Type to search

طنز و مزاح عوام کی آواز فيچرڈ معاشرہ

خطیب حسین کا آخری خطبہ

میرے سارے ننھے منے پیارے پیارے اسلامی بہنو اور بھائیو! میرے بظاہر غیر اسلامی حلیے پر مت جائیو، میرے باطن کی گہرائی میں جھانک کر دیکھو جیسا کہ میرے مرشد، میرے قبلہ و آقا نے میرے اندر، خوب اندر تک جھانک کر دیکھا۔ انہیں ہر طرف ایمان ہی ایمان نظر آیا….. ہر سمت نور ہی نور….. خالص دودھ اور اسلامی شہد کی نہریں….. اصلی شراب طہورہ کی لہریں بحریں….. سبحان اللہ!

میرے آقا و قبلہ کا یہ مشاہدہ کوئی گھٹیا ڈاکٹری معائنہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کوئی فرسودہ نفسیاتی تجزیہ تھا بلکہ حضور نے نپاہت دلچسپی اور گہرائی سے تحقیق کی۔ انہوں نے نہایت دلجمعی سے اس موضوع پر توجہ دی۔ حضور اس نتیجے پر پہنچے….. حضور کس نتیجے پر پہنچے؟ حضور جس نتیجے پر بھی پہنچے، وہاں میں اس  کافر، نامراد اور نام نہاد استاد کو پہلے ہی پہنچا چکا ہوں، نعرہ تکبیر!

پیارے بھائیو، میرے فرنگی لباس سے صرف نظر کیجیو۔ ہاں بالکل، جس طرح انہوں نے کیا تھا، کیسے؟  نہیں، نہیں….. بس ویسے ہی۔ اوپر کا پیرا گراف بیشک دوبارہ، سہ بارہ پڑھ لیجئے، بس بس زیادہ چسکے مت لیجئے۔

پیاری بہنو، ایک نظر بس ایک نظر، میرے دل میں ضرور جھانک کر دیکھ  لینا۔ یاد رہے کہ تانک جھانک کوئی بہت اچھی چیز نہیں۔ البتہ گر یہ خالصتاً مذہبی حدود کے اندر رہ کر ہو تو کوئی مسئلہ نہیں۔ علاوہ ازیں، اگر ایسا واضح دینی مقاصد کے تحت رونما ہو تو اس کی  فضیلت الگ ہے۔ فضیلت سے یاد آیا، خیر چھوڑیے اسے، وہ تو لفٹ ہی نہیں کراتی۔

مائی ہاٹ برادرز ، تمہیں فوراً سے پہلے اندازہ ہو جانا چاہئے کہ میرا چہرا مہرہ غیرشرعی سہی، میرا استخوانی سینہ ایمانی ’’کینے‘‘ سے لبریز ہے۔ میری ٹھوڈی کے جنوب مشرق میں واقع داڑھی کی کوتاہ  قامتی  کا ازالہ، صادق ایجرٹن (کیسا بے غیرتوں، بے حیائوں، لا دینوں والا نام رکھ چھوڑا، لعنت بے شمار ان نوابوں پر)، حق و باطل کے اس فائنل میچ  میں میری دست درازی سے ہو جاتا ہے۔ اب تم کہو گے، سینے پر بھی ہوتی۔ کوئی پوچھے اگر ہوتی بھی تو تمہارے کس کام کی، شوہدو!

یہ بھی پڑھیں: ”الوداعی تقریب“ کی مذہب میں کوئی گنجائش نہیں، بہاولپور میں استاد کا بہیمانہ قتل

مائی لوولی سسٹرز، تم بھی جلد ہی جان جائو گی کہ اس کالی کالی جیکٹ کے پیچھے ایک درد بھرا سبز و سنہرا دل دھڑکتا ہے۔ دھک۔ دھک۔ دھک۔ دھک….. بے شک ایک بار پھر سن لو۔ کاش، تمہیں اس دل کی پکار پہلے نہیں، دوسرے نہیں، تیسرے سمسٹر تک ہی سُنائی دے گئی ہوتی تو آج ….. خیر، اب بھی کوئی بہت دیر نہیں ہُوئی، ابھی تو میں بمشکل غازی قرار پایا ہوں، وہ بھی تازہ تازہ، کوئی پکا پیڈا شہید تو نہیں بن گیا….. پلیز! پلیز!

مجھے پتہ ہے، مجھے خبر ہے، مجھے اندازہ ہے، میرے بارے میں تمہارے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا ہوں گے۔ یہ ذہن ہے ہی ایسی کتی چیز۔ اسے تو ہونا ہی نہیں چاہیے تھا سرے سے۔ یہ بالکل غیر ضروری ہے۔ نری فالتو شے، نہایت گندی چیز۔ اور تو اور۔ اور تو اور….. جسم سے بھی گندی۔ لیکن جسم کا کیا کیا جائے بھئی، جسم تو مجبوری ہے، جسم تو….. ماشااللہ!

شاید تم سوچو کہ میں نے پڑھنا ہی تھا تو انگریزی ہی کیوں پڑھ رہا تھا۔ یقین کیجیئو، میں ایسا اپنی خوشی سے نہیں کر رہا تھا۔ انتہائی سرسری سا دیکھا کرتا تھا گائیڈ کو….. اوپر اوپر سے۔ ہاں ناں، تمہاری طرح، یار! اس پر بھی کچھ نہ کچھ سمجھ آ ہی جاتا اور جتنا بھی سمجھ آتا، اس سے زیادہ غصہ آتا۔ کیا الم غلم بکواس بھری تھی ۔ شاعری، افسانے، ڈرامے، انشائیے، خدا کی مار۔ کیا ان نصابی کتابی کیڑے مکوڑوں نے قرآن و حدیث وغیرہ کچھ نہیں پڑھا؟ انہیں ستر دُرّے لگنے چاہئیں۔ کیا ان نامراد استادوں کو قراردادِ مقاصد کا کچھ پتا نہیں؟ انہیں سو کوڑے لگنے چاہئیں۔ ہر جمعہ کے جمہ…..انشااللہ!

یہ بھی پڑھیں: خطیب پیدا کیوں ہو رہے ہیں؟

کم آن ڈئیر فرینڈز! کیا قبر میں شیکسپئیر اور برنارڈ شا جیسے زانیوں شرابیوں کے بارے میں سوال ہو گا؟ کیا حشر میں ورڈزورتھ اور کالرج جیسے دیوانوں کی بابت دریافت کیا جائے گا؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ پھر کیا مقصد ان خرافات کا بھئی؟ فی لفظ کتنی نیکیاں مل جاتیں مسٹر چپس کو گڈ بائے کہنے سے؟ ایک سانیٹ کی تشریح، ایک شارٹ سٹوری کی تفہیم  پر کتنے نفلوں کا ثواب ہوتا؟ زیرو بٹا زیرو برابر زیرو! پھر کس کام کی یہ ساری بک بک، یہ ساری جھک جھک…..

مائی ڈئیرسٹ دوستو اور سہیلیو، ایسے ہی، بلکہ یہی، اور یہی نہیں اور بھی کئی سوالات میرے ذہن میں، میرے ناقص ذہن میں، میرے خالی ذہن میں جو کہ شیطان کا سوئمنگ پول ہے، اڑتے چلے آیا  کرتے تھے۔ بات ہی بات اور رات ہی رات میں طوفان بپا کرتے تھے، یہی کوئی دو چار ماہ پہلے تک ۔ پھر مجھے سارے جوابات مل گئے۔ ایک دم سے مل گئے، ایک نگاہ کرم سے مل گئے، ایک دم سے مل گئے….. ماشاء اللہ!

یہ اسی دم کا دم تھا کہ دم میں دم آ گیا۔ مجھ  ناتواں کو طاقت مل گئی, مجھ کزور کو ہمت مل گئی, مجھ  بزدل کو جرأت مل گئی۔ پھر کیا کہوں، کیسے کہوں، کیوں کہوں؟ میں نے اس ملعون، اس زندیق کے تنگ و تاریک دل و دماغ میں کیا دیکھا؟ چار سُو کفر کا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہی دیکھا۔ میں گھبرا گیا، ڈگمگا گیا۔ میں نے گھبرا کر، ڈگمگا کر ایک نظر اپنی آستین میں پوشیدہ خنجر کی طرف دوڑائی….. واللہ….. ید۔بیضا کی یاد تازہ پائی۔ جہاد کی چکا چوند روشنی سے میری آنکھیں عینک سمیت خیرہ ہو گئیں۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر…..

یہ بھی پڑھیں: خادم حسین کا خطیب حسین: کاش اس نفرت کو بھی پھیلانے والے کے ساتھ قید کیا جا سکتا

اب آگے آخرت میں کیا ہو گا۔ ستر حوریں گلے پڑیں گی یا بہتر….. یہ راز افشا کرنے میں کوئی ہرج نہیں کہ اِس واردات کے طوفانی لمحات مں بھی قربان جاواں، واری جاواں، صدقے جاواں اُس ذات کے کہ اس کتے،  ذلیل اور مرتد کے شیطانی بدن پر ہر ہر وار کے دوران مجھ عاجز، مجھ گناہگار بندے کو اور کچھ نہیں تو، اور کچھ نہیں تو، لطیف نورانی و شدید جسمانی ہیجان عطا ہوا۔ یہ سب تمہارا کرم ہے لالا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *