور کرائے پر لڑنے والوں کی ہمہ وقت ضرورت درپیش رہتی ہے لیکن اس بیانئے نے ہمارے سماج میں شدت پسندی، جہالت اور نفرتوں کے بیج بو کر اسے ایک ایسے اندھے سفر پر گامزن کر دیا ہے جس کی کوئی منزل نہیں اور جسے جہنم کی مانند انہی نفرتوں کے الاؤ میں سدا جلتے ہی جانا ہے۔

اس بیانئے کو جس سے شدت پسندی جنم لیتی ہے یا شدت پسند جماعتوں کو ختم کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن اس کیلئے نیت کا صاف ہونا لازمی ہے۔ ہم نے حال ہی میں دیکھا کہ کیسے ریاست نے چند گھنٹوں کے اندر تحریک لبیک کے وجود کو ہی سرے سے ختم کر ڈالا اور آج اس کی ساری قیادت پابند سلاسل ہے۔ اس لئے کالعدم جماعتوں یا شدت پسندوں کا صفایا بھی کوئی بڑی بات نہیں لیکن سماج کے اندر سے شدت پسندی اور جہادی بیانئے کو ختم موجودہ ریاستی دفاعی و مذہبی بیانئے کو تبدیل کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مقتدر قوتیں ایسا کرنے کو تیار ہیں؟

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *