Type to search

خبریں فيچرڈ

فرانسیسی حکومت کا پیلی جیکٹس مظاہرین کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا فیصلہ

فرانسیسی حکومت نے پیلی جیکٹس تنظیم کے مظاہروں کے دوران کشیدگی پر قابو پانے میں ناکامی پر پولیس سربراہ کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ ہفتہ کے روز پیلی جیکٹس تنظیم نے مظاہروں کے ذریعے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا تھا جب کہ پولیس یہ احتجاج روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی تھی۔

فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ فلپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے، ہفتے کے روز ہونے والا احتجاج اور بالخصوص چیمپ الیسز میں ہونے والے  مظاہرے کسی طور پر قابل قبول نہیں، صدر میکرون نے حکومت سے اس حوالے سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

انہوں نے مظاہرین کے ساتھ پیش آنے کی پولیس حکمت عملی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ پیرس پولیس کے سربراہ مائیکل پپوش کو برطرف کر دیا گیا ہے اور دو روز میں نیا پولیس سربراہ تعینات کر دیا جائے گا۔

فرانسیسی انتظامیہ کے مطابق، چیمپ الیسز اور ملک کے دیگر علاقوں میں مظاہرے کرنے پر پابندی عائد کرے گی، اور خلاف ورزی پر  جرمانہ 38 یورو فی کس سے بڑھآ کر 135 یورو فی کس کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس میں ییلو ویسٹ تحریک کے پرتشدد ہنگامے، بنک نذر آتش کر ڈالا

یاد رہے کہ دو روز قبل پیرس میں ہونے والے پرتشدد احتجاج میں مظاہرین نے دکانوں، کاروباری مراکز سمیت ایک بنک کو آگ لگا دی گئی تھی جس میں دو فائر فائٹرز سمیت 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔

ماہرین کے مطابق، پیلی جیکٹس کا حالیہ احتجاج دسمبر میں ہونے والے مظاہروں سے زیادہ بدترین تھا۔

فرانسیسی وزیر داخلہ کرسٹوفر کیسٹینر نے ایک ٹویٹ میں اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا، آگ لگانے والے صرف مظاہرین یا مشکلات کھڑی کرنے والے نہیں ہیں بلکہ وہ قاتل ہیں۔

دوسری جانب پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے احتجاج میں شریک 44 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ فرانس میں گزشتہ برس نومبر میں پٹرولیم مصنوعات مہنگا کرنے پر پیلی جیکٹس تحریک شروع ہوئی تھی جس کے تحت ملک بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تھا اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے مظاہرین کا ساتھ دیا تھا۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *